| 90805 | پاکی کے مسائل | استنجاء کا بیان |
سوال
مجھے پیشاب کرنے کے بعد کچھ دیر تک قطرے /تری آتی ہے اس صورت میں مجھے کتنی دیر انتظار کرنا چاہیے؟ کیا پندرہ پندرہ منٹ پیشاب کرنے کے بعد ٹوائلٹ میں بیٹھے رہنا چاہیے؟ ایسے انتظار میں مجھے سخت دشواری محسوس ہوتی ہے اور اس وجہ سے میں پیشاب کرنے سے کتراتا ہوں ۔استبراء سے متعلق آ پ کی کیا رائے ہے میں نے Youtube پر اس سے متعلق ایک ویڈیو دیکھی ہے اور کئی دفعہ عضو تناسل کو جھٹکے دینے اور مروڑنے سے مجھے بعد میں تکلیف محسوس ہوئی ،لیکن میں پھر بھی استبراء کرتا ہوں ۔مجھے یہ جاننا ہے کہ کس حد تک استبراء کرنا چاہیے؟ میں نے اپنے نماز کے اور گھر کے کپڑے الگ کر رکھے ہیں کیا اس کے باوجود میں پیشاب کی چھینٹوں سے متعلق اور قبر میں عذاب والی حدیث کی زد میں آتا ہوں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
پیشاب کے بعد اتنی دیر ٹھہرنا کافی ہے کہ قطرے بند ہونے کا اطمینان ہو جائے۔ اور یہ اطمینان ایک صحت مند آدمی کو چند منٹ میں حاصل ہوجاتا ہے ۔استبراء کے لیے کچھ دیر انتظار کرنا کہ قطرے باہر آجائیں کافی ہے، دیر تک بیٹھے رہنے سے انسان وہم اور وساوس میں پڑ جاتا ہے، جو پسندیدہ نہیں ۔ اگر کسی کو وقفے وقفے سے قطرے آتے رہتے ہیں تو اسے چاہیے کہ ایک بار قطرے رکنے پر زیر جامہ ٹشو پیپر رکھ کر اُٹھ جائے اور وضو کر ے ۔نماز کے کپڑے الگ رکھنے کی وجہ سے آپ کی نماز ہوجائے گی لیکن پھر بھی پیشاب سے بچنا چاہیے تاکہ جسم پر نجاست نہ لگے اس کی کوشش کرتے رہیں گے تو ان شاءاللہ عذاب قبر والی حدیث کی وعید میں نہیں آ ئیں گے ۔
حوالہ جات
الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية(1/ 49):
والاستبراء واجب حتى يستقر قلبه على انقطاع العود
حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي (1/ 344):
ومحله إذا أمن خروج شيء بعده فيندب ذلك مبالغة في الاستبراء أو المراد الاستبراء بخصوص هذه الأشياء من نحو المشي والتنحنح، أما نفس الاستبراء حتى يطمئن قلبه بزوال الرشح فهو فرض وهو المراد بالوجوب، ولذا قال الشرنبلالي: يلزم الرجل الاستبراء حتى يزول أثر البول ويطمئن قلبه.
المبسوط» للسرخسي (1/ 54):
ولم يرد به بول نفسه فإن من لا يستنزه منه لا تجوز صلاته،
وسیم اکرم بن محمد ایوب
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
01/محرم الحرام /1448ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | وسیم اکرم بن محمد ایوب | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


