| 90729 | نماز کا بیان | تراویح کابیان |
سوال
ہمارے علاقے میں لوگ قاری صاحبان کو تراویح پڑھانے کی اجرت دیتے ہیں،خواہ چھوٹی سورتوں کے ساتھ ہو یاپورا قرآن پاک،اور اس کی دلیل دیتے ہیں کہ یہ ان کے وقت کی قیمت ہے ،اس کا حکم شرعی بتادیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
تراویح میں قرآن مجید سناکر اجرت لینا یا مسجد والوں کا خود اپنی مرضی سےاجرت دینا جائز نہیں ، لینے اور دینے والے دونوں گناہ گار ہوں گے اورثواب بھی نہیں ملے گا، تاہم اگر کسی جگہ یہ ہدیہ لینا اوردینا معروف اور مشروط نہ ہو، کسی نے ذاتی طور پر کچھ دے دیا ،تو وہ ہدیہ لینے کی گنجائش ہے، لیکن اس سے بھی بچنا بہتر ہے۔
اگرقرآن مجید سنانے والے کو رمضان المبارک میں تمام نمازوں یا ایک دو نماز کے لیے نائب امام بنا دیا جائےتو رمضان کے آخر میں تنخواہ کے نام پر طے کردہ تنخواہ دینا درست ہوگا۔
واضح رہے کہ متأخرین فقہا ء نے قرآن اور دینی تعلیم کے پڑھانے پر اجرت کے جواز کا قول ضروت کی بنا ءپر اختیار کیا ہے،تاکہ دین اور دینی شعائر محفوظ رہ سکیں ، مذکورہ حضرات اگر طلبِ معاش کے لیے مصروف ہوجاتے ہیں تو دین اور دینی شعائر ضائع ہونے کا اندیشہ ہےتو اس صورت میں فقہا ءکرام نے وقت کےعوض اجرت کو جائز قرار دیا ہے۔تراویح پڑھانے والے کا تراویح کی نماز کو دیگر دینی خدمات (امامت،تعلیمِ قرآن وغیرہ) کی اجرت لینے پر قیاس کرنا درست نہیں ،کیوں کہ تراویح میں ایک بار قرآن کریم مکمل کرنا سنت ہے،فرض یا واجب نہیں ہے، جہاں کہیں کوئی حافظ میسر نہ ہو، وہاں مختصر سورتوں کے ساتھ تراویح ادا کی جاسکتی ہے،اس لیے تراویح کی نماز میں قرآن مجید سنا کر اجرت لینااور لوگوں کے لیے اجرت دینا ، دونوں ناجائز ہے،لینے اور دینے والے دونوں گنہگار ہوں گے اور ثواب بھی نہیں ملے گا۔(تبویب:81211)
حوالہ جات
مصنف ابن أبي شيبة (2/ 400):
قال : حدثنا سفيان ، عن واقد ، عن زاذان ، قال سمعته يقول : من قرأ القرآن يأكل به جاء يوم القيامة ووجهه عظم ليس عليه لحم.
حاشية ابن عابدين (6/ 56):
فالحاصل أن ما شاع في زماننا من قراءة الأجزاء بالأجرة لا يجوز، لأن فيه الأمر بالقراءة وإعطاء الثواب للآمر والقراءة لأجل المال فإذا لم يكن للقارىء ثواب لعدم النية الصحيحة فأين يصل الثواب إلى المستأجر ولولا الأجرة ما قرأ أحد لأحد في هذا الزمان بل جعلوا القرآن العظيم مكسبا ووسيلة إلى جمع الدنيا . إنا لله وإنا إليه راجعون.
حاشية ابن عابدين (6/ 56):
واختلفوا في الاستئجار على قراءة القرآن مدة معلومة قال بعضهم :لا يجوز وقال بعضهم: يجوز وهو المختار اه والصواب أن يقال على تعليم القرآن فإن الخلاف فيه كما علمت لا في القراءة المجردة فإنه لا ضرورة فيها.
سید نوید اللہ
دارالافتاء،جامعۃ الرشید
08/ محرم 1448ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید نوید اللہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


