| 90625 | اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائل | کرایہ داری کے جدید مسائل |
سوال
محترم مفتی صاحب! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ عرض یہ ہے کہ میری ایک ادارے میں تقرری ہوئی تھی۔ تقرری کے وقت ادارہ کی طرف سے مجھے یہ بتایا گیا کہ ابتدائی طور پر مجھے تین ماہ کے لیے بطور پروبیشن رکھا جائے گا، اور اس دوران میری ماہانہ تنخواہ 37,000 روپے مقرر کی گئی۔ نیز اس کے ساتھ یہ بھی واضح طور پر طے پایا تھا کہ تین ماہ مکمل ہونے کے بعد میری تنخواہ میں اضافہ کر دیا جائے گا اور یہ اضافہ 50,000 سے 55,000 روپے ماہانہ تک ہوگا۔ تقرری کے وقت ادارے کے ساتھ اعتماد، حسنِ ظن اور باہمی احترام کی فضا تھی۔ الحمد للہ میں نے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری کے ساتھ ادا کیں اور اب اس تقرری کو ایک سال سے زائد عرصہ گزر چکا ہے، لیکن ادارہ کی طرف سے تاحال میری تنخواہ میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا۔ میں نے اس معاملہ میں کئی مرتبہ ادارہ کو یاد دہانی بھی کرائی ہے اور متعدد بار باقاعدہ درخواست بھی دی ہے، مگر اس کے باوجود تنخواہ میں اضافہ نہیں کیا گیا۔ مزید یہ کہ ادارہ نے صرف میرے ساتھ ہی نہیں بلکہ میرے ساتھ دیگر کئی افراد کے ساتھ بھی اسی نوعیت کی بات چیت کی اور اس کی کئی بار یقین دہانی بھی کروائی، اور ادارہ نے کچھ دیگر افراد کے ساتھ اپنے معاہدے کو پورا بھی کیا ہے، لیکن میرے ساتھ کچھ دیگر افراد بھی ہیں جن کے ساتھ کیے گئے معاہدے کو پورا نہیں کیا جا رہا۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورتِ مسئولہ میں اگر کمپنی اور ملازم کے درمیان یہ معاہدہ ہوا تھا کہ تین ماہ بعد تنخواہ میں اضافہ کیا جائے گا، تو ادارے اور ملازم کے درمیان طے پانے والایہ معاہدہ اور تنخواہ میں اضافے کا وعدہ دونوں پر لازم ہے، جس کی پاسداری کرنا دونوں پر شرعاً واجب ہے، جس کو پورا نہ کرنا بدعہدی اور گناہ کبیرہ ہے،جس سے بچنا بہرصورت لازم ہے۔
لہٰذا اگر واقعتا ملازم نے پروبیشن کی مدت اور دیگر شرائط کو دیانت داری سے پورا کر دیا ہے، تو ادارے کے لیے اپنے وعدے کے مطابق تنخواہ میں اضافہ کرنا لازم ہے۔ اگر ادارہ اپنی ذمہ داری پورا نہیں کرتا، تو ملازم کے پاس پاکستانی قانون کے تحت قانونی راستے بھی موجود ہیں، جس کے لیے کسی وکیل سے مشورہ لیا جاسکتا ہے۔
واضح رہے کہ جب تک ادارہ باقاعدہ طور پر تنخواہ میں اضافہ نافذ نہیں کر دیتا، تب تک شرعی طور پر موجودہ مقررہ تنخواہ کے علاوہ زائد رقم ادارے کے ذمے آپ کا قرض یا قابلِ وصول مالی حق شمار نہیں ہوگی۔
حوالہ جات
صحیح ابن حبان – 194
أخبرنا أبو يعلى ، حدثنا الحسن بن الصباح البزار ، حدثنا مؤمل بن إسماعيل ، عن حماد بن سلمة ، عن ثابت ، عن أنس بن مالك ، قال : خطبنا رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال في الخطبة : " لا إيمان لمن لا أمانة له ، ولا دين لمن لا عهد له " .
رد المحتار على الدر المختار(547/7)
ثم إن ذكرا الفسخ فيه أو قبله أو زعماه غير لازم كان بيعاً فاسداً ولو بعده على وجه الميعاد جاز ولزم الوفاء به، لأن المواعيد قد تكون لازمة لحاجة الناس، وهو الصحيح كما في الكافي والخانية، وأقره خسرو هنا والمصنف في باب الإكراه وابن الملك في باب الإقالة بزيادة وفي الظهيرية.
بحوث في قضايا فقهية معاصرة (46/1)
أما على أصل الحنفية فإن الوعد غير لازم في القضاء، ولكن صرّح فقهاء الحنفية بأن بعض المواعيد قد تجعل لازمة لحاجة الناس فعلى هذا الأساس أرجو أن هناك مجالاً للقول بلزوم هذا التبرع المقترح، سدّاً لباب المُماطلة، وصيانة لحقوق الناس عن اعتداء المعتدين.
https://sindhlaws.gov.pk/setup/publications_SindhCode/PUB-NEW-18-000186.pdf [Date Accessed – 18-05-2026]
Clause 2 (Definitions) (m: wages): means all remuneration, capable of being expressed in terms of money, which would, if the terms of the contract of employment, express or implied were fulfilled, be payable whether conditionally upon the regular attendance, good work or conduct or other behaviour of the person employed or otherwise, to a person employed in respect of his employment or of work done in such employment and includes any bonus or other additional remuneration of the nature aforesaid which would be so payable and any sum payable to such person by reason of the termination of his employment …
ظہوراحمد
دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی
23 ذو الحجہ 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | ظہوراحمد ولد خیرداد خان | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


