03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
"آپ یا مجھے طلاق دیں یا چھوڑ دیں "کے جواب میں شوہر کا کہنا” ٹھیک ہے چھوڑدیا "
90562طلاق کے احکامطلاق کے متفرق مسائل

سوال

ایک مرتبہ میری اور میری بیوی کی لڑائی ہوگئی ،جس میں وہ بحث کے بعد میرے کمرے سے چلی گئی ۔کچھ دیر بعد واپس آئی اور کہنے لگی کہ: " آپ یا مجھے طلاق دیں یا چھوڑ دیں " ۔اور ایسا اس نے دو تین مرتبہ کہا ۔جس پر میں کچھ دیر ٹھہرااور سوچا کہ میں نے اسے طلاق تو نہیں دینی ،تو جو دوسرا لفظ  استعمال کر رہی ہے وہ بول دیتا ہوں ،تاکہ یہ وقتی طور پر میری جان چھوڑ دے اور یہاں سے چلی جائے ۔تو میں نے بولا:" ٹھیک ہے چھوڑ دیا" ۔ جب کہ نیت ہرگز طلاق کی نہ تھی تو کیا اس سے طلاق ہو جائے گی ؟  

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

جب بیوی کی طرف نسبت کرکے " چھوڑدیا  " کا لفظ بولا جائےتو  ہمارے عرف میں وہ طلاق کے  صریح الفاظ  ہونے کی وجہ سے طلاق رجعی کا موجب ہے ۔   البتہ اگر ایسےقرائن لفظیہ موجود ہوں ،جن سے پتا چلے کہ شوہر یہ لفظ بول کر طلاق نہیں دینا چاہتا  ،تو اس صورت میں  طلاق واقع نہیں ہوتی ۔ سوال میں  بیوی     کے الفاظ "آپ یا مجھے طلاق دیں یا چھوڑ دیں "   کے جواب میں شوہرکا"ٹھیک ہے  چھوڑدیا "کہنا     طلاق  نہ دینے کے مترادف ہے۔کیونکہ یہ الفاظ"طلاق دیں" کے مقابلے میں استعمال ہورہے ہیں  ۔ لہذا اس صورت میں کوئی طلاق واقع نہیں ہو ئی۔

حوالہ جات

حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي (3/ 299):

ثم فرق بينه وبين سرحتك فإن سرحتك كناية لكنه في عرف الفرس غلب استعماله في الصريح فإذا قال " رهاكردم " أي سرحتك يقع به الرجعي مع أن أصله كناية أيضا، وما ذاك إلا لأنه غلب في عرف الفرس استعماله في الطلاق وقد مر أن الصريح ما لم يستعمل إلا في الطلاق من أي لغة كانت، لكن لما غلب استعمال حلال الله في البائن عند العرب والفرس وقع به البائن ولولا ذلك لوقع به الرجعي.

المحيط البرهاني (3/ 236):

ولو قال: أنا بريء من نكاحك يقع الطلاق لأن البراءة عن الشيء إعراض عنه والإعراض عن الطلاق لا يكون طلاقاً، فأما الإعراض عن النكاح فطلاق وفي (مجموع النوازل) : امرأة قالت لزوجها: أنا بريء منك فقال الزوج: أنا بريء منك أيضاً، فقال: أنظر ماذا يقول، فقال الزوج: ما نويت الطلاق، قال: لا يقع الطلاق لعدم النيّة.

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (3/ 108):

«ولو قال: تركت طلاقك أو خليت سبيل طلاقك، وهو يريد الطلاق وقع؛ لأن ترك الطلاق وتخلية سبيله قد يكون بالإعراض عنه وقد يكون بإخراجه عن ملكه وذلك بإيقاعه فكان اللفظ محتملا للطلاق وغيره، فتصح نيته، ولو قال: أعرضت عن طلاقك أو صفحت عن طلاقك ونوى الطلاق لم تطلق؛ لأن الإعراض عن الطلاق يقتضي ترك التصرف فيه، والصفح هو الإعراض فلا يحتمل الطلاق ولا تصح نيته.

حنبل اکرم

 دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی 

03   /ذو الحجہ /1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

حنبل اکرم بن محمد اکرم

مفتیان

فیصل احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب / شہبازعلی صاحب