03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بھائی کے کاروبار میں بغیر کسی عقد کے شرکت قائم کرنے کاحکم
90892شرکت کے مسائلشرکت سے متعلق متفرق مسائل

سوال

دو بھائیوں کے درمیان پیسوں کے لین دین کا معاملہ ہے۔ بڑا بھائی سخت بیماری کی حالت میں بیرون ملک رہائش پذیر تھا اور اپنے ذاتی کاروبار کو کامیابی سے چلا رہا تھا۔ جب کہ چھوٹا بھائی بھی کسی اور غیر ملک میں رہائش پذیر تھا، نوکری کر رہا تھا اور اُس ملک کے حالات کی وجہ سے پریشان تھا۔ دونوں بھائیوں کی والدہ وفات پا چکی تھیں۔

بڑا بھائی سخت بیماری اور مسلسل آپریشنوں کی وجہ سے زندگی و موت کی کشمکش میں مبتلا رہتا تھا۔

بڑے بھائی کی سخت بیماری نے اُسے اچھے اور برے انسانوں کی پہچان ختم کر دی تھی۔ یعنی سخت بیمار انسان کی لوگوں کے اچھے برے ہونے کی پہچان وتمیز کمزور ہو جاتی ہے، بیمار شخص ہر ایک کی بات پر بھروسہ کرنے لگتا ہے۔

اب چھوٹے بھائی کے اپنے ملک کے حالات خراب تھے۔ اُس کے کہنے کے مطابق اُسے والد صاحب نے کہا کہ بڑے بیمار بھائی کے پاس اُس کے ملک میں چلے جاؤ۔ بڑے بیمار بھائی کو یاد پڑتا ہے کہ اُسے چھوٹے بھائی نے اپنی پریشانیاں بتائی تھیں، تو اُس نے ہمدردی اور خدا ترسی کے طور پر اُسے کہا کہ میرے پاس آجاؤ۔

چھوٹا بھائی اپنا غیر ملک چھوڑ کر بڑے بھائی کے پاس آگیا۔ بڑے بھائی نے ہمدردی اور چھوٹا بھائی ہونے کے ناطے اُس کو رہائش دی اور اُس کے تمام اخراجات کچھ مہینے برداشت کیے۔ اس وقت چھوٹا بھائی قرضے کے تلے دبا ہوا تھا اور اُس کے پاس کوئی مناسب (وسائل) نہیں تھے۔

اب جب چھوٹا بھائی بڑے بھائی کے پاس رہ رہا تھا اور اُس کے کوئی اسباب نہ تھے، تو بڑے بھائی نے اُس کو اپنے کاروباری خریداروں کے پاس مال دے کر بھیجنا شروع کر دیا۔ بڑے بھائی نے تھوڑے عرصے کے بعد محسوس کیا کہ ایک تھوک (ہول سیل) دکان کھول لی جائے، تاکہ اُس کا چھوٹا بھائی وہاں کھڑے ہو کر بڑے بھائی کا مال بیچ سکے۔ اس سے پہلے بڑا بھائی مختلف ہول سیل اور ریٹیل کی دکانوں پر اپنا مال کامیابی سے بیچ رہا تھا، اور اپنا رزق بضرورتکما بھی رہا تھا اورمناسب اچھی زندگی بھی گزار رہا تھا۔ اس میں اہم بات یہ ہے کہ چھوٹے بھائی کو بڑے بھائی کے ملک میں کام کرنے کی اجازت نہیں تھی اور صرف آنے جانے، ملنے اور چند مہینے ٹھہرنے کی اجازت ہوتی تھی۔

بڑے بھائی کا کاروبار کئی سالوں سے کامیابی سے چل رہا تھا، اُس کو چھوٹے بھائی کی مدد یا پیسوں کی قطعاً ضرورت نہ تھی۔ چھوٹے بھائی کو کاروبار کی الف ب بھی معلوم نہیں تھی۔ بس جو بڑا بھائی کہتا تھا، وہ جا کر تھوک دکان پر کھڑا ہو جاتا تھا اور بڑے بھائی کی رہنمائی میں کام کرتا رہتا تھا۔

اب صورتحال یوں ہو گئی کہ بڑے بھائی کے ساتھ چھوٹے بھائی کی کاروبار میں شمولیت ہو گئی۔ بڑا بھائی اپنی بیماری سے بھی لڑ رہا تھا، تو ہمدردی کے طور پر اُس نے چھوٹے بھائی کو اپنی دکان میں بغیر کچھ سوچے سمجھے ہمدردی میں کھڑا کیا۔ بڑے بھائی نے کبھی نہ سوچا اور نہ کبھی چھوٹے بھائی کو کہا کہ آپ میرے کاروبار میں کچھ حصے یاآدھے حصے کے مالک بن گئے ہیں۔ دنیاوی طور پرچھوٹا بھائی کاروبار میں حصے دار ہو بھی نہیں سکتا تھا کیونکہ تمام کاروبار قانونی طور پر اور کاغذات میں بڑے بھائی کا تھا۔

کاروبار کا مال بڑا بھائی بناتا تھا اور اُس کا تجربہ بھی اُسی کو تھا۔ چھوٹے بھائی کی ایک مال بیچنے والے کی ڈیوٹی تھی کہ بڑے بھائی کے منگوائے ہوئے مال کو دکان پر بیچے اور شام کو حساب دے۔ چھوٹا بھائی بھی اپنا کام محنت اور ایمانداری سے کرتا تھا۔

بڑے بھائی نے اپنے چھوٹے بھائی پر بھروسہ کر کے مال کے آنے جانے کا کبھی حساب نہیں رکھا۔ دونوں بھائیوں کے دو ماموں اُس وقت وہاں اُسی شہر میں موجود تھے اور تمام حالات کو دیکھ رہے تھے۔ ان میں سے کسی ماموں نے یا بڑے بھائی کے ایک دوست نے اُس کو کہا  تھا کہ "چھوٹے بھائی سے اپنا مال بچاؤ"۔ بڑا بھائی جس کے بہت آپریشن بھی ہوچکے تھے اور سخت بیمار تھا، وہ توقع نہ کرتا تھا کہ چھوٹا بھائی اس   کے    ساتھ کیا معاملہ  کرے گا ، تو وہ کہنے والوں کو کہا کرتا تھا کہ "خیر ہے، چھوٹا بھائی ہے، مارے گا تو چھاؤں میں پھینکے گا"۔ اور بڑا بھائی اپنے ملازمین کو بھی کہا کرتا تھا کہ "اگر میں مرگیا تو میرے مرنے کے بعد میرا مال چھوٹے بھائی کو دے دینا" لیکن یہ کبھی نہیں کہا کہ چھوٹا بھائی میرے آدھے کاروباری حصے کا مالک ہے یا مالک ہو گا۔ چونکہ اُس وقت بیمار بڑے بھائی کی کوئی فیملی یا اولاد نہ تھی، تو کہا کرتا تھا کہ میرا مال چھوٹے بھائی کو میرے مرنے کے بعد دے دینا۔

اب سارا کاروبار، مال بنانے کی صلاحیت اور تجربہ اُس بڑے بھائی کا تھا۔ اور چھوٹا بھائی تھوک (ہول سیل) میں کھڑے ہو کر بڑے بھائی کے مال کو بیچتا تھا۔ بڑے بھائی کا مال مارکیٹ میں پہلے سے پرانے خریداروں کو بھی جاتا تھا اور اُس کا روپیہ بھی مارکیٹ میں جگہ جگہ سے لینا ہوتا  تھا، جو کہ بڑا بھائی وصول کیا کرتا تھا۔

چھوٹا بھائی بڑے بھائی کے ملک کا پکا ویزا نہ لیتا تھا، کیونکہ پکا ویزا بننے کی صورت میں چھوٹے بھائی کو اُس کا کوئی فائدہ نہ تھا۔ بڑا بھائی جس کا کاروبار تھا، تمام ذمہ داریاں، کاروباری ٹیکس، سیلز ٹیکس کے حسابات، مسائل، کاروبار کے مسائل، تھوک (ہول سیل) دکان کے کرائے اور قانونی کارروائیاں جو ہر کاروبار کا حصہ ہوتی ہیں، تمام کاروبار بڑے بھائی کے نام ہونے کی صورت میں وہ تمام ذمہ داریاں اُسی بڑے بھائی کی تھیں۔

چھوٹا بھائی سمجھدار تھا۔ اُس نے پکا ویزا نہ لیا تاکہ کسی بھی قسم کے مسائل میں ذمہ داری اُس پر نہ آئے اور نہ ہی کسی کاروباری معاملے میں کمی و بیشی پر ۔

شروع کے مہینوں میں چھوٹے بھائی کے رہائش،نقل وحرکت اور کھانے پینے کے تمام اخراجات بڑے بھائی کے پہلے سے موجود کاروبار میں سے ہی چل رہے تھے۔ اسی اثناء میں والد صاحب نے ایک گھر خرید کر دونوں کو دیا۔ جس میں گھر کی قیمت کا کچھ حصہ والد صاحب نے دیا، باقی گھر سودی قرضہ پر خریدا گیا۔ والد صاحب کے کہنے کے مطابق گھر دونوں کے لیے خریدا گیا۔ گھر کی مرمت و تزئین پر بھی بڑے بھائی کے پہلے سے موجود کاروبار میں سے پیسے خرچ کیے گئے۔

بڑا بھائی اس تمام عرصے میں کاروبار بھی کر رہا تھا اور اپنا مستقل علاج اور مختلف آپریشن بھی کروا رہا تھا۔ بہرحال دونوں کاروبار کی محنت میں لگ گئے۔ بڑا بھائی مارکیٹ کو دیکھتا اور مال بناتااور منگواتا، جب کہ چھوٹا بھائی تھوک دکان پر جا کر کھڑا ہو جاتا اور مختلف خریداروں کو مال بیچتا۔ بڑا بھائی آپریشنوں کے دنوں میں کچھ دن گھر سے مال بناتا یعنی آرڈر دیتا اور پلان بناتا۔ جب آپریشن سے صحت بہتر ہوئی تو تقریباً ہر روز تھوک (ہول سیل) کی دکان پر ہی جاتا۔

بڑے بھائی کو ہر دوسرے دن ہسپتال بھی جانا پڑتا تھا۔ ہسپتال رات کو جانا ہوتا تو بڑا بھائی شام ساڑھے ۵ بجے تھوک (ہول سیل) دکان سے ہسپتال نکل جاتا، جب کہ دکان تقریباً ۶اور سات بجے تک چھوٹا بھائی موجود رہتا۔ اسی اثناء میں چھوٹا بھائی پاکستان بھی چلا جاتا خاص طور پر اس دوران اپنی شادی کے لیے بھی چلا گیا۔ تمام اخراجات چھوٹا بھائی بڑے بھائی کے کاروبار سے کرتا اور بڑے بھائی کی طرف سے بھی پابندی نہیں تھی، جو چاہے خرچ کرے۔ اسی دوران بڑا بھائی مختلف لوگوں کی مالی امداد نیکی سمجھ کر کرتا رہتاجن میں زیادہ تر لوگ مختلف حیلے بہانے سے بڑے بھائی کی بیماری، سادگی اور کمزوری سے فائدہ اُٹھا کر اینٹھتے رہتے۔

