03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مدرسہ کی گاڑی کو ذاتی استعمال میں لانے کاحکم
90945وقف کے مسائلمدارس کے احکام

سوال

 کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مسئلہ ذیل کی بابت : کیا مدرسہ کے مصالح عامہ کیلئے خریدی ہوئی کار کو مہتمم کا وقتا فوقتا اپنے ذاتی کام کیلئے استعمال کرنا جائز ہے  ؟ ٢. بسااوقات مہتمم کی فیملی وغیرہ کا اس سے سفر کرنا کیسا ہے ؟ (اگر چہ ذاتی کام کے استعمال کے وقت پٹرول کا خرچہ اپنی ذاتی جیب سے دیتا ہو) ؟ ٣ . تو کیا حکم ہے اگر مدرسے کی منتظمہ کمیٹی اور شوری کی اجازت اس کو شامل ہے ؟  ٤. اور اگر شوری کے علم میں یہ بات نہ ہو اس صورت میں کیا مسئلہ ہوگا ؟ براہ کرم مندرجہ بالا مسائل کا جواب عنایت فرما کر مشکور ہوں .

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مہتمم صاحب عرف کے مطابق بقدرِ ضرورت کار کو ذاتی استعمال میں لا سکتے ہیں ۔ ان کے گھر کے افراد بھی خود مہتمم صاحب کے حکم میں ہیں  تو وہ بھی اسی ضابطہ کے تحت عرف کے مطابق استعمال کرسکتے ہیں ۔ اور اگر عرف واضح نہ ہو تو شوری کے مشورے سے ہی  استعمال کرسکتے ہیں ۔

  بہتر یہ ہے کہ شوریٰ اس بات کا جائزہ لے کر کہ مہتمم صاحب کو گاڑی کے استعمال کی کس قدر ضرورت ہے، زیادہ استعمال ادارے کے کام کے لیے ہوگا یا ذاتی کام کے لیے، کوئی مستقل نظم طے کر دے۔

حوالہ جات

«البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري» (5/ 270):

«وفي القنية من آخر الوقف بعث شمعا في شهر رمضان إلى مسجد فاحترق وبقي منه ثلثه أو دونه ليس للإمام ولا للمؤذن أن يأخذ بغير إذن الدافع ولو كان العرف في ذلك الموضع أن الإمام والمؤذن يأخذه من غير صريح الإذن في ذلك فله ذلك اهـ.»

«البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري» (7/ 168):

«وفي منية المفتي أقسام المتصرفين تصرف الأب والجد والوصي ومتولي الوقف لا يجوز إلا بمعروف أو بغبن يسير»

«الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار» (ص372):

 (ويبدأ من غلته بعمارته) ثم ما هو أقرب لعمارته كإمام مسجد ومدرس مدرسة يعطون بقدر كفايتهم ثم السراج والبساط كذلك إلى آخر المصالح»

«الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار» (ص380):

«ليس للقاضي أن يقرر وظيفة في الوقف بغير شرط الواقف، ولا يحل للمقرر الاخذ  إلا النظر على الواقف بأجر مثله.قنية.تجوز الزيادة من القاضي على معلوم الامام إذا كان لا يكفيه وكان عالما تقيا، ثم قال بعد ورقتين: والخطيب يلحق بالامام، بل هو إمام الجمعة.»

عبدالغفاربن غلام اکبر

 دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

١١/محرم الحرام/١٤٤٨ 

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبدالغفار بن غلام اکبر

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب