03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
سرکاری ملازمت میں بغیر ڈیوٹی کے تنخواہ وصول کرنے کا شرعی حکم
90262اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلکرایہ داری کے متفرق احکام

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

١۔ میرے والد صاحب دورانِ سرکاری ملازمت وفات پا گئے تھے۔ حکومتِ پاکستان کا قانون ہے کہ فوت ہونے والے ملازم کے کسی ایک حقیقی بچے کو نئے سرے سے ملازمت دی جائے۔ چنانچہ سائل نے 2014 میں محکمہ سکارپ (SCARP) میں ملازمت حاصل کی۔ محکمہ سکارپ سے مراد یہ ہے کہ حکومت نے زمینداروں کو کھیتوں کے لیے پانی فراہم کرنے کی خاطر ٹیوب ویل لگائے تھے۔ اس محکمے میں میری بھرتی ہوئی، جبکہ یہ محکمہ 1994 سے کام نہیں کر رہا تھا اور ہمارے سب ڈویژن کے تمام ٹیوب ویل بند پڑے تھے کیونکہ حکومت نے اس محکمے کو ختم کرنے کا ارادہ کر لیا تھا۔

جس ٹیوب ویل پر میری بھرتی کے احکامات ہوئے وہ بھی بند تھا اور اس کا سامان اپنی جگہ پر موجود تھا، جو میری تحویل میں دے دیا گیا۔ اور جب حکومت نے سامان کی نیلامی کی تو میں نے سامان حکومتی ٹھیکیدار کو جمع کرا کر رسید حاصل کر لی۔ یہ بات افسرانِ بالا کے علم میں بھی تھی کہ ملازم گھر بیٹھے تنخواہ وصول کر رہے ہیں۔ ملازمین کی تنخواہ جاری رہی کیونکہ محکمے نے ان کو فارغ نہیں کیا تھا۔ بلکہ جس افسر کے پاس ہماری حاضری تھی وہ ہر ماہ تنخواہ سے 500 روپے کاٹ لیتا تھا کہ ملازم فارغ گھر بیٹھے ہیں، ڈیوٹی تو کوئی خاص ہے نہیں۔ تمام درج بالا صورتِ حال کے مطابق جو میں نے (مذکورہ عرصے میں) تنخواہ وصول کی ہے، اس کا کیا حکم ہے؟

۲۔ پھر جب یہ محکمہ ختم ہوا تو حکومت نے ملازمین کو محکمہ انہار (آبپاشی) میں بھیج دیا۔ مجھے محکمہ انہار میں جو پوسٹ ملی وہ گیٹ کیپر کی تھی۔ کچھ عرصہ قبل نہر کے شروع میں گیٹ لگے ہوتے تھے تاکہ افسر وغیرہ نہر کی پٹڑی پر آئیں تو گیٹ کیپر گیٹ کھول دے وگرنہ بند رکھے۔ میرا تبادلہ جب اس پوسٹ پر ہوا تو وہاں ڈیوٹی اور کام وغیرہ نہیں تھا۔ لیکن متعلقہ افسر پھر اس ملازم کو متبادل کسی پوسٹ پر ڈیوٹی لگا دیتا تھا، جیسا کہ بیلدار وغیرہ (نہر کی دیکھ بھال کرنے کے لیے)۔

تو جس افسر کے پاس اس محکمہ نہر میں میری حاضری اور ڈیوٹی تھی، وہ ایک رشوت خور اور دھوکے باز شخص تھا۔ اس نے مجھ سے کہا کہ آپ دو ہزار روپے ماہانہ مجھے دے دیا کریں اور اس کے بدلےڈیوٹی پر نہ آیا کریں۔ میں نے اس وقت تو کہا چلو ٹھیک ہے، لیکن میں ہر وقت بدستور پریشان رہتا کہ یہ کام غلط ہے کہ ڈیوٹی پر نہیں جاتا اور دو ہزار روپے ماہانہ دیتا ہوں۔

اسی پریشانی کی حالت میں، میں بڑے افسر (SDO صاحب) کے پیش ہوا کہ جس بندے کے پاس میری حاضری اور ڈیوٹی ہے وہ  مجھ سے دو ہزار روپے ماہانہ وصول کرتا ہےاورکہتاہے کہ اس کے بدلے بھلےآپ ڈیوٹی پر نہ آیاکریں،آپ کی حاضری لگتی رہے گی۔اگرمیں اس کو دوہزاردیتااورڈیوٹی پرآتاتوپھروہ منع نہ کرتا ،کیونکہ اس کامقصددو ہزاررپے تھا، SDO صاحب نے میرا تبادلہ ایسے دفتر میں کر دیا کہ آپ یہاں حاضری دیا کریں۔ چنانچہ میں SDO کے دفتر میں روزانہ حاضری دینے لگا اور پہلے افسر کا ماہانہ دو ہزار روپے بند کر دیا۔ تقریباً ابھی ایک ماہ گزرا ہو گا کہ SDO صاحب کا تبادلہ کہیں اور ہو گیا، اور اس کی جگہ جو نیا SDO آیا تو میرا جو سابقہ فیلڈ والا افسر تھا، اس نے نئے SDO سے ملاقات کر کے میرا تبادلہ واپس اپنے ہاں کروا لیا۔اور مجھ پر دباؤ ڈالا کہ مجھے ماہانہ دو ہزار روپے دیتے رہو اوراس کے بدلےبھلے ڈیوٹی پر نہ آیاکرو،اگردوہزارنہ دوں گےمیں تمہاری نوکری ختم کروا دوں گا۔ میں بڑا پریشان ہوا کہ کہیں ملازمت سے ہی ہاتھ نہ دھو بیٹھوں۔ میں پھر گھر بیٹھ گیا اور اس کو ماہانہ دو ہزار روپے دینا شروع کر دیے۔ ساتھ ساتھ ذہنی طور پر بڑا پریشان بھی رہتا کہ کس طرح اس رشوت خور سے جان چھوٹے کیونکہ اس کی بڑے بڑے افسروں تک رسائی تھی۔ بہرحال، پھر مجھے ساتھیوں نے بتایا کہ اس نے محکمے سے ریٹائر ہو جانا ہے، پھر آپ کی جان چھوٹ جائے گی۔ چنانچہ جنوری میں وہ ریٹائر ہو گیا۔ تو پھر میں نے جنوری سے باقاعدہ حاضری دے کر اپنی ڈیوٹی (یعنی نہر کی دیکھ بھال کہ کوئی پانی چوری نہ کرے وغیرہ) شروع کر دی۔تو اب سوال یہ ہے کہ اس تفصیل کے مطابق جو میں نے اس عرصے میں تنخواہ وصول کی ہے، اس کا کیا حکم ہے؟اگر بالفرض یہ تنخواہ میرے لیے جائز نہیں تھی تو تلافی کی بھی کوئی صورت بتا دیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

۱۔ شرعی اعتبار سے ملازمت ایک عقدِ اجارہ ہے جس میں ملازم اپنے وقت اور خدمات کو محکمے کے سپرد کرتا ہے، لہٰذا اگر ملازم اپنی ڈیوٹی کے لیے حاضر ہو اور اپنے آپ کو کام کے لیے پیش کر دے لیکن محکمہ اسے کوئی کام نہ دے یا محکمے کا نظام بند پڑا ہو، تو اس میں ملازم کا کوئی شرعی قصور نہیں۔ اس لیے محکمہ سکارپ کے دوران جب آپ کی بھرتی ہوئی، آپ نے سامان اپنی تحویل میں لیا اور ڈیوٹی کے لیے ہمہ وقت تیار رہے تو اس عرصے کی تنخواہ آپ کے لیے بالکل حلال اور جائز ہے، اور جس افسر نے آپ کی حاضری لگانے کے عوض ہر ماہ 500 روپے کاٹے وہ اس کا صریح ظلم اور رشوت خوری تھی جس کا گناہ اسی پر ہے اور اس کی وجہ سے آپ کی تنخواہ پر کوئی شرعی قباحت نہیں آتی۔

۲۔ شریعت کا مسلمہ اصول ہے کہ تنخواہ کام اور وقت کا معاوضہ ہوتی ہے، اس لیے جب آپ کا تبادلہ محکمہ انہار میں ہوا تو آپ پر لازم تھا کہ اپنی مقررہ ڈیوٹی سرانجام دیتے؛ اور اگر متعلقہ افسر آپ کو ماہانہ دو ہزار روپے دینے پر مجبور کر رہا تھا، اور اس کے بغیر ڈیوٹی نہیں کرنے دے رہا تھا، تو آپ کے پاس یہ آپشن تھا کہ آپ اپنے حق کی وصولی کے لیے یہ رقم اس کو دیتے (جو کہ آپ دیتے رہے ہیں) پھر اپنی ڈیوٹی پر جاتے، اب وہ آپ کو منع نہ کرتا جیسے آپ نے لکھا، کیونکہ اس کا مقصد تو پیسہ تھا، نہ کہ ڈیوٹی سے منع کرنا۔ نیز حکامِ بالا کو شکایت کرنا، قانونی راستہ اختیار کرنا، ملازمت سے استعفیٰ دینا جیسے آپشن بھی آپ کے پاس تھے۔ ان آپشنوں کے ہوتے ہوئے گھر بیٹھنا اور تنخواہ وصول کرنا شرعاً آپ کے لیے جائز نہیں تھا۔ لہٰذا جس عرصے میں آپ نے افسر سے انڈرسٹینڈنگ کر کے، اس کو پیسے دے کر، گھر بیٹھے (بغیر ڈیوٹی کے) تنخواہ وصول کی ہے، وہ تنخواہ آپ کے لیے جائز نہیں تھی۔

اس ناجائز عمل کی تلافی کے لیے سب سے پہلے تو اللہ تعالیٰ کے حضور سچے دل سے توبہ کریں اور چونکہ آپ نے گھر بیٹھ کر سرکاری خزانے کی رقم وصول کی، اس لیے محتاط اندازہ لگا کر اتنی رقم واپس حکومت کو ہی لوٹائیں تاکہ رقم سرکاری خزانے تک پہنچ جائے؛ اور اگر یہ ممکن نہ ہو تو از خود ،فقراءومساکین پریاکسی عوامی رفاہی کام میں خرچ کر دیں، تاکہ آپ کے ذمے سے یہ بوجھ اتر جائے۔ البتہ جنوری سے جب آپ نے باقاعدہ حاضری دے کر ڈیوٹی شروع کر دی ہے تو اب آپ کی موجودہ اور آئندہ کی تنخواہ بالکل حلال ہے۔

حوالہ جات

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (4/ 175):

وقد يقام فيه تسليم النفس مقام الاستيفاء كما في أجير الواحد حتى لو سلم نفسه في المدة ولم يعمل يستحق الأجر.

درر الحكام شرح غرر الأحكام (2/ 236):

‌الأجير (الخاص) ويسمى أجير واحد أيضا (هو من يعمل لواحد عملا مؤقتا بالتخصيص) وفوائد القيود عرفت مما سبق (ويستحق الأجر بتسليم نفسه مدته، وإن لم يعمل كأجير شخص لخدمته أو رعي غنمه).

النهاية في شرح الهداية - السغناقي» (23/ 118 بترقيم الشاملة آليا):

إن ‌ثمن ‌الخمر ‌حرام كله فكذلك كسب المغنية،حتى قال بعض مشائخنا: كسب المغنية كالمغصوب لا يحل أخذه.

وعلى هذا قالوا: لو مات رجل وكسبه من بيع الباذق أو الظلم أو أخذ الرشوة إن تورع الورثة عن ذلك فهو أولى، ويردون على أربابها إن عرفوهم، وإن لم يعرفوهم تصدقوا بها؛ لأن سبيل الكسب الخبيث التصدق إذا تعذر الرد.

النتف في الفتاوي للسغدي: (558/2، ط: دار الفرقان)

الاجارة لاتخلو من وجهين؛ اما ان تقع على وقت معلوم او على عمل معلوم، فان وقعت على عمل معلوم فلا تجب الاجرة الا باتمام العمل اذا كان العمل مما لا يصلح اوله إلا بآخره وان كان يصلح اوله دون آخره فتجب الاجرة بمقدار ما عمل، واذا وقعت على وقت معلوم فتجب الاجرة بمضي الوقت ان هو استعمله او لم يستعمله وبمقدار ما مضى من الوقت تجب الاجرة.

الموسوعة الفقهية الكويتية (22/ 222):

يجوز للإنسان - عند الجمهور - أن يدفع رشوة للحصول على حق، أو لدفع ظلم أو ضرر، ويكون الإثم على

المرتشي دون الراشي.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 362)

الثالث: أخذ المال ليسوي أمره عند السلطان دفعا للضرر أو جلبا للنفع وهو حرام على الآخذ فقط............ الرابع: ما يدفع لدفع الخوف من المدفوع إليه على نفسه أو ماله حلال للدافع حرام على الآخذ؛ لأن دفع الضرر عن المسلم واجب.

وفيه أيضا (5/ 72)

لو اضطر إلى دفع مرشوة لإحياء حقه جاز له الدفع وحرم على القابض.

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

   17/11/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب