03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
تین طلاقیں دینے کے بعد شوہر کا انکار کرنا اور میاں بیوی کا ساتھ رہنا
90433طلاق کے احکامصریح طلاق کابیان

سوال

میرے شوہر نے مجھے 2012 میں دو طلاقیں دیں، "میں نے تجھے طلاق دی، میں نے تجھے طلاق دی" یہ 2 بار کہا۔ اس کے بعد 2014 میں 1 طلاق دی، اس وقت میں حمل میں تھی، میری ساس نے کہا کہ ایسی حالت میں طلاق نہیں ہوتی اور میں ساتھ رہتی رہی۔ پھر 2023 میں میرے شوہر نے مجھے فون پر 1 طلاق اور دی، پھر میں نے کورٹ سے خلع لیا اپنی امی کے گھر جا کر۔ پھر میرے شوہر نے حلف دیا کہ میں نے طلاق نہیں دی، پھر میں اپنے شوہر کے پاس واپس آگئی کیونکہ میرے پاس طلاقوں کا کوئی گواہ نہیں ہے، لیکن میں نے اپنے کانوں سے سنی ہیں۔ اب میں اپنے شوہر کے ساتھ اس گھر میں رہ رہی ہوں۔ میرے لیے کیا حکم ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورتِ مذکورہ میں جب شوہر نے 2012 میں دو مرتبہ صریح الفاظ میں کہا کہ ’’میں نے تجھے طلاق دی‘‘ تو اس سے دو طلاقیں واقع ہو گئیں، پھر 2014 میں حالتِ حمل کے دوران دی گئی تیسری طلاق بھی شرعاً نافذ ہو گئی، کیونکہ حالتِ حمل میں دی گئی طلاق معتبر ہوتی ہے ؛ چنانچہ تیسری طلاق کے ساتھ ہی طلاقِ مغلظہ مکمل ہو گئی اور نکاح قطعی طور پر ختم ہو گیا، لہٰذا اس کے بعد ان دونوں کا بطورِ میاں بیوی ساتھ رہنا شرعاً جائز نہ تھا، اور ساس یا کسی اور کے کہنے سے یہ حکم تبدیل نہیں ہو سکتا۔ چونکہ 2014 ہی میں نکاح ختم ہو چکا تھا، اس لیے 2023 کی طلاق اور بعد میں لیا گیا عدالتی خلع شرعی اعتبار سے لغو اور بے اثر ہیں، کیونکہ محل باقی نہیں رہا تھا۔

چونکہ طلاق کے معاملے میں عورت قاضی کی طرح ہے،اس لیے جب وہ خود اپنے کانوں سے شوہر کو طلاق دیتے سنے یا کوئی ایسا نیک آدمی اسے طلاق کی خبر دے جس کی بات پر اسے اعتماد ہو تو اس کے بعد عورت کے لیے شوہر کے ساتھ رہنا جائز نہیں رہتا،اگرچہ شوہر طلاق دینے سے انکاری ہو اور عورت کے پاس کوئی گواہ نہ ہو۔

اس لیے مذکورہ صورت  میں جب بیوی نے خود اپنے کانوں سے شوہر کو اسے تین طلاقیں دیتے سنا تو اب اس کے اپنی بات سے مکرجانے کا شرعا کوئی اعتبار نہیں ہے اور اس کے لیے سابقہ شوہر کے ساتھ رہنا ناجائز اور حرام ہے۔

لہذامذکورہ صورت میں اولا شوہر کو خوفِ خدا دلا کر آخرت کے عذاب سے ڈرایا جائے اور اسے اس بات پر آمادہ کرنے کی کوشش کی جائے کہ وہ غلط بیانی کرکے ساری عمر حرام کاری میں مبتلا ہونے کے بجائے طلاق کا اقرار کرلے یا پھر کم از کم عورت کو علیحدہ کردے،اگر شوہر اس پر آمادہ نہ ہو تو مہر معاف کرکے یا کچھ مال وغیرہ دے کر اس سے عورت کو آزاد کروایا جائے،اگر وہ کسی بھی طریقے سے اس کی جان چھوڑنے پر آمادہ نہ ہو تو عورت اس کا گھر چھوڑ کر میکے چلی جائے اور ہر ممکن طریقے سے اسے اپنے قریب آنے سے باز رکھے۔

اگر خاوند پھر بھی جان نہ چھوڑے، تو خلع کی مذکورہ ڈگری اگرچہ تین طلاق یا یکطرفہ ہونے کی وجہ سے معتبر نہ ہو، لیکن جب سائلہ ویسے ہی طلاق یافتہ ہے تو ایک ثبوت اور قانونی حمایت کے لیے اس عدالتی فیصلے کو استعمال کر سکتی ہے۔ اگر اس کے باوجود بھی اس کے لیے جان خلاصی ممکن نہ ہو تو اس مجبوری کی صورت میں سائلہ پر اس شخص کے ساتھ رہنے کا گناہ نہیں ہوگا، بلکہ پورا گناہ شوہر اور اس کی حمایت کرنے والوں پر ہوگا۔

حوالہ جات

وفی الشامیة :

المرأۃ کالقاضی اذا سمعتہ او اخبرھا عدل لا یحل لھاتمکینہ‘ والفتویٰ علی انہ ‘ لیس لھا قتلہ ولا تقتل نفسھا بل تفدی نفسھا  بمال او تھرب کما انہ‘ لیس لہ قتلھا اذا حرمت  علیہ وکلما ہرب رد تہ بالسحر ، وفی البزازیۃ عن الا وزجندی انھا ترفع الا مر للقاضی فان حلف ولا بینۃ لھا فالا ثم علیہ اھ قلت اذا لم تقدر علی الفداء اوالھرب والا علی منعہ عنھا فلا ینافی ما قبلہ (شامی ص ۵۹۴ ج۱ باب الصریح)

رد المحتار - (ج 12 / ص 388)

ومفاده أنه لو وطئها بعد الثلاث في العدة بلا نكاح عالما بحرمتها لا تجب عدة أخرى لأنه زنا ، وفي البزازية : طلقها ثلاثا ووطئها في العدة مع العلم بالحرمة لا تستأنف العدة بثلاث حيض ، ويرجمان إذا علما بالحرمة.

البحر الرائق شرح كنز الدقائق - (ج 9 / ص 375)

فی سنن ابن ماجة (ج 2 / ص 152)باب من طلق ثلاثا في مجلس واحد 2024

حدثنا محمد بن رمح . أنبأنا الليث بن سعد ، عن إسحاق بن أبى فروة ،عن أبى الزناد ، عن عامر الشعبى  قال : قلت لفاطمة بنت قيس :حدثينى عن طلاقك . قالت : طلقني زوجي ثلاثا ، وهو خارج إلى اليمن .فأجاز ذلك رسول الله صلى الله عليه وسلم .

سنن البيهقي الكبرى - (ج 7 / ص 339)

أخبرنا أبو سعد أحمد بن محمد الماليني أنا أبو أحمد عبد الله بن عدي الحافظ نا محمد بن عبد الوهاب بن هشام نا علي بن سلمة اللبقي ثنا أبو أسامة عن الأعمش قال كان بالكوفة شيخ يقول سمعت علي بن أبي طالب رضي الله عنه يقول إذا طلق الرجل امرأته ثلاثا في مجلس واحد فإنه يرد إلى واحدة والناس عنقا وآحادا إذ ذاك يأتونه ويسمعون منه قال فأتيته فقرعت عليه الباب فخرج إلي شيخ فقلت له كيف سمعت علي بن أبي طالب رضي الله عنه يقول فيمن طلق امرأته ثلاثا في مجلس واحد قال سمعت علي بن أبي طالب رضي الله عنه يقول إذا طلق رجل امرأته ثلاثا في مجلس واحد فإنه يرد إلى واحدة قال فقلت له أين سمعت هذا من علي رضي الله عنه قال أخرج إليك كتابا فأخرج فإذا فيه بسم الله الرحمن الرحيم هذا ما سمعت علي بن أبي طالب رضي الله عنه يقول إذا طلق الرجل امرأته ثلاثا في مجلس واحد فقد بانت منه ولا تحل له حتى تنكح زوجا غيره قال قلت ويحك هذا غير الذي تقول قال الصحيح هو هذا ولكن هؤلاء أرادوني على ذلك.

رد المحتار - (ج 10 / ص 448)

وقد ثبت النقل عن أكثرهم صريحا بإيقاع الثلاث ولم يظهر لهم مخالف - { فماذا بعد الحق إلا الضلال}  وعن هذا قلنا لو حكم حاكم بأنها واحدة لم ينفذ حكمه لأنه لا يسوغ الاجتهاد فيه فهو خلاف لا اختلاف.

الفتاوى الهندية - (ج 10 / ص 196)

وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية ولا فرق في ذلك بين كون المطلقة مدخولا بها أو غير مدخول بها كذا في فتح القدير ويشترط أن يكون الإيلاج موجبا للغسل وهو التقاء الختانين هكذا في العيني شرح الكنز .أما الإنزال فليس بشرط للإحلال.

لو قال لزوجتہ أنت طالق طالق طالق طلقت ثلاثاً۔ (الأشباہ والنظائر ۲۱۹ قدیم)کرر لفظ الطلاق وقع الکل۔ (شامي ۴؍۵۲۱ زکریا)

أحكام القرآن للجصاص ج: 5  ص: 415

قوله تعالى: {فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجاً غَيْرَهُ} منتظم لمعان: منها تحريمها على المطلق ثلاثا حتى تنكح زوجا غيره، مفيد في شرط ارتفاع التحريم الواقع بالطلاق الثلاث العقد والوطء جميعا; لأن النكاح هو الوطء في الحقيقة، وذكر الزوج يفيد العقد، وهذا من الإيجاز واقتصار على الكناية المفهمة المغنية عن التصريح. وقد وردت عن النبي صلى الله عليه وسلم أخبار مستفيضة في أنها لا تحل للأول حتى يطأها الثاني، منها حديث الزهري عن عروة عن عائشة: أن رفاعة القرظي طلق امرأته ثلاثا، فتزوجت عبد الرحمن بن الزبير، فجاءت إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقالت: يا نبي الله إنها كانت تحت رفاعة فطلقها آخر ثلاث تطليقات فتزوجت بعده عبد الرحمن بن الزبير وإنه يا رسول الله ما معه إلا مثل هدبة الثوب فتبسم رسول الله صلى الله عليه وسلم وقال: "لعلك تريدين أن ترجعي إلى رفاعة؟ لا حتى تذوقي عسيلته ويذوق عسيلتك".

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

  دارالافتاء جامعۃ الرشید          

25/11/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب