03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
فدیۂ صوم: امسال پورے رمضان کی مقررہ مقدار اور متعلقہ شرعی احکام
90441روزے کا بیاننذر،قضاء اور کفارے کے روزوں کا بیان

سوال

اس سال پورے رمضان کے روزوں کا فدیہ کتنا ہوگا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ ایک روزے کے عوض نصف صاع گندم، ایک صاع جَو، ایک صاع کھجور، ایک صاع کشمش یا ان میں سے کسی بھی چیز کی مذکورہ مقدار کی قیمت کسی مسکین کو دے دی جائے۔

گندم کا نصف صاع بعض علماء کے قول کے مطابق پونے دو کلو گرام کا ہوتا ہے، جبکہ بعض علماء (جن میں جامعۃ الرشید کے بانی، حضرت مفتی رشید احمد صاحبؒ بھی شامل ہیں) کی تحقیق کے مطابق 2.249 (یعنی تقریباً سوا دو) کلو گرام ہوتا ہے۔ حضرت والاؒ نے اپنی یہ مفصل اور مدلل تحقیق رسالہ ’’بسط الباع لتحقیق الصاع‘‘ (مندرجہ احسن الفتاویٰ، جلد 4) میں تحریر فرمائی ہے۔ احتیاط اسی میں ہے کہ سوا دو کلو گندم یا اس کی قیمت ادا کی جائے، کیونکہ اس سے فدیے کی ادائیگی یقینی ہو جاتی ہے۔ عبادات میں احتیاط ہی پر عمل کرنا چاہیے۔

سال ۱۴۴۷ ھ کے پورے رمضان کا فدیہ مذکورہ حساب کے مطابق 67.47 کلو گرام بنتا ہے۔ سائل کو اختیار ہے اگر چاہے تو اتنے گندم ادا کر دے، یا یہ   کہ ادائیگی کے دن جو بھی بازاری نرخ ہو اس حساب سے اتنے گندم کی کی  قیمت ادا کردے۔واضح رہے کہ یہ قیمت مختلف شہروں میں روزانہ کی بنیاد پر مختلف ہو سکتی ہے۔چنانچہ کسی ایک حساب پر اعتماد درست نہیں۔ بلکہ سائل کو چاہئے کہ جس دن جس شہر میں وہ فدیہ ادا کررہا ہےاسی دن اسی شہر میں گندم کی بازاری قیمت معلوم کرکے، اس حساب سے فدیہ ادا کردے۔ آسان طریقہ یہ ہے کہ اپنے علاقے میں ایک کلو گندم کی قیمت معلوم کر کے اسے کل درکار وزن (67.47 کلو) سے ضرب دے دے، تو 30 روزوں کی مجموعی قیمت آ جائے گی۔

حوالہ جات

«الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية» (1/ 207):

«ويطعم عنه وليه لكل يوم مسكينا نصف صاع من بر أو صاعا من تمر أو صاعا من شعير كذا في الهداية.»

حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي» (2/ 285):

(وجاز دفع القيمة في زكاة وعشر وخراج وفطرة ونذر وكفارة غير الإعتاق) وتعتبر القيمة يوم الوجوب، وقالا يوم الأداء. وفي السوائم يوم الأداء إجماعا، وهو الأصح.

«حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي» (2/ 286):

(قوله وهو الأصح) أي كون المعتبر في السوائم يوم الأداء إجماعا هو الأصح فإنه ذكر في البدائع أنه قيل إن المعتبر عنده فيها يوم الوجوب، وقيل يوم الأداء. اهـ.

وفي المحيط: يعتبر يوم الأداء بالإجماع وهو الأصح اهـ فهو تصحيح للقول الثاني الموافق لقولهما، وعليه فاعتبار يوم الأداء يكون متفقا عليه عنده وعندها»

محمدسعید خان آفریدی

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

2 /ذوالحجہ/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد سعید خان آفریدی بن معین خان

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب