| 90551 | طلاق کے احکام | صریح طلاق کابیان |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
1۔ تقریباً 4 سال پہلے میرے شوہر نے غصے میں کہا: "میں نے آپ کو ایک طلاق دی۔"
2۔ تقریباً ڈھائی سال پہلے لڑائی کے دوران انہوں نے "میں آپ کو طلاق..." کہا۔ مجھے مکمل اور واضح الفاظ یاد نہیں۔ شاید بعد میں یہ بھی کہا ہو کہ "اب آخری چانس رہ گیا"، لیکن مجھے یقین نہیں۔ البتہ "میں آپ کو طلاق دے دوں گا" وہ غصے میں بے شمار بار کہہ چکے ہیں۔
3۔ اب جبکہ وہ بیرونِ ملک ہیں، فون پر جھگڑے کے دوران انہوں نے کہا: "میں آپ کو ابھی کے ابھی طلاق دیتا ہوں۔"
4۔ ایک مرتبہ انہوں نے غصے میں آڈیو نوٹس بھیجے۔ مجھے خوف ہوا کہ کہیں طلاق نہ ہو، اس لیے میں نے بغیر سنے وہ آڈیوز ڈیلیٹ کر دیے۔ مجھے معلوم نہیں ان میں کیا کہا گیا تھا۔ بعد میں میرے شوہر نے کہا: "اب مفتی سے فتویٰ لے لو۔" مجھے معلوم نہیں انہوں نے یہ صرف ڈرانے کے لیے کہا تھا یا واقعی طلاق دی تھی، کیونکہ میں نے آڈیوز سنی ہی نہیں۔
بعد میں میرے شوہر یہ بھی کہتے ہیں: "جس حالت میں میرے منہ سے یہ الفاظ نکلے تھے، اس حالت میں طلاق واقع نہیں ہوئی۔" ان کے والد بھی کہتے ہیں کہ ان کی ذہنی حالت درست نہیں اور انہیں علاج کی ضرورت ہے۔ ان کے رویّے اور بعض حرکات ایسی ہیں کہ گھر والوں کو بھی سمجھ نہیں آتی کہ ان کے ذہن میں کیا چل رہا ہوتا ہے۔
براہِ کرم رہنمائی فرما دیں کہ کتنی طلاقیں واقع ہوئی ہیں اور اس وقت نکاح کی کیا حیثیت ہے۔
میں طلاق کے مسئلے سے متعلق اپنے حالات بیان کرنا چاہتی ہوں۔ آٹھ سال سے میں اپنے شوہر کو دیکھ رہی ہوں کہ غصے میں ان کی حالت بالکل غیر معمولی ہو جاتی ہے۔ وہ گندی زبان بولتے ہیں، مجھے دھکے دیتے ہیں، مجھ پر ہاتھ اٹھاتے ہیں، اور کبھی موبائل، لیپ ٹاپ، ٹی وی یا گھر کا سامان توڑ دیتے ہیں۔ بعد میں خود ہی نئی چیزیں لا کر دیتے ہیں، مجھ سے معافیاں مانگتے ہیں اور روتے بھی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ انہیں خود نہیں پتا غصے میں انہیں کیا ہو جاتا ہے۔
عام حالات میں وہ خیال رکھنے والے انسان ہیں، لیکن غصے میں بے شمار بار طلاق کی دھمکیاں دے چکے ہیں۔ طلاق کے علاوہ بھی کئی بار ان کی ذہنی حالت نارمل محسوس نہیں ہوتی۔ ان کے گھر والے بھی جانتے ہیں کہ ان کا غصہ معمول کے مطابق نہیں۔ ان کے والد کا بھی کہنا ہے کہ انہیں ذہنی علاج کی ضرورت ہے۔
ایسی صورتِ حال میں مفتیانِ کرام کیا فرماتے ہیں کہ ان کی ذہنی کیفیت کے پیشِ نظر مجھ پر طلاق واقع ہوئی ہے یا نہیں؟ اور اگر ہوئی ہے تو کتنی؟
نوٹ: میرے شوہر کا بیان یہ ہے کہ جس جس حالت میں ان کے منہ سے طلاق کے الفاظ نکلے، ان کے مطابق طلاق واقع نہیں ہوئی۔ یعنی وہ اس بات کا انکار نہیں کرتے کہ الفاظ انہوں نے کہے تھے، لیکن ان کا کہنا ہے کہ ان کی نیت یا حالت ایسی نہیں تھی کہ طلاق واقع ہو۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
طلاق کے صریح الفاظ میں نیت کی ضرورت نہیں ہوتی اورطلاق عام طور پر غصے ہی کی حالت میں دی جاتی ہے لہذاشوہر کی طرف سے صریح الفاظ میں دی گئی طلاق کے بعد محض یہ کہنا کہ ’’میری نیت طلاق کی نہیں تھی‘‘ یا ’’میں غصے میں تھا‘‘ شرعاً معتبر عذر نہیں ، الا یہ کہ غصہ اس حد تک شدید ہو کہ انسان اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھے اور بعد میں اپنے الفاظ بھی یاد نہ رہیں، جو کہ جنون کی ایک قسم ہےاوریہ حالت اس کی لوگوں میں معروف بھی ہو۔ جبکہ صورتِ مسئولہ میں شوہر کو اپنے الفاظ یاد ہیں، جو اس بات کی علامت ہے کہ وہ مکمل مغلوب العقل نہیں ہوئے تھے۔ اس لیے پہلی مرتبہ ’’میں نے آپ کو ایک طلاق دی‘‘ کہنے سے ایک طلاقِ رجعی واقع ہوئی، اور تیسری مرتبہ ’’میں آپ کو ابھی کے ابھی طلاق دیتا ہوں‘‘ کہنے سے دوسری طلاق بھی واقع ہو گئی۔ البتہ دھمکی آمیز یا مشکوک الفاظ اور حذف شدہ آڈیوز کی بنیاد پر — بشرطیکہ شوہر ان میں طلاق کے موجود ہونے کا اقرار نہ کرے — کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی، کیونکہ طلاق یقین سے ثابت ہوتی ہے اور شک سے واقع نہیں ہوتی۔ لہٰذا مذکورہ تفصیلات کے مطابق مجموعی طور پر دو طلاقیں واقع ہو چکی ہیں اور اب صرف ایک طلاق کا حق باقی ہے، عدت کے اندر رجوع ہو سکتا ہے،نکاح کی ضرورت نہیں اورعدت کے بعد نیانکاح ہوسکتاہے حلالہ کی ضرورت نہیں ۔
چونکہ سوال میں شوہر کی غیر معمولی ذہنی و نفسیاتی کیفیت کا دعویٰ کیا گیا ہے، جو بعض صورتوں میں عدمِ وقوعِ طلاق میں مؤثر ہو سکتا ہے، اس لیے اگر شوہر واقعی اپنے آپ کو طلاق کے الفاظ کہتے وقت مغلوب العقل سمجھتا ہے تو کم از کم تین مستند، ماہر اور دیانت دار نفسیاتی ڈاکٹروں کی رپورٹس بیانِ حلفی کے ساتھ دارالافتاء میں جمع کرا دے، تو اس مسئلے پر دوبارہ غور کیا جا سکتا ہے۔
حوالہ جات
الدر المختار مع رد المحتار3/ 641):
قال العلامة الحصكفي رحمه الله : (ويقع طلاق) ... (ولو عبدا)... (أو مخطئا) بأن أراد التكلم بغير الطلاق،
فجرى على لسانه الطلاق، أو تلفظ به غير عالم بمعناه أو غافلا أو ساهيا.
الاشباہ و النظائر لابن نجيم: (196/1، ط: ادارة القرآن)
شك هل طلق أم لا لم يقع.شك أنه، طلق واحدة، أو أكثر، بنى على الأقل كما ذكره الإسبيجابي إلا أن يستيقن بالأكثر، أو يكون أكبر ظنه على خلافه
رد المحتار: (244/3، ط: دار الفکر)
قلت: وللحافظ ابن القيم الحنبلي رسالة في طلاق الغضبان قال فيها: إنه على ثلاثة أقسام: أحدها أن يحصل له مبادئ الغضب بحيث لا يتغير عقله ويعلم ما يقول ويقصده، وهذا لا إشكال فيه. والثاني أن يبلغ النهاية فلا يعلم ما يقول ولا يريده، فهذا لا ريب أنه لا ينفذ شيء من أقواله. الثالث من توسط بين المرتبتين بحيث لم يصر كالمجنون فهذا محل النظر، والأدلة على عدم نفوذ أقواله. اه. ملخصا ..... فالذي ينبغي التعويل عليه في المدهوش ونحوه إناطة الحكم بغلبة الخلل في أقواله وأفعاله الخارجة عن عادته، وكذا يقال فيمن اختل عقله لكبر أو لمرض أو لمصيبة فاجأته: فما دام في حال غلبة الخلل في الأقوال والأفعال لا تعتبر أقواله وإن كان يعلمها ويريدها لأن هذه المعرفة والإرادة غير معتبرة لعدم حصولها عن الإدراك صحيح كما لا تعتبر من الصبي العاقل
اعلاء السنن: (180/11، ط: ادارۃ القرآن)
والمراد الغضب الذي یحصل به الدھش وزوال العقل فإن قلیل الغضب لایخلو الطلاق عنہ إلانادراً، وقد قلنا بعدم وقوع الطلاق في مثل ھذا الغضب قال الزیلعی: قال فی التنقیح: وقد فسرہ أحمد أیضًا بالغضب۔ قال شیخنا : والصواب أنہ یعُمّ الإکراہ والغضب والجنون وکل أمرٍ ا نغلق علی صاحبہ عِلمُه وقصدہ، مأخوذ من غلق الباب.
"العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية "(1/ 38):
)سئل) في رجل حصل له دهش زال به عقله وصار لا شعور له لأمر عرض له من ذهاب ماله وقتل ابن خاله فقال في هذه الحالة يا رب أنت تشهد على أني طلقت فلانة بنت فلان يعني زوجته المخصوصة بالثلاث على أربع مذاهب المسلمين كلما حلت تحرم فهل لا يقع طلاقه؟
(الجواب) : الدهش هو ذهاب العقل من ذهل أو وله وقد صرح في التنوير والتتارخانية وغيرهما بعدم وقوع طلاق المدهوش فعلى هذا حيث حصل للرجل دهش زال به عقله وصار لا شعور له لا يقع طلاقه والقول قوله بيمينه إن عرف منه الدهش وإن لم يعرف منه لا يقبل قوله قضاء إلا ببينة كما صرح بذلك علماء الحنفية رحمهم الله تعالى.
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
03/12/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


