03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
شوہر،چھ بیٹیوں دوبھائیوں اورتین بہنوں میں میراث کی تقسیم
90324میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

 میری نانی محترمہ عفت بیگم صاحبہ کا انتقال 6 اکتوبر 2024 کو ہوا۔ مرحومہ کے ترکے کی شرعی تقسیم کے حوالے سے رہنمائی مطلوب ہے۔ مرحومہ کے پسماندگان میں شوہر (نانا) حیات ہیں، نیز مرحومہ کی 6 بیٹیاں موجود ہیں اور تمام حیات ہیں، جبکہ کوئی بیٹا نہیں ہے۔ اس کے علاوہ مرحومہ کے 2 بھائی اور 3 بہنیں بھی حیات ہیں۔ آپ سے مؤدبانہ درخواست ہے کہ شرعی اصولوں کے مطابق وراثت کی تقسیم کا فتویٰ مرحمت فرمائیں، جس میں شوہر، بیٹیوں، بھائیوں اور بہنوں کے حصے واضح طور پر بیان کیے جائیں، تاکہ ترکے کی تقسیم صحیح اسلامی طریقے کے مطابق انجام دی جا سکے۔ جزاکم اللہ خیراً۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مرحومہ کے حقوقِ متعلقہ بالترکہ، یعنی تجہیز و تکفین کے اخراجات، ذمہ میں موجود قرض کی ادائیگی، اور اگر کوئی جائز وصیت کی ہو تو ایک تہائی (1/3) مال کی حد تک اس کے نفاذ کے بعد، باقی ماندہ ترکہ شرعی اصولوں کے مطابق تقسیم کیا جائے گا۔ اگر مرحومہ کے انتقال کے وقت صرف وہی ورثاء حیات ہوں جن کا سوال میں ذکر کیا گیا ہے، تو شوہر (نانا) کو مرحومہ کی اولاد موجود ہونے کی وجہ سے کل ترکہ کا 25 فیصد (4/1) حصہ ملے گا۔ چھ بیٹیوں کو مجموعی طور پر 66.66 فیصد (3/2) حصہ دیا جائے گا، جو ان کے درمیان برابر تقسیم ہوگا، اس طرح ہر بیٹی کو تقریباً 11.11 فیصد حصہ ملے گا۔ باقی 8.33 فیصد حصہ مرحومہ کے 2 بھائیوں اور 3 بہنوں کو بطورِ عصبہ دیا جائے گا، جس میں ہر بھائی کو تقریباً 2.38 فیصد اور ہر بہن کو تقریباً 1.19 فیصد حصہ ملے گا۔

حوالہ جات

قال في كنز الدقائق :

يبدأ من تركة الميّت بتجهيزه ثمّ ديونه ثمّ وصيّته ثمّ تقسم بين ورثته،وهم:ذو فرضٍ أي ذو سهمٍ مقدّرٍ...

(ص:696, المكتبة الشاملة)

:قال اللہ تعالی :

يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ فَإِنْ كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ... وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُنَّ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِينَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ.

وفی السراجی فی المیرث(ص:39،بشری)

واماللأخوات لأب وأم فاحوال خمسة .............ومع الأخ لأب وأم للذکرمثل حظ الأنثیین یصرن بہ عصبة لإستوائھم فی القرابةإلی المیت.

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

22/11/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب