03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
گولڈ بی ایس ٹریڈنگ پلیٹ فارم میں سرمایہ کاری کرنے کاحکم
90291خرید و فروخت کے احکامبیع صرف سونے چاندی اور کرنسی نوٹوں کی خریدوفروخت کا بیان

سوال

گولڈ بی ایس (.Gold B.S) ایک ٹریڈنگ پلیٹ فارم ہے جو کہ رجسٹرڈ ہے اور اس میں تقریباً 2 لاکھ افراد اپنی سرمایہ کاری (Investment) کے ذریعے اپنے وکیل (تھامس لمیٹڈ کمپنی) سے سونے کی ٹریڈنگ کرواتے ہیں۔ تھامس لمیٹڈ اس ٹریڈنگ پلیٹ فارم کا سی ای او (.C.E.O)ہے، جو ہمارا سونا خریدنے اور بیچنے میں ہماری مدد کرتا ہے۔ سونا ہمارے قبضے میں نہیں آتا بلکہ ہم رقم کی سرمایہ کاری کرتے ہیں اور وکیل (تھامس) کے ذریعے آن لائن سونا خریدتے اور بیچتے ہیں۔ ڈیجیٹل سگنل کے ذریعے ہم تھامس (وکیل) کو پیغام بھیجتے ہیں کہ وہ ہماری سرمایہ کاری سے رقم لے کر سونا خریدے اور آگے فروخت کر دے۔ یہ تمام خرید و فروخت ہماری زیرِ نگرانی ہوتی ہے اور ٹھیک دو تین گھنٹے بعد جتنا منافع ہوتا ہے، وہ ہمارے اکاؤنٹ میں منتقل (Return) ہو جاتا ہے۔ مزید یہ کہ پہلے ہمیں سی ای او (تھامس) کی جانب سے ٹریڈنگ سگنل موصول ہوتا ہے؛ اگر ہم وہ ٹریڈنگ سگنل بروقت استعمال نہ کریں، تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ہم نے اپنی سرمایہ کاری (انویسٹ) سے اسے ادائیگی (پیمنٹ) نہیں بھیجی، جس کی وجہ سے نہ سونا خریدا گیا اور نہ بیچا گیا۔اگر ہم ایک دو ماہ تک سگنل پر عمل نہ کریں اور اسے رقم فراہم نہ کریں، (انویسٹ تو ہے لیکن اس کو نہیں دیا) تو ہماری سرمایہ کاری موجود رہنے کے باوجود ہمیں ایک روپے کی بھی آمدنی و ارننگ حاصل نہیں ہوگی اور اکاؤنٹ میں موجود انویسٹ رقم ویسی کی ویسی ہی رہے گی، اس میں ایک روپے کا بھی اضافہ نہیں ہوگا۔ اس ٹریڈنگ سے جو نفع حاصل ہوتا ہے اس کا 10 فیصد بطور کمیشن "گولڈ بی ایس" کو ملتا ہے، جبکہ بقیہ منافع سرمایہ کار (ہمارے) اور تھامس لمیٹڈ کمپنی کے درمیان تناسب سے تقسیم ہوتا ہے اور نقصان بھی اسی تناسب سے ہوتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا ٹریڈنگ کا مذکورہ طریقہ شرعا جائز ہے؟ اس میں انویسٹ کرنے اور منافع حاصل کرنے کا کیا حکم ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

   واضح رہےکہ سونے کی خرید وفروخت کے لیے شرعا مندرجہ ذیل شرائط کا لحاظ رکھنا ضروری  ہوتا ہے:

  1. بیچنے والا اس سونے کا مالک یا وکیل ہو۔
  2. سونے پرفوری قبضہ ہو۔
  3. خریدنے والا اس سونے کو تب آگے بیچے گا جب اس نےسونے پر خود یا اپنے وکیل کے ذریعے سے قبضہ کیا ہو۔
  4. اس لین دین میں حقیقی سوداہوتا ہو،نہ یہ کہ صرف قیمت کے اتار چڑھاؤ سے نفع کمانا مقصد ہو۔
  5. یہ سودا حقیقی طور پر ہوتا ہو،صرف اکاؤنٹ میں ظاہر ہو نا کافی نہیں ہے۔
  6. فوری سودا ہو،مستقبل کی طرف منسوب سودا(future sale) نہ ہو۔
  7. ادائیگی اور ڈیلیوری میں تاخیر کی وجہ سے اس میں سود شامل نہ ہو۔

گزشتہ کچھ عرصے سے آن لائن ارننگ کے نام پر مختلف ایپلیکیشنز، سوشل میڈیا پیجز اور ویب سائٹس مسلسل نئے نئے ناموں کے ساتھ سامنے آتی رہی ہیں۔ ان تمام پلیٹ فارمز کا طریقۂ کار عموماً ایک جیسا ہوتا ہے، یعنی لوگوں سے سرمایہ کاری (Investment) لینا اور اس پر غیر معمولی نفع دینے کا وعدہ کرنا۔بعض پلیٹ فارمز ڈیجیٹل ایسٹس کے نام پر کام کرتے ہیں، بعض روایتی کرنسیوں کے عنوان سے،بعض گولڈ وغیرہ کے عنوان سے جبکہ بعض دیگر مختلف تجارتی یا تکنیکی اصطلاحات استعمال کرتے ہیں۔ لیکن اب تک سامنے آنے والی اس نوعیت کی تقریباً تمام اسکیمیں دھوکہ دہی، غلط بیانی، غیر شفافیت یا کسی نہ کسی شرعی خرابی پر مشتمل پائی گئی ہیں۔

اس لیے ذیل میں کچھ اصولی باتیں ذکر کی جاتی ہیں ،ان کے مطابق اس طرح کی ایپلیکیشنز،پیجز اور ویب سائٹس وغیرہ سے متعلق عمل کیا جائے؛

کمپنی کی قانونی حیثیت اور تعارف

سب سے پہلے یہ تحقیق کی جائے کہ سرمایہ کاری لینے والی کمپنی:

  • کن افراد یا ادارے کی ملکیت ہے؟اس کے مالکان اور انتظامیہ کون ہیں؟
  • کس ملک میں قائم ہے؟کیا وہ اپنے ملک کے کسی معتبر اور مجاز قانونی ادارے میں باقاعدہ رجسٹرڈ ہے یا نہیں؟

اگر کمپنی رجسٹرڈ ہونے کا دعویٰ کرتی ہو تو:

  • رجسٹریشن سرٹیفیکیٹ کی اصل اور جعلی ہونے کے اعتبار سے مکمل جانچ پڑتال کی جائے۔
  • یہ معلوم کیا جائے کہ یہ سرٹیفیکیٹ کن بنیادوں پر جاری کیا گیا ہے۔
  • کیا  یہ رجسٹریشن،سرمایہ کاری لینے کے لیے کافی ہے یا مزید قانونی اجازت درکار ہوتی ہے؟
  • اس رجسٹریشن کی بنیاد پر کمپنی کو کن کاموں کی قانونی اجازت حاصل ہے، اور آیا وہ عوام سے سرمایہ کاری لینے کی مجاز ہے یا نہیں؟

کمپنی کے کاروبار کی حقیقت

اس کے بعد یہ معلوم کرنا ضروری ہے کہ:

  • کمپنی حقیقتاً کون سا کاروبار کر رہی ہے؟
  • کس ذریعے سے وہ سرمایہ کاری سے نفع کماتی ہے؟
  • اس کاروبار کی تفصیلی نوعیت، طریقۂ کار اور حقیقت کیا ہے؟
  • ان تمام پہلوؤں کی تحقیق کے بعد اس کاروبار کا شرعی حکم معلوم کیا جائے۔

سرمایہ کاری اور منافع کا طریقۂ کار

تیسرے مرحلے میں یہ دیکھا جائے کہ:

  • کمپنی سرمایہ کاری کس بنیاد پر لیتی ہے؟
  • نفع کس شرح اور کس طریقے سے دیتی ہے؟
  • نفع و نقصان  کی شرائط و تفصیلات کیا ہیں؟

شرعی نگرانی اور عملی نظام

بالفرض اگر اوپر کی تینوں چیزیں بظاہر قابلِ اطمینان ہوں، تب بھی یہ تحقیق ضروری ہے کہ:

  • کمپنی کے تمام آپریشنز عملی طور پر شریعت کے مطابق انجام دیے جا رہے ہیں یا نہیں؟
  • کیا کوئی معتبر اور خود مختار شرعی نگرانی کا نظام موجود ہے؟
  • کیا کوئی ایسی باڈی یا ادارہ ہے جو کمپنی کے مالی و تجارتی معاملات کی مسلسل جانچ اور نگرانی کرتا ہو؟یا کسی مستند دارالافتاء سے انہوں نے اپنے عملی کام سے متعلق فتوی حاصل کیا ہو؟

پونزی اسکیمز (Scams) کی پہچان کے عمومی اصول

موجودہ دور میں ماہرینِ معیشت پونزی اسکیمز اور مالی دھوکہ دہی کو پہچاننے کے جو اصول بتاتے ہیں، وہ معمولی فرق کے ساتھ وہی ہیں جو اوپر بیان کیے گئے ہیں۔ ان میں خاص طور پر درج ذیل نکات شامل ہیں:

  1. یہ دیکھا جائے کہ کمپنی واقعی کوئی حقیقی پروڈکٹ یا سروس فراہم کر رہی ہے، یا صرف نئے ممبرز بنانے پر انحصار کر رہی ہے کیونکہ محض ممبرشپ پر مبنی نظام اکثر پونزی اسکیم ہوتا ہے۔
  2. کمپنی کی شفافیت دیکھی جائے، کیا مالکان، انتظامیہ، مالی ڈھانچہ اور آپریشنز مکمل طور پر واضح اور قابلِ اعتماد ہیں یا نہیں؟
  3. مختلف آزاد اور غیر جانبدار ذرائع سے کمپنی کے بارے میں تحقیق کی جائے، جیسے آڈٹ رپورٹس، میڈیا رپورٹس، متعلقہ حکومتی ادارے اور صارفین کےفیڈبیکس۔
  4. کمپنی کی ریگولیٹری کمپلائنس (Regulatory Compliance) کا جائزہ لیا جائے۔
  5. یہ پرکھا جائے کہ آیا کمپنی مارکیٹ کے عمومی اصولوں کے خلاف غیر معمولی منافع کا وعدہ تو نہیں کر رہی کیونکہ ایسا وعدہ عموماً پونزی اسکیم کی علامت ہوتا ہے۔

درج بالا تمام اصولوں کو سامنے رکھتے ہوئے، مذکورہ کمپنی یا ایپ یعنی گولڈ بی ایس (Gold BS) کے ذریعے سرمایہ کاری سے اجتناب بھی  ضروری معلوم ہوتا ہے، کیونکہ سائل کے بقول اس میں بھی سونے پر عملا قبضہ نہیں ہوتا اور یہ بھی یقینی نہیں کہ واقعۃ سونا خریدا بھی جاتا ہے یا نہیں ،نیز اگر یہ وکالت استثمار اور اجارہ کا معاملہ ہےجس میں وکیل استثمار اپنی اجرت کیش کی صورت میں لیتا ہے تو پھر اس کو دس فیصد نقصان کا ذمہ دار قرار دینا بھی غیر شرعی شرط ہے ۔

البتہ اگرمذکورہ ایپ کے بارے میں مکمل، مستند اور قابلِ تصدیق تفصیلات میسر ہوں، اور وہ  بیان کردہ صورتِ حال سے مختلف ہوں، تو یہ تفصیلات  لکھ کردارالافتاء سے دوبارہ شرعی حکم معلوم کر لیا جائے۔

ماخوذ از تبویب بتصرف (89759)

حوالہ جات

صدام حسین 

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی 

۱۷/ذی القعدہ /۱۴۴۷ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

صدام حسین بن ہدایت شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب