03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
آزاد کے لفظ سے طلاق کا حکم
90362طلاق کے احکامطلاق کے متفرق مسائل

سوال

میری شادی اپنی اہلیہ کے ساتھ سن 2001 میں ہوئی تھی اور الحمدللہ ہمارا ازدواجی تعلق ایک طویل عرصے سے قائم ہے۔ یہ واقعہ 28 مارچ 2026 کو میرے اور میری اہلیہ کے درمیان پیش آیا۔ دن کے تقریباً 1:30 بجے میری اپنی اہلیہ کے ساتھ تلخ کلامی ہو گئی۔ باتوں میں گرمی آ گئی، میری طرف سے بھی اور ان کی طرف سے بھی۔ اسی دوران غصے اور جذبات کی حالت میں، میں نے اپنی اہلیہ سے یہ جملہ کہا: "اگر تم آج اپنے گھر جاتی ہو تو تم میری طرف سے آزاد ہو اور تمہیں خلع لینے کی بھی ضرورت نہیں ہے۔" یہ جملہ میں نے شدید غصے کی کیفیت میں کہا۔ میرا مقصد طلاق دینا نہیں تھا بلکہ انہیں روکنا اور ڈرانا تھا تاکہ وہ اپنے گھر نہ جائیں۔ اس وقت میری ساس کی طبیعت بھی خراب تھی، اسی وجہ سے میں نے اپنی اہلیہ کو منع کیا کہ وہ ابھی اپنے گھر نہ جائیں کیونکہ ان کی والدہ کی طبیعت بھی ٹھیک نہیں تھی۔ کچھ وقت بعد جب ماحول ابھی بھی گرم تھا، اہلیہ کمرے میں شدید غصے کی حالت میں تھیں۔ اس دوران انہوں نے مجھ سے کہا: "آپ واضح الفاظ میں کہیں کہ آپ مجھے تین طلاق دیتے ہیں۔" اس پر میں نے فوراً جواب دیا: "نہیں، میں ایسی کوئی بات نہیں کر رہا۔ آپ غصے میں ہیں، میں تین طلاق والی کوئی بات نہیں کر رہا۔" بعد ازاں وقت گزرتا گیا، جب میں اپنے کام کے لیے گھر سے نکل رہا تھا تو مجھے اپنی سختی اور الفاظ پر ندامت محسوس ہوئی۔ میں اپنی اہلیہ کے پاس گیا اور ان سے باقاعدہ معافی مانگی اور انہیں اپنے گھر جانے سے روکا۔ میں نے کہا: "مجھے معاف کر دیں، اگر میرے منہ سے کوئی غلط بات نکل گئی ہے تو میں معافی چاہتا ہوں۔ آپ اس وقت اپنے گھر مت جائیں۔ اگر جانا بھی ہے تو میں خود آپ کو چھوڑ کر آؤں گا، مگر ابھی مت جائیں۔" اسی موقع پر میں نے انہیں ڈرانے والی بات کے حوالے سے یہ بھی کہا: "دیکھیں، مت جائیں، ایسا نہ ہو کہ وہ بات ایکٹیو ہو جائے جو میں نے غصے میں کہی تھی۔" میں نے بار بار اصرار کیا کہ وہ نہ جائیں اور اپنی غلطی پر ندامت ظاہر کی۔ اس وقت میرے چاروں بچے بھی اپنی والدہ کے پاس موجود تھے اور یہ ساری گفتگو سن رہے تھے۔ اسی دوران جب میں معافی مانگ رہا تھا تو اہلیہ نے مجھ سے کہا: "یہ آپ کی عادت بن گئی ہے کہ آپ پہلے غصہ کرتے ہیں، پھر فوراً معافی مانگ لیتے ہیں، لیکن اب میں آپ کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی۔" میں نے اہلیہ سے کہا: "یہ بات ہو گئی ہے، کہیں کچھ ہو نہ جائے۔" تو اہلیہ نے جواب دیا: "نہیں نہیں، ان باتوں سے کچھ بھی نہیں ہوتا، لیکن مجھے اپنے گھر جانے دیں۔" میں نے یہ بھی کہا کہ جو سامان انہوں نے پیک کیا ہے وہ اسی طرح رہنے دیں، میں خود مناسب طریقے سے انہیں ایک دو دن بعد چھوڑ آؤں گا اور واپس لے بھی آؤں گا۔ مزید یہ کہ اس موقع پر میں بار بار یہ الفاظ کہہ رہا تھا کہ "وہ بات ایکٹیو نہ ہو جائے" اور اسی بات پر معافی بھی مانگ رہا تھا۔ میں نے اپنی اہلیہ کو بار بار روکا اور جانے سے منع کیا، لیکن میرے منع کرنے کے باوجود میری غیر موجودگی میں اسی دن کے 3 بج کر 17 منٹ پر میری اہلیہ اپنی والدہ کے گھر چلی گئیں۔ میرا مقصد ہرگز طلاق دینا نہیں تھا بلکہ غصے اور جذبات میں ایک مشروط جملہ زبان سے نکل گیا، جس پر مجھے شدید ندامت ہے۔ براہِ کرم اس واقعے کی روشنی میں میری شرعی رہنمائی فرمائیں کہ اس جملے کا کیا حکم ہے اور مجھے کیا کرنا چاہیے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورتِ مسئولہ میں چونکہ شوہر نے غصے اور نزاع کے ماحول میں اپنی اہلیہ سے یہ کہا کہ: ’’اگر تم آج اپنے گھر گئی تو تم میری طرف سے آزاد ہو، اور تمہیں خلع لینے کی بھی ضرورت نہیں‘‘، اور پھر اسی دن اہلیہ میکے چلی بھی گئیں ہے، اس لیے شرط پائے جانے پر ایک طلاقِ بائن واقع ہوچکی ہے؛ کیونکہ ’’آزاد ہو‘‘ اگرچہ کنایہ الفاظ میں سے ہے، لیکن شدید غصہ، اور ’’خلع لینے کی ضرورت نہیں‘‘ جیسے الفاظ اس پر دلالت کرتے ہیں کہ یہ الفاظ طلاق کے معنی میں استعمال ہوئے تھے، لہٰذا محض یہ کہنا کہ نیت طلاق کی نہ تھی،معتبر نہیں ہوگا۔تاہم اس سے پہلے اگرکوئی اور طلاق  نہ دی ہو تو حلالہ کی کوئی ضرورت نہیں ہے، بلکہ دونوں باہمی رضامندی سے، نئے مہر، اور دو گواہوں کی موجودگی میں تجدیدِ نکاح کرکے دوبارہ ازدواجی زندگی قائم کرسکتے ہیں، تاہم آئندہ ایسے الفاظ کے استعمال میں انتہائی احتیاط ضروری ہے؛ کیونکہ تجدیدِ نکاح کے بعد شوہر کے پاس صرف دو طلاقوں کا اختیار باقی رہے گا۔

حوالہ جات

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (3/ 101)

إذا قال لامرأته: كوني حرة أو عتقى ولو قال: يا مطلقة وقع عليها الطلاق؛ لأنه وصفها بكونها مطلقة ولا تكون مطلقة إلا بالتطليق، فإن قال: أردت به الشتم لا يصدق في القضاء؛ لأنه خلاف الظاهر.

رد المحتار: (299/3، ط: دار الفكر)

بخلاف فارسية قوله ‌سرحتك وهو " رهاء كردم " لأنه صار صريحا في العرف على ما صرح به نجم الزاهدي الخوارزمي في شرح القدوري اه وقد صرح البزازي أولا بأن: حلال الله علي حرام أو الفارسية لا يحتاج إلى نية، حيث قال: ولو قال حلال " أيزدبروي " أو حلال الله عليه حرام لا حاجة إلى النية، وهو الصحيح المفتى به للعرف وأنه يقع به البائن لأنه المتعارف ثم فرق بينه وبين ‌سرحتك فإن ‌سرحتك كناية لكنه في عرف الفرس غلب استعماله في الصريح فإذا قال " رهاكردم " أي ‌سرحتك يقع به الرجعي مع أن أصله كناية أيضا، وما ذاك إلا لأنه غلب في عرف الفرس استعماله في الطلاق.

رد المحتار :باب صریح الطلاق(3/ 252،ط: ايچ، ايم سعید):

"ومن الألفاظ المستعملة: الطلاق يلزمني، والحرام يلزمني، وعلي الطلاق، وعلي الحرام فيقع بلا نية للعرف، (قوله فيقع بلا نية للعرف) أي فيكون صريحا لا كناية، بدليل عدم اشتراط النية وإن كان الواقع في لفظ الحرام البائن لأن الصريح قد يقع به البائن كما مر، لكن في وقوع البائن به بحث سنذكره في باب الكنايات، وإنما كان ما ذكره صريحا لأنه صار فاشيا في العرف في استعماله في الطلاق لا يعرفون من صيغ الطلاق غيره ولا يحلف به إلا الرجال، وقد مر أن الصريح ما غلب في العرف استعماله في الطلاق بحيث لا يستعمل عرفا إلا فيه من أي لغة كانت، وهذا في عرف زماننا كذلك فوجب اعتباره صريحا كما أفتى المتأخرون في أنت علي حرام بأنه طلاق بائن للعرف بلا نية مع أن المنصوص عليه عند المتقدمين توقفه على النية."

وفیه أیضا:

"وكونه التحق بالصريح للعرف لاينافي وقوع البائن به، فإن الصريح قد يقع به البائن كتطليقة شديدة ونحوه: كما أن بعض الكنايات قد يقع به الرجعي، مثل اعتدي واستبرئي رحمك وأنت واحدة.والحاصل أنه لما تعورف به الطلاق صار معناه تحريم الزوجة، وتحريمها لا يكون إلا بالبائن، هذا غاية ما ظهر لي في هذا المقام، وعليه فلا حاجة إلى ما أجاب به في البزازية من أن المتعارف به إيقاع البائن، لما علمت مما يرد عليه، والله سبحانه وتعالى أعلم".(3 /300، باب الکنایات، ط؛ سعید)

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

25/11/1447ھ
 

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب