| 90626 | وقف کے مسائل | وقف کے متفرّق مسائل |
سوال
دار الافتاء کی خدمت میں مؤدبانہ عرض ہے کہ مہنگائی کے اس موجودہ لہر اور دور میں علماء ، قراء ، مدرسین ، عالمات و قاریات اور بیواؤں مسکینوں کو در پیش معاشی مسائل کے پیش نظر ایک ایسا منظم اور پائیدار نظام قائم کرنے کی ضرورت محسوس کی جارہی ہے جو اسلامی اصولِ تکافل (الكفاله)، باہمی تعاون ، تبرع اور خیر خواہی پر مبنی ہو ، اور جس کے ذریعے اہل علم اور ناداروں کی عزت نفس کو مجروح کیے بغیر ان کی بنیادی اور وقتی ضروریات پوری کی جا سکیں ۔ اسی مقصد کے تحت ایک ترتیب زیر غور ہے ، جس کے مطابق اہل علم خود آپس میں ایک دوسرے کے کفیل بنیں گے اور دلی رضامندی سے ماہانہ یا وقتی بنیادوں پر ایک متعین یا غیر متعین رقم تبر عا جمع کروائیں گے ۔ یہ رقم کسی فرد واحد کی ملکیت میں نہیں رہے گی بلکہ شرعا اللہ تعالیٰ کے نام پر وقف کی جائے گی۔ جس کا اصل سرمایہ محفوظ رکھا جائے گا اور اسے صرف حلال وجائز طریقوں سے بڑھایا جائے گا۔ اس ترتیب کے تحت ایک وقف پول قائم کیا جائے گا ، جس میں جمع شدہ رقوم کو شرعی اصولوں کے مطابق جائز کاروبار یا سرمایہ کاری میں لگایا جائے گا ، تاکہ اس سے حاصل ہونے والا منافع علماء و عالمات اور بے سہاروں کی مختلف رفاہی ضروریات مثلاً : عمره، علاج ، ماہانہ راشن ، قرضِ حسنہ ، رہائش ، سواری اور ناگہانی آفات میں امداد جیسے امور پر خرچ کیے جا سکے ۔ ہر فلاحی مد کے لیے الگ پالیسی ترتیب دی جائے گی تاکہ وسائل کی تقسیم منظم اور شفاف انداز میں ہو۔ چونکہ وقف کے منافع سے بیک وقت تمام شرکاء کو فائدہ پہنچانا ممکن نہیں ہوتا ، اس لیے مستحقین کے انتخاب کے لیے قرعہ اندازی کو بطور ایک منصفانہ اور غیر جانب دار طریقہ اختیار کرنے کی تجویز ہے ، جو محض ترجیح اور نظم کے لیے ہوگی ، نہ کہ حق ملکیت یا لازمی استحقاق کی بنیاد۔ اس نظام میں شامل ہر شریک کا مقصد نفع ذاتی نہیں بلکہ اجتماعی فلاح اور اہل علم اور ناداروں کی کفالت ہوگا ، اور کسی بھی شریک پر مستقبل میں رقم کی لازمی ادائیگی یا واپسی کی شرعی پابندی عائد نہیں کی جائے گی۔ اسی ترتیب کے شرعی پہلوؤں ، حدود و قیود اور ممکنہ قباحتوں کی وضاحت کے لیے درج ذیل سوالات دار الافتاء کی خدمت میں پیش کیے جا رہے ہیں ، تاکہ قرآن و سنت، فقہ اسلامی اور معاصر فتاوی کی روشنی میں اس نظام کی مکمل شرعی حیثیت واضح ہو سکے اور کسی بھی غیر شرعی پہلو سے اجتناب ممکن بنایا جا سکے ۔
سوال 1 : کیا علماء ، قراء ، مدرسین ، عالمات و قاریات اور بیوہ مسکینوں کے مابین باہمی تعاون اور کفالت کے لیے تکافل (الکفالہ) کی بنیاد پر ایک ایسا نظام قائم کرنا شرعاً جائز ہے ، جس میں شرکاء اپنی رضامندی سے رقم تبرعا ادا کریں اور اسے وقف پول کی صورت دے دی جائے ؟
سوال 2 : کیا اس وقف پول کی اصل رقم کو محفوظ رکھتے ہوئے اسے حلال وجائز کاروبار یا سرمایہ کاری میں لگا نا شرعاً درست ہے ، اور کیا اس سے حاصل ہونے والا منافع وقف کے مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے ؟
سوال 3 : کیا وقف پول کے منافع کو علماء وقراء اور ناداروں کی مختلف رفاہی ضروریات مثلاً عمرہ ، علاج ، ماہانہ راشن ، قرض حسنہ ، رہائش یا سواری وغیرہ پر خرچ کرنا شرعاً جائز ہے ؟
سوال 4 : چونکہ وقف کے منافع سے تمام شرکاء کو بیک وقت فائدہ پہنچانا ممکن نہیں ، اس لیے کیا مستحقین کے انتخاب کے لیے قرعہ اندازی کو بطور ایک منصفانہ طریقہ اختیار کرنا شرعاً درست ہے ، اور کیا قرعہ کے ذریعے ملنے والا تعاون محض تبرع شمار ہوگا ؟
سوال 5 : کیا اس وقف و تکافل نظام کے انتظام و انصرام ، حساب کتاب اور دیگر ضروری اخراجات، نیز منتظمین کی خدمات کا معاوضہ وقف کے منافع میں سے ادا کیا جا سکتا ہے ، اور اگر اس میں کوئی شرعی قباحت ہو تو اس کی جائز متبادل صورتیں کیا ہو سکتی ہیں ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
علماء، قراء اور اہل علم کی باہمی کفالت کے لیے پیش کردہ یہ نظام شرعاً جائز اور ایک مستحسن رفاہی عمل ہے، جس کی بنیاد وقفِ نقود پر رکھی گئی ہے۔ اگرچہ فقہائے متقدمین کے ہاں وقف کا اصل مدار غیر منقولہ جائیداد پر تھا، تاہم امام زفر رحمہ اللہ اور متأخرین فقہائے احناف کے نزدیک موجودہ دور کے عرف اور تعامل کی بنا پر نقود (رقم) کا وقف کرنا درست ہے۔ شرعی اصول کے مطابق جب شرکاء اپنی رضامندی سے رقم بطورِ تبرع پیش کریں گے تو وہ ان کی ذاتی ملکیت سے نکل کر اللہ تعالیٰ کی ملکیت میں داخل ہو جائے گی اور کسی بھی شریک کو اپنی دی گئی رقم کی واپسی کے مطالبے کا حق نہیں رہے گا، تاکہ یہ معاملہ انشورنس یا عقدِ معاوضہ کے بجائے خالص وقف کی حیثیت پر برقرار رہے۔
اس وقف شدہ سرمایہ کو حلال کاروبار یا مضاربت میں لگانا شرعاً جائز ہے تاکہ اصل رقم محفوظ رہے اور حاصل شدہ منافع کو اہل علم کے علاج معالجہ، راشن، رہائش، عمرہ اور قرضِ حسنہ جیسے نیک کاموں پر خرچ کیا جا سکے، کیونکہ اہل علم کی خدمت قربتِ الٰہی کا بہترین ذریعہ ہے۔
چونکہ تمام شرکاء کی بیک وقت مالی مدد ممکن نہیں ہوتی، اس لیے محض انتظامی نظم اور منصفانہ تقسیم کے لیے قرعہ اندازی کرنا جائز ہے، البتہ اشد ضرورت مندوں اور ناگہانی آفات کے شکار افراد کو ترجیح دینے کا اختیار انتظامیہ کو اپنے پاس رکھنا چاہیے۔ نیز نظام کے انتظامی اخراجات اور منتظمین کا معاوضہ وقف کے منافع سےاجرتِ مثل کے مطابق ادا کرنا درست ہے۔
اس نظام کی روح کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ شرکاء کا مقصد ذاتی نفع کے بجائے اللہ کی رضا اور اجتماعی فلاح ہو، اور اگر کوئی شریک کسی عذر کی بنا پر متعین رقم جمع نہ کر سکے تو اسے نفع سے محروم نہ کیا جائے۔ سب سے بہتر صورت یہ ہے کہ اس میں تبرع کرنے والے ایسے لوگ بھی شامل ہوں جو خود اس وقف سے نفع حاصل کرنے کے خواہش مند نہ ہوں تاکہ وقف کے فوائد خالصتاً ناداروں اور ضرورت مندوں تک پہنچ سکیں۔
مزید یہ کہ اس نظام کی شرعی حیثیت برقرار رکھنے اور اسے ہر قسم کی دھوکہ دہی یا ذاتی مفاد سے محفوظ رکھنے کے لیے لازم ہے کہ اسے محض زبانی بنیادوں کی بجائے ملکی قوانین کے تحت ایک باقاعدہ رجسٹرڈ ٹرسٹ یا وقف کی قانونی شکل دی جائے۔ نظام کے انتظام و انصرام کے لیے ایک ایسا بورڈ آف ٹرسٹیز (Board of Trustees)تشکیل دیا جائے جو دیانت دار، ماہرِ فن اور جوابدہ افراد پر مشتمل ہو۔ مالی شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے بیرونی آڈٹ (External Audit) کا مستقل انتظام کیا جائے اور تمام تر سرمایہ کاری کسی مستند شرعی بورڈ کی نگرانی میں صرف محفوظ تجارتی منصوبوں تک محدود رکھی جائے۔ کسی بھی ایسی غیر یقینی اسکیم، جس میں راتوں رات رقم دگنی کرنے جیسے جھوٹے وعدے شامل ہوں، سے مکمل اجتناب واجب ہے؛ بصورتِ دیگر یہ عمل دھوکہ دہی کے زمرے میں آئے گا ۔
حوالہ جات
رد المحتار(556/7)
مَطْلَبٌ فِي وَقْفِ الدَّرَاهِمِ وَالدَّنَانِيرِ
قوله : (بل ودراهم ودنانير) عزاه في الخلاصة إلى الأنصاري وكان من أصحاب زفر، وعزاه في الخانية إلى زفر حيث قال : وعن زفر الشرنبلالية. وقال المصنف في المنح: ولما جرى التعامل في زماننا في البلاد الرومية وغيرها في وقف الدراهم والدنانير دخلت تحت قول محمد المفتى به في وقف كل منقول فيه تعامل كما لا يخفى؛ فلا يحتاج على هذا إلى تخصيص القول بجواز وقفها بمذهب الإمام زفر من رواية الأنصاري والله تعالى أعلم، وقد أفتى مولانا صاحب البحر بجواز وقفها ولم يحك خلافاً .اهـ. ما في المنح قال الرملي : لكن في إلحاقها بمنقول فيه تعامل نظر، إذ هي مما ينتفع بها مع بقاء عينها على ملك الواقف، وإفتاء صاحب البحر بجواز وقفها بلا حكاية خلاف لا يدل على أنه داخل تحت قول محمد المفتى به في وقف منقول فيه تعامل، لاحتمال أنه اختار قول زفر وأفتى به ۔۔۔ قلت: إن الدراهم لا تتعين بالتعيين فهي وإن كانت لا ينتفع بها مع بقاء عينها لكن بدلها قائم مقامها لعدم تعينها فكأنها باقية، ولا شك في كونها من المنقول، فحيث جرى فيها تعامل دخلت فيما أجازه محمد ولهذا لما مثل محمد بأشياء جرى فيها التعامل في زمانه ۔۔۔ وعن الأنصاري وكان من أصحاب زفر فيمن وقف الدراهم، أو ما يكال أو ما يوزن : أيجوز ذلك؟ قال: نعم، قيل وكيف؟ قال : يدفع الدراهم مضاربة، ثم يتصدق بها في الوجه الذي وقف عليه، وما يكال أو يوزن يباع ويدفع ثمنها للمضاربة أو بضاعة. قال: فعلى هذا القياس إذا وقف كراً من الحنطة على شرط أن يقرض للفقراء الذين لا بذر لهم ليزرعوه لأنفسهم، ثم يؤخذ منهم بعد الإدراك قدر القرض، ثم يقرض لغيرهم من الفقراء أبداً على هذا السبيل يجب أن يكون جائزاً.۔۔۔ قال في النهر : ومقتضى ما مر عن محمد عدم جواز ذلك : أي وقف الحنطة في الأقطار المصرية لعدم تعارف بالكلية ؛ نعم وقف الدراهم والدنانير تعرف في الديار الرومية .اهـ. ۔۔۔ وما خرج من الربح يتصدق به في جهة الوقف وهذا هو المراد في قول الفتح عن الخلاصة: ثم يتصدق بها، فهو على تقدير مضاف أي بربحها وعبارة الإسعاف : ثم يتصدق بالفضل۔
الدر المختار مع رد المحتار(524/7)
وشرطه شرط سائر التبرعات وأن يكون قربة في ذاته
وفي الشامية: اي بان يكون من حيث النظر إلى ذاته والصوره قربہ والمراد أن يحكم الشارع بانه لو صدر من مسلم يكون قربه حملا على أنه قصد القربة.
رد المحتار(681/7)
في الإسعاف : قال شمس الأئمة : إذا ذكر مصرف فيهم تنصيص على الحاجة، فهو صحيح وإن استوى فيه الأغنياء والفقراء، فإن يحصون(۱) صح، وإلا بطل إلا إن كان في لفظه ما يدل على الحاجة عرفاً كاليتامى فالوقف عليهم صحيح، ويصرف لفقرائهم فهذا الضابط يقتضي صحة الوقف على الزمني والعميان، وقراء القرآن والفقهاء وأهل الحديث، ويصرف لفقرائهم لإشعار الأسماء بالحاجة استعمالاً، لأن العمى والاشتغال بالعلم يقطع عن الكسب، فيغلب فيهم الفقر، وهو أصح.
فتاوى قاضي خان(198/3)
باب الرجل يقف أرضه على نفسه وأولاده وأقربائه وجيرانه
رجل قال : أرضي هذه صدقة موقوفة على نفسي قال هلال رحمه الله تعالى : لا يجوز هذا الوقف. وقال الفقيه أبو جعفر رحمه الله تعالى : ينبغي أن يجوز . في قياس قول أبي يوسف رحمه الله تعالى : وإنما قال ذلك بناء على أن الواقف إذا شرط في الوقف أن يؤكل ويأكل منه ما دام حياً، لا يجوز ذلك في قول هلال رحمه الله تعالى ويجوز في قول أبي يوسف ومشايخ بلخ رحمهم الله تعالى : أخذوا بقول أبي يوسف رحمه الله تعالى وقالوا : يجوز الوقف والشرط جميعاً . وذكر الصدر الشهيد رحمه الله تعالى أن الفتوى على قول أبي يوسف رحمه الله تعالى : ترغيباً للناس في الوقف
المحيط البرهاني(128/7)
وكذلك لو وقف على بني فلان على أن لفلان أن يفضل من شاء منهم .. . ولو قال : أرضي صدقة موقوفة على أن لي أن أخص من شئت منهم، فهو كما قال وله أن يخص من يشاء منهم .
المحيط البرهاني(142/7)
وفيه أيضاً : قيم على عمارة وقف استأجر أجيراً بدرهم ودانق، وأجر مثله درهم فاستعمله في عمارة الوقف ونقد الأجرة من مال الوقف يضمن جميع ما نقد لأن الاجارة وقعت له .
أحكام الوقف(215)
قلت - أرأيت رجلا في يديه أرض موقوفة وهو القائم بأمرها أيستأجر فيها الإجراء في عملها وحفظها - قال - هذا جائز والأجر من الغلة -قلت - وكذلك إذا استاجر في حفر سواقيها وتنقية خرابها - قال ـ نعم هذا كله جائز وينبغى للقائم بأمر هذه الصدقة أن يفعل ذلك إذا كانت تحتاج إلى ذلك. وللقائم بأمر الوقف أن يستأجر الإجراء في عملها وحفر سواقيها وسائر ما يرجع الى مصالحھا اذا كانت تحتاج إليها.
ظہوراحمد
دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی
23 ذوالحجہ 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | ظہوراحمد ولد خیرداد خان | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


