| 90529 | خرید و فروخت کے احکام | خرید و فروخت کو ختم کرنے کے مسائل |
سوال
کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ: میں نے دو مہینے پہلے ایک پلاٹ لیا تھا، جس کے میں نے تین لاکھ روپے بھی ادا کردیئے اور بقیہ رقم پلاٹ کے انتقال کے وقت ادا کرنے تھے۔ لیکن بائع ،چند وجوہات کی بنا ء پر انتقال نہ کرواسکا۔ اُس وقت پلاٹ کی قیمت پینتالیس لاکھ روپے مقرر کی گئی تھی۔ جب کہ ابھی اس کی قیمت پچاس لاکھ روپے ہے۔ بائع نے مجھے مارکیٹ پریکٹس کے مطابق تین لاکھ کے ساتھ مزِيد تین لاکھ ملاکر واپس کردیے۔آیا میرے لیے یہ زائد رقم لینا جائز ہے؟ اگر نہیں! تو کیا میں اس سے حقیقی نقصان جو کہ پانچ لاکھ ہے لے سکتا ہوں؟ رہنمائی فرمائیں .
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
یاد رہے کہ خرید و فروخت کے عقد کو ختم کرنا شریعت کی اصطلاح میں اقالہ کہلاتا ہے ۔ جس کیلئے عاقدین (خریدار و فروخت کنندہ) دونوں کی رضامندی ضروری ہے ، دوسرا یہ کہ اقالہ ثمن اول پر جائز ہے، اس سے کم یا زیادہ پر کرنا جائز نہیں ہے ۔
لہٰذا ! صورتِ مسئولہ میں اگر دونوں( بائع و مشتری) کی رضا مندی سے اقالہ ہوا ہے ، تو آپ ( مشتری ) کا تین لاکھ سے زائد رقم واپس لینا جائز نہیں ہے ، چاہے وہ حقیقی نقصان کے نام پر ہی کیوں نہ ہو ۔
اس کا جائز متبادل یہ ہوسکتا ہے کہ اقالہ کی بجائے بیع جدید کرلی جائے، پھر چاہے وہ اڑتالیس لاکھ ، پچاس لاکھ یا اس سے بھی زائدپرہو، لیکن پینتالیس لاکھ سے کم پر جائز نہیں ہوگی ۔
حوالہ جات
«بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع» (5/ 307):
«والعقد رفع الثمن الأول فيكون فسخه بالثمن الأول ضرورة؛ لأنه فسخ ذلك العقد، وحكم الفسخ لا يختلف بين ما قبل القبض وبين ما بعده وبين المنقول وغير المنقول، وتبطل تسمية الزيادة والنقصان والجنس الآخر والأجل، وتبقى الإقالة صحيحة؛ لأن إطلاق تسمية هذه الأشياء لا يؤثر في الإقالة؛ لأن الإقالة لا تبطلها الشروط الفاسدة وبخلاف البيع»
«فتح باب العناية بشرح النقاية» (2/ 352):
(وصحت) الإقالة (بمثل الثمن الأول) جنسا وقدرا (وإن شرط غير جنسه) كما لو كان الثمن دراهم وأقال على دنانير، لأن غير جنس الثمن ليس ثابتا في المفسوخ ورفع ما ليس ثابتا محال، فيكون تسمية غير جنس الثمن في الإقالة شرطا فاسدا، والإقالة لا تبطل بالشروط الفاسدة،»
«الموسوعة الفقهية الكويتية» (2/ 23):
«الإقالة جائزة في البيع بمثل الثمن الأول، عليه إجماع المسلمين (2) ، لقوله صلى الله عليه وسلم من أقال نادما بيعته أقال الله عثرته يوم القيامة. أخرجه أبو داود وابن ماجه عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة رضي الله عنه، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم من أقال مسلما بيعته أقال الله عثرته»
«بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع» (5/ 199):
«ولو اشترى ما باع بمثل ما باع قبل نقد الثمن جاز بالإجماع لانعدام الشبهة، وكذا لو اشتراه بأكثر مما باع قبل نقد الثمن، ولأن فساد العقد معدول به عن القياس، وإنما عرفناه بالأثر، والأثر جاء في الشراء بأقل من الثمن الأول، فبقي ما وراءه على أصل القياس.»
«موسوعة الإجماع» ط الفضيلة (2/ 346):
«العيني (855 هـ) يقول: [واعلم أن شراء ما باع بأقل مما باع، قبل نقد الثمن لا يجوز عندنا. . .، وبعد نقد الثمن يجوز عندنا أيضا، وبالمثل أو الأكثر يجوز بالإجماع، سواء كان قبل نقد الثمن أو بعده] (3).»
عبدالغفاربن غلام اکبر
دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی
٢ /ذي الحجہ/١٤٤٧
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبدالغفار بن غلام اکبر | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