اس دوران چھوٹے بھائی نے بڑے بھائی کے کاروبار کے منافع میں سے اپنا وہ قرضہ بھی واپس کیا جو اُس نے اُس ملک میں لیا تھا جہاں کا وہ اصل رہائشی باشندہ تھا۔ بڑے بھائی کی طرف سے کوئی اعتراض نہ تھا کیونکہ جیسا کہ پہلے عرض کیا گیا ہے کہ بڑا بھائی زندگی و موت کی کشمکش میں روزانہ کی بنیاد پر رہتا تھا۔ اُس کو روپے پیسے کی اتنی پرواہ نہیں تھی۔ بس زندہ تھا، اور اتنا معلوم تھا کہ محنت کر کے کھانا ہے کیونکہ کوئی کسی کو پیسے نہیں دیتا۔ اس لیے بڑا بھائی بیماری میں بھیمسلسل محنت میں جتا رہتا تھا۔ اور چھوٹا بھائی بھی محنت سے بڑے بھائی کی تھوک دکان پر جاتا اور سارا دن کام کر کے مال بیچتا تو شام کو گھر آ جاتا۔

سخت بیماری کی پریشانی کی وجہ سے بڑے بھائی نے کبھی نہیں سوچا کہ اگر وہ زندہ رہا تو چھوٹا بھائی اس کے کاروبار میں کام کر رہا ہے تو اس کے کام کی حیثیت کیا ہو گی؟ کیا کوئی حصہ داری ہوگی یا تنخواہ ہوگی۔ بڑے بھائی کے پرانے ملازم بتاتے ہیں کہ آپ کہا کرتے تھے کہ جب تک میں زندہ رہوں دونوں کھائیں پیئں اور میرے مرنے کے بعد سب چھوٹے بھائی کو دے دیں۔ لیکن چھوٹا بھائی اپنی زندگی کے معاملاتمیں مصروف تھا، بجائے اس کے وہ بڑے بھائی سے پوچھتا کہ میرا کاروبار میں کیا حصہ ہو گا، وہ خاموشی سے دکان پر کھڑا ہو کر مال بیچتا رہا۔ بڑے بھائی نے ہی اس کو مال بیچنا سکھایا، کاروباری مال کی بھی سمجھ بتائی۔

بڑا بھائی کاروبار کا مالک تھا، اپنے فیصلے خود کرتا تھا۔ اس نے دو تینپرچون دکانیں بھی کرائے پر لے لیں، جن میں سے شاید ایک ہی پرچون کی دکان بچ گئیتھی۔ اس پرچون دکان پر بڑے بھائی نے ایک سیلزمین ملازم تنخواہ پر رکھ لیا اور اپنی تھوک دکان سے مال پرچون پر دے کر بھی بیچنا شروع کر دیا۔ بڑے بھائی نےپرچون کی دکان اپنے نام لی۔ تمام قانونی کاروباری کاغذوں پر دستخط کیے، باہر کے ملکوں میں پرچون کی دکان کی ذاتی گارنٹی بھی دی جاتی ہے جو کہ بڑے بھائی نے ذاتی طور پردی، کیونکہ وہ کرائے پر دکان لے رہا تھا ۔

پرچون کا ملازم بڑے بھائی کو سارا حساب دیتا تھا۔ اس اثناء میں بڑے بھائی نے محسوس کیا کہ چھوٹے بھائی کو بڑے بھائی کا تھوک دکان پر آنا اچھا نہیں لگ رہا۔ اس تمام عرصے میں چھوٹا بھائی عموما ناراض رہتا  اور گھر میں بھی کوئی اضافی بات نہ کرتا۔ بڑا بھائی ان باتوں کی طرف توجہ نہ کرتا اور چھوٹا بھائی سمجھتے ہوئے درگزر کرتا۔ اس اثناء میں بڑے بھائی کو کبھی بھی چھوٹے بھائی نے ہسپتال کےوارڈز میں آپریشنوں کے دنوں میں جا کر نہ پوچھا، نہ ہی کبھی خیریت دریافت کی کہ کوئی شے کی ضرورت تو نہیں۔

بڑے بھائی کا طریقہ کار یہ تھا کہ چھوٹے بھائی کے آنے سے پہلے جو بھی مال بیچتا، اس کا منافع والد صاحب کو بھیج دیتا تاکہ پاکستان میں مسجد بنائی جا سکے جو کہ بن گئی۔ اب چھوٹے بھائی کے آ جانے کے بعد بھی منافع کی رقم والد صاحب کو بھیج دیتا کیونکہ بڑے بھائی کے ذہن میں مسجد کے ساتھ ایک زمین خرید کر ایک تجارتیعمارت بنانے کا ارادہ تھا۔

بہرحال تقریباً دو یا اڑھائی سال کے بعد چھوٹا بھائی اچانک بڑے بھائی کو بتائے بغیر والد صاحب کے پاس چلاگیا۔ ان دنوں میں بڑا بھائی ہمیشہ کی طرح اپنی سخت بیماری کاٹ رہا تھا۔ چھوٹے بھائی نے تقریباً سوا سال تو بڑے بھائی کے کاروبار کے منافع کےپیسے والد صاحب سے لے کر استعمال کیے۔ پاکستان میں پلاٹوں کے کاروبار کیے۔ خاص اہم نکتہ یہ ہے کہ چھوٹا بھائی بڑے بھائی کو بتائے بغیر اچانک والد صاحب کے پاس پاکستان چلا گیا، جبکہ بڑے بھائی کیتھوک دکان (ہول سیل دکان) والے ملازم کو چھوٹا بھائی بتا کر گیا تھا کہ میں اب نہیں آؤں گا۔ یہ نکتہ اہم ہے، جس سے چھوٹے بھائی کی پلاننگ کوظاہر کرتی ہے ۔

والد صاحب سادہ اور ایماندار آدمی ہیں، انہوں نے چھوٹے بھائیکے مانگنے پر بڑے بھائی کےمنافع کے پیسےچھوٹے بھائی کو دے دیے اور بڑے بھائی کو کوئی خبر نہ ہوئی، نہ ہی خبر دی گئی۔ والد صاحب سادگی میں سمجھے کہ بڑا بھائی جو بیمار ہے سفر نہیں کر سکتا، اس کو چھوٹا بھائی بتا کر آیا ہے جبکہ ایسا نہیں تھا۔ چھوٹا بھائی ان منافع کی رقوم سےسے پاکستان میں پلاٹوں کا کاروبار کرتا رہا ۔ پھر تقریباً سوا سال کے بعد والدہ مرحومہ کے گھر کو پاکستان میں چھوٹے بھائی نے خریدا جس میں بڑے بیمار بھائی کا وراثت کا حصہ بھی تھا۔ چھوٹے بھائی نے بڑے بھائی کے والدہ صاحبہ والے گھر کے حصے میں ساڑھے اکیس لاکھ تقریباً کاٹ لیے اور تقریباً ساڑھے دس لاکھ بڑے بھائی کو بھجوا دیے۔ بھجوانے سے پہلے والد صاحب سے پاکستان جانے کےتقریباً سوا سال کے بعد فون کروایا۔

والد صاحب کے الفاظ بڑے بھائی کو درج ذیل ہیں کہ: "بیٹا، تمہارا چھوٹا بھائی اب تمہارے پاس نہیں آ رہا اور یہ تمام پیسے جو تمہارے کاروبار کے منافع کے میرے پاس موجود ہیں، یہ اس نے خود ہی آدھے کاروبار کا مالک سمجھ کر حساب کر کے لے لیے ہیں بشمول والدہ صاحبہ مرحومہ کے گھر کے تقریباً ساڑھے اکیس لاکھ روپے کاٹ لیے ہیں اور تمہیں یہ تقریباً ساڑھے دس لاکھ روپے بھیج رہا ہے۔"

بڑا بھائی بیماری میں انتہائی پریشان حال رہا کرتا تھا۔ وہ اکیلا بھی تھا اور حالات کے تھپیڑوں کے ہاتھوں لاچار بھی تھا۔ اس کو کچھ خیال نہ گزرا تھا کہ اس کے ساتھ کیا معاملہ ہوگیا اور وہ اپنی زندگی میں پھر مصروف ہو گیا۔ اب تقریباً اکیس یا بائیس سال کے بعد یہدونوں بھائی آپس میں بات کر رہے تھے تو چھوٹے بھائی سے ایک ایسا جملہ غرور میں نکل گیا، جو کہ بڑا بھائی، جس پر اللہ نے رحم کیا ہے اور صحت بہت بہتر ہو گئی ہے، اس غرور والے جملے نے بڑے بھائی کو ماضی یاد دلا دیا، جب بڑے بھائی نے تاریخ کو کریدا تو آشکارا ہوا کہ اس کے مال کو چھوٹا بھائی والد صاحب سے غلط بیانی کر کے لے گیا ہے ۔

بڑا بھائی پاکستان آیا اور اپنے مال کا حساب مانگا۔ شکر ہے کہ والد صاحب اور بڑا بیمار بھائی حیات ہیں، جب مال کا حساب مانگا تو چھوٹا بھائی گھبرا گیا، کبھی کوئی رقم بتائے اور کبھی کوئی۔ بہرحال بڑے بھائی نے کہا کہ میں اپنا حق نہیں چھوڑوں گا، تھوڑی تلخ کلامی ہوئی، بہرحال اگلے دن چھوٹا بھائی بڑے بھائی کے پاس اس مکان میں آ گیا جہاں وہ بڑا بھائی ٹھہرا ہوا تھا، اور کہا: ”میں اللہ کے لیے آیا ہوں اور نہیں چاہتا کہ میرے بعد میرے بچوں پر کوئی بات آئے۔“ بڑے بھائی نے کہا کہ ”یہ بات بتائیے کہ آپ نے میرا مال والد صاحب سے کیوں لیا؟ جبکہ میں نے آپ کو آدھے حصے کا مالک کبھی نہیں بنایا تھا؟“ تو جواب آیا کہ ”میں نے فرض کر لیا تھا کہ میں ہی آدھے مال کا مالک ہوں۔“ بڑے بھائی نے کہا کہ ”اگر آپ نے فرض بھی کر لیا تھا تو کیا آپ نے مجھ سے پوچھا؟“ جواب دیا کہ ” نہیں“، پھر بڑے بھائی نے پوچھا کہ ”اچھا، اگر فرض بھی کر لیا تھا تو خود فون کیوں نہیں کیا اور والد صاحب سے فون کیوں کروایا؟“ کوئی جواب نہ آیا۔ بڑے بھائی نے کہا کہ ”یہ حرکت آپ کی غلط نیتکو ظاہر کرتی ہے۔“ اب بڑے بھائی نے پوچھا، ”اچھا فرض بھی کر لیا تھا کہ آپ اپنے آپ کو آدھے حصے کا مالک سمجھ رہے تھے، تو بتائیے کہ تقسیم کیسے کی؟“ جواب ملاحظہ فرمائیے:

1۔ میں جب آپ کے پاس آیا تھا تو میں نے نو ہزار آپ کے کاروبار میں حصہ ڈالا تھا۔“ بڑے بھائی نے کہا، یاد تو نہیں، لیکن ضرور دیے ہوں گے، نو ہزار جو کہ پاکستانی حساب سے ان دنوں میں تقریباً آٹھ یا نو لاکھروپے بنتے تھے۔ بڑے بھائی نے کہا کہ نو ہزار تو تقریباً فلیٹ کے کرائے اور آپ کے خوراک و قیام  و دیگر اخراجات و سفری اخراجاتمیں ہی نکل گئے ہوں گے اور میں نے تو آپ سے کاروبار سے حصہ ڈالنے کے لیے کبھی بھی پیسے نہیں مانگے تھے۔ چھوٹے بھائی نے اپنی مرضی سے دیے ہوں گے اور بڑے بھائی نے بغیر کسی سوچ کے لےلیے ہوں گےلیکن قطعاً یہ خیال یا ارادہ نہیں تھا کہ اس کے بدلے چھوٹے بھائی کو کاروبار کا حصہ دار بنادیا جائے۔

اس کے علاوہ بڑے بھائی نے کہا کہ میرا تو کروڑوں کی اہمیت اور business goodwillوالا کاروبار تھا، میرے کاروبار کا مارکیٹ میں ایک مقام تھا، میرے کاروبار کے تعلقات تھے، اس میں تمہارے آٹھ یا نو لاکھ کی کیا اہمیت تھی؟ کچھ بھی نہیں۔ آپ کے آٹھ یا نو لاکھ روپے دینے سے یہ کہاں طے ہو گیا کہ آپ میرے کاروبار میں خود کو آدھے حصے کامالک سمجھنے لگ گئے۔

2۔ اگلا سوال بڑے بھائی نے یہ پوچھا کہ ”اچھا، جب آپ (یعنی چھوٹے بھائی) نے اپنے آپ کو آدھے مال کا مالک خود ساختہ، فرضی مالک سمجھ لیا تھا تو پھر والد صاحب سے بڑے بھائی کے پیسے وصول کرتے وقت خود بڑے بھائی کو، جو کہ سخت بیمار بھی تھا، فون کیوں نہ کیا کہ میں والد صاحب سے پیسے وصول کر رہا ہوں؟ بجائے خود فون کرنے کے، والد صاحب جو تمام معاملے سے بے خبر تھے، ان سے فون کیوں کروایا کہ چھوٹے بھائی اب نہیں آ رہے اور چھوٹے بھائی نے خود کو آدھے کاروبار کا مالک سمجھتے ہوئے تمام پیسے رکھ لیے ہیں۔“ جبکہ  بڑے بیمار بھائی سےچھوٹے بھائی نے خود فون پر رابطہ نہ کیا ۔

اگلا سوال بڑے بھائی نے یہ پوچھا کہ ”اچھا، جب خود ساختہ فرضی آدھے حصے کا مالک سمجھتے تھے، تو مال کی تقسیم کیسے کی؟ جواب آیا کہ یکطرفہ ہی حساب لگایا، صرف یکطرفہ اندازے لگائے کہ بڑے بھائی کے پاس یہ رقم ہو گی، گھر کی اندازے سے بغیر تحقیق کے زیادہ رقم مقرر کی اور بغیر بڑے بیمار بھائی سے پوچھے خود ہی یکطرفہ اندازہ لگایا کہ تھوک اور پرچون کی دکان میں اندازاً اتنی قیمت کا مال ہو گا اور تھوک کی دکان میں فلاں فرضی نقد رقم ہو گی اور گھر کے برتن اور سامان اندازاً  یک‎طرفہ اتنی قیمت ہو گی۔ خود ساختہ طور پر یک‎طرفہ رقوم زیادہ سے زیادہ لگا کر، والدہ مرحومہ کے پاکستان والے گھر میں سے بھی ساڑھے اکیس لاکھ روپے کاٹ لیے۔ جب کہ یہ  نہیں دیکھا کہ کاروبار کی قانونی ذمہ داریاں، کرائے، ملازمین کی تنخواہیں، مختلف بلز اور اخراجات کا کیا حساب ہوگا۔ چھوٹے بھائی نے خود نقد رقوم پر قبضہ کر لیا اور بڑے بھائی کے لیے تمام ذمہ داریاں چھوڑ دیں۔

چھوٹے بھائی کے اس سارے عمل سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کو معلوم تھا کہ بڑا بیمار بھائی بیماری کی وجہ سے سفر نہیں کر سکتا، تو تصدیق کیسے کرے گا؟

علماء کرام سے گزارش ہے کہ تمام تحریر کو بغور بار بار پڑھ لیجئے اور پھر جو سوالات اپ کے ذہن میں پیدا ہوں وہ لکھ

کر بتا دیں اور اس کے مطابق جوابات دے دیجئے:

بڑے بھائی  کے ذہن میں مندرجہ بالا سوالات پیدا ہوتے ہیں ان سوالات کیتصحیح علماء کرام خود کر سکتے ہیں۔       

علمائے کرام کی خدمت میں گزارش ہے کہ ساری تحریر پڑھنے کے بعد اسلام اور قرآن واحادیث کی روشنی میں فتویٰ دیجیے۔

جب :1 بڑے  بھائی نے آدھے  حصے  کا  مالک چھوٹے  بھائی کو نہیں بنایا  تھا تو کیا چھوٹا بھائی آدھے حصےکا خود بخود مالک بن سکتا ہے؟ یاتصور کر  سکتا ہے؟ اگر نہیں بن  سکتا تھا، تو ما ل اور رقوم کی واپسی کے لیےبڑے بھائی کو اسلام کس حد تک رقوم کی واپسی پر عمل کرنے کا حق دیتا ہے ؟ جبکہ چھوٹے بھائی کی نیت صاف واضح ہے کہ انہوں نے والد صاحب کو استعمال کرتے ہوئے فرضی، یکطرفہ والد صاحب کو غلط بتا کربڑے بھائی کی رقوم والد صاحب سے لے کر قبضے میں لےلیں اگر بڑے بیمار بھائی نے کچھ مقرر نہیں کیا تھا، تو چھوٹے بھائی نے جو تھوک ہول سیل کی دکان پر کام کیا، کیا اس کی تنخواہ دی جانی چاہیے؟ یہ بات مدنظر رکھیں کہ بڑے بیمار بھائی کے کاروبارکے منافع سے ہی تمام اخراجات چھوٹا بھائی کرتا رہا، جس میں قیام اور کھانے پینے کے اخراجات،  ، پاکستان کے اسفار، شادی اورشادی کے تمام اخراجات، بیوی کے علاج معالجےکے پیسے، پھر بیوی بچے سمیت پاکستان آنے اور جانے کے اخراجات شامل ہیں۔ اسی طرح  بغیر بتائے والد صاحب کے پاس چلا جانا اور پھر موقع کی تلا ش دیکھ کروالد صاحب کے پاس موجود بڑے بیمار بھائی کے مال پر یکطرفہ قبضہ کر لینااور والد صاحب کی سادگی سے فائدہ اٹھا کر فون کروادینا، کیایہ جائز تھا،اور اگر نہیں تھا تو رقوم کی واپسی لینے کے لیے اسلام کے احکامات بتائیے۔

(۲)ان ساری تفصیلات کے تناظر میں گزارش ہے کہ جب بڑے بیمار بھائی نے، جو کہ کاروبار کاقانونی وحقیقی مالک تھا، کوئی معاملہ چھوٹے بھائی کے ساتھ کاروبار میں تقسیم کا نہ کیا تھا، تو ان تمام واقعات کے رونما ہونے کے بعد چھوٹے بھائی کا کیا حق بنتا تھا؟ کاروبار میں حصے داری،یا تنخواہ، یا کچھ حصے داری اور تنخواہ دونوں؟          

(۳)چھوٹے بھائی کے پاس جب سوالات کا جواب نہیں ہوتا، تو ضد میں اپنے آپ کو آدھا مالک بتاتا ہے۔ کہتا ہے کہ بغیر طے کیے بھی میں آدھے حصے کا مالک تھا کیونکہ میں نے تقریباً 9 لاکھ آپ کےکاروبار میں ڈالے تھے۔ بڑے بھائی کو یاد نہیں لیکن پھر بھی کہتا ہے کہ اگر 9 لاکھ مجھے دیے ہوں گے، تومختلف اخراجات کی مد میں خرچ بھی ہوئے ہوں گے۔ اس کے علاوہ بڑے بھائی نے کہا کہ اپنے کاروبارمیں اگر آپ کے 9 لاکھ ڈالے بھی ہوں گے، تو میرا تو کروڑوں کا کاروبار کئی سالوں سے چل ر ہاتھا، آپ کے 9 لاکھ کی اس کے سامنے کوئی وقعت ہی نہ تھی۔ کہا کہ آپ 9 لاکھ واپس لے سکتے ہیں بمعہ کچھ منافع کے اور جتنا عرصہ کام کیا اس کی تنخواہ مقرر کر کے لے سکتے ہیں۔ بڑے بھائی کا یہ کہنا ہے کہ کاروبار کا مالک وہ خود بڑا بھائی تھا۔ جب اس نے آپ کو کاروبار میں حصہ دار ہی نہیں بنایا یا کہا ہی نہیں، توخود بخود کیسے کوئی تصور کر کے اس کی تمام رقوم پر قبضہ کر سکتا ہے؟ اور کیسے چھوٹا بھائی خود ہی فیصلہ کرسکتا ہے کہ نقد رقوم وہ خود قبضے میں کر لے اور بیمار بھائی کو تمام کاروباری ذمہ داریوں بشمول کرا ئے اور ٹیکس کے اخراجات دکان، ملازمین، روزمرہ اخراجات، مختلف بلز اکاؤنٹنٹ اور ٹیکس کے اخراجات اور کاروباری ذمہ داریوں اور کاروائیوں کے حوالے یا سامنا کرنے کے لیے چھوڑ کر چلا جائے۔

(۴) کسی کے مال پر بغیر اجازت قبضہ کرنے کی صورت میں اسلام میں کیا احکامات بیان ہوئے ہیں۔

(۵)کیا چھوٹا بھائی بڑے بھائی کے کاروبار میں پارٹنر تھا یا ہے جبکہ دونوں بھائیوں کے درمیان کوئی کاروباری معاملہ طے نہیں ہواتھابڑے بھائی نے صرف ہمدردی اور تعلق کی وجہ سے اس کو اپنے ساتھ کاروبار میں کھڑا کیا تھا۔

(۶) اس دوران جب کہ چھوٹا بھائی بڑے بھائی کے ساتھ کام کرتا رہا جبکہ اس کے تمام اخراجات کھانا پینا رہائش اس کے قرض کی ادائیگی شادی کے اخراجات بیوی اور بچے کے اخراجات و علاج معالجہ اور ایک ملک سے دوسرے ملک آنے جانے کےا خرجات اور تمام  روز مرہ متفرق اخراجات وغیرہ جو بڑے بھائی کے کاروبار سے وہ ادا کرتا رہا تو کیا یہ تمام اخراجات کرنے کے بعد چھوٹا بھائی بڑے بھائی کے کاروبار کے منافع سے کسی تنخواہ کمیشن یا حصے داری کا حقدار بنتا ہے۔

(۷) تقریبا نو یا 10 لاکھ روپے جو چھوٹے بھائی نے کہا ہے کہ بڑے بھائی کے چلتے ہوئے کروڑوں کی گڈ ویل کے کاروبار میں دیے اس کی کیا حیثیت ہے کیا وہ بڑے بھائی کے کاروبار میں از خود حصہ دار بن سکتا ہے بغیر بڑے بھائی سے کوئی معاملات طے کیے۔

(۸) بڑے بھائی کے کاروبار سے تقریبا تین سال تمام اخراجات کرنے کے بعد بڑے بھائی کے کاروبار کی منافع کی رقوم یکطرفہ والدصاحب سے لے کر قبضہ کرنے کے بعد اسلام میں چھوٹے بھائی کے ساتھ کیا معاملہ کرنا چاہیے۔

(۹)  زکوۃ کی عدم ادائیگی کا کون ذمہ دار ہے جبکہ بڑے بھائی نے چھوٹے بھائی کو زکوۃ کی ادائیگی کا کہا تھا اس نے سختی سے جواب میں کہا کہ ہم پر زکوۃ نہ لگوا دینا اس کا وبال کس پر ہوگا۔

(۱۰) بڑے بھائی کے کاروبار کی منافع کی رقوم جو چھوٹے بھائی نے یکطرفہ طور پر والد صاحب سے غلط بیانی کر کر وصول کی اس کی واپسی کےلیے بڑا بھائی اسلام کے احکامات کی رو سے کیا اقدامات اٹھا سکتا ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

سوال میں ذکرکردہ صورتِ حال کے مطابق سوالات کے جوابات  درج ِذیل ہیں :

:1,2,6بقولِ سائل جب بڑے بھائی  نے کبھی باقاعدہ کسی تحریری یا قولی معاہدے کے تحت  چھوٹے بھائی کے ساتھ شرکت  کا کوئی بھی عقد تو  نہیں کیا ،لیکن مشترکہ خاندانی کاروبار  میں عموما تمام کاروباری تفصیلات رواداری سے   طے نہیں کی جاتیں ،لیکن عرفاً اس کو مشترکہ کاروبار ہی سمجھا جاتا ہے بالخصوص جبکہ یہاں چھوٹا بھائی  نو(۹)لاکھ روپے سرمایہ شامل کرنے کا بھی مدعی ہے ۔

لہذا  چھوٹا بھائی   بھی بڑے بھائی کےساتھ اثاثوں اور کاروبارکےمنافع و نقصان  میں اپنے سرمایہ کی حد(۹ لاکھ ) تک   شریک ہوگا۔ اس سے زائد بھائی کے  کاروبار  میں اس نےجو محنت کی ہے ،اس کا حکم یہ ہے کہ چونکہ  آج کل کوئی آدمی اتنے عرصے تک  بغیر اجرت کام کرنے پر راضی نہیں ہوتا،اس لیے ایسے  میں  عرف کی وجہ سے بڑے بھائی  کےکاروبار کو اتنے عرصے تک سنبھالنے کی بناء پر (چھوٹا ) بھائی  اجرت ِمثل کاحق دارہوگا، یعنی عام طورسے اس جیسے کام  پراس جیسے شخص کو  جتنی اجرت دی جاتی  ہے وہ دی جائے گی، باقی  بڑے بھائی نے چھوٹے بھائی کے جو اخراجات  برداشت کیے ہیں اس  میں ان کے عرف کے مطابق چھوٹے موٹے اخراجات بڑے بھائی کی طرف سے تبرع اور احسان  شمار ہوں گےجبکہ بڑے اخراجات  اس کی تنخواہ سے منہا کیے  جائیں  گے ۔

حوالہ جات :

عمدة الرعاية بتحشية شرح الوقاية (6 / 284)

"الثَّابت بدونِ العقدِ هو شركةُ الملكِ فقط، ولا تتضمّن هي وكالةً ولا كفالة . "

درر الحكام في شرح مجلة الأحكام (3 / 28)

" (كل واحد من الشركاء في شركة الملك أجنبي في حصة الآخر ولا يعتبر أحد وكيلا عن الآخر فلذلك لا يجوز تصرف أحدهما في حصة الآخر بدون إذنه، أما في سكنى الدار المشتركة وفي الأحوال التي تعد من توابع السكنى كالدخول والخروج فيعتبر كل واحد من أصحاب الدار المشتركة صاحب ملك مخصوص على وجه الكمال. مثلا لو أعار أحد الشريكين البرذون المشترك أو أجره بدون إذن الآخر وتلف البرذون في يد المستعير أو المستأجر فللآخر أن يضمنه حصته. "

الدر المختار (4 / 325)

" (وما حصله أحدهما فله وما حصلاه معا فلهما) نصفين إن لم يعلم ما لكل (وما حصله أحدهما بإعانة صاحبه فله ولصاحبه أجر مثله بالغا ما بلغ عند محمد. وعند أبي يوسف لا يجاوز به نصف ثمن ذلك) قيل تقديمهم قول محمد يؤذن باختياره نهر وعناية.

 (والربح في الشركة الفاسدة بقدر المال، ولا عبرة بشرط الفضل) فلو كل المال لأحدهما فللآخر أجر مثله كما لو دفع دابته لرجل ليؤجرها والأجر بينهما، فالشركة فاسدة والربح للمالك وللآخر أجر مثله، وكذلك السفينة والبيت. "

تكملة حاشية رد المحتار (2 / 446)

"مطلب: في حكم حادية الفتوى شريكان مالهما متفاوت والعمل مشروط عليهما والربح سوية بينهما هلك بعد الربح شئ من المال وبقي شئ من الربح فما الحكم؟ الجواب: ما فضل من الربح على ما شرطا ورأس المال على حكمه والهالك عليهما وهو ظاهره. "

العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية :

" المتبرع لا يرجع بما تبرع به على غيره كما لو قضى دين غيره بغير أمره."

:3,7مذکورہ صورت میں جس وقت سے چھوٹے بھائی  نے کاروبار میں  نو(۹)لاکھ روپے سرمایہ کاری کی   ہے ،تو اس وقت سے شرکتِ ملک قائم ہوگئی ہے جس کے لیے باقاعدہ کسی عقد کی ضرورت نہیں ہوتی ،لہذا   چھوٹا بھائی   بھی بڑے بھائی کےساتھ اثاثوں اور کاروبارکےمنافع و نقصان  میں   سرمایہ کی حد(۹ لاکھ ) تک   شریک ہوگا۔

 اور آج کل چونکہ کوئی آدمی بغیر اجرت کےکام کرنے پر راضی نہیں ہوتا،اس لیے آج کے عرف کی وجہ سے بڑے بھائی  کےکاروبارمیں اس کا دوسرامعاون(چھوٹا ) بھائی  اجرت ِمثل کاحق دارہوگا، یعنی عام طورسے اس جیسے کام  پر جتنی اجرت دی جاتی  ہے اس عرصے کی اجرت  دی جائے گی۔

حوالہ جات :

عمدة الرعاية بتحشية شرح الوقاية (6 / 284)

"الثَّابت بدونِ العقدِ هو شركةُ الملكِ فقط، ولا تتضمّن هي وكالةً ولا كفالة . "

درر الحكام في شرح مجلة الأحكام (3 / 28)

" (كل واحد من الشركاء في شركة الملك أجنبي في حصة الآخر ولا يعتبر أحد وكيلا عن الآخر فلذلك لا يجوز تصرف أحدهما في حصة الآخر بدون إذنه، أما في سكنى الدار المشتركة وفي الأحوال التي تعد من توابع السكنى كالدخول والخروج فيعتبر كل واحد من أصحاب الدار المشتركة صاحب ملك مخصوص على وجه الكمال. مثلا لو أعار أحد الشريكين البرذون المشترك أو أجره بدون إذن الآخر وتلف البرذون في يد المستعير أو المستأجر فللآخر أن يضمنه حصته. "

:4 شریعت نے ہر ایک کو اپنے مال میں تصرف کرنے کی اجازت دی ہے،کسی دوسرے کے مال میں اس کی اجازت کے بغیر تصرف کرنا شرعا جائز نہیں ہے۔

حوالہ جات:

مجلۃا لاحکام العدلیۃ :

            "(المادة 96) : لا يجوز لأحد أن يتصرف في ملك الغير بلا إذنه."

:5 مذکورہ صورت میں جس وقت سے چھوٹے بھائی  نے کاروبار میں  سرمایہ کاری کی   ہے ،تو اس وقت سے شرکت ملک قائم ہوگئی ہے جس کے لیے باقاعدہ کسی عقد کی ضرورت نہیں ہوتی ،لہذا   چھوٹا بھائی بھی اس کاروبار میں اپنے شریک کہلائے گا جس کی وجہ سےبڑے بھائی کےساتھ اثاثوں اور کاروبارکےمنافع و نقصان  میں   سرمایہ کی حد(۹ لاکھ ) تک   شریک ہوگا۔

حوالہ جات :

عمدة الرعاية بتحشية شرح الوقاية (6 / 284)

"الثَّابت بدونِ العقدِ هو شركةُ الملكِ فقط، ولا تتضمّن هي وكالةً ولا كفالة . "

:8,10باہر ملک  میں قیام کے دوران بڑے بھائی نے کاروبار سے جو رقم کمائی وہ انہی  کی ملکیت تھی ۔

(الف)۔۔۔چنانچہ اس  میں سے جو رقم بڑے بھائی نے  اپنے والد صاحب کو بھیجی تھی اگر وہ رقم  اس نے  والد صاحب کو مالک بنا کر نہیں بھیجی تھی ،اوراس رقم سے اپنے لئے گھر اور پلاٹ خریدنے کا ارادہ تھا، اور  والد صاحب کو صرف خریدنے کا وکیل بنایا تھا تو اس صورت میں بڑے بھائی  کی رقم انہی کی ملکیت شمار ہو گی ،والد صاحب کا آپ کی رضامندی کے بغیر  آپکے چھوٹے بھائی کو دینا  جائز نہیں ہے، ایسی رقم کی وصولی کے لیےبڑا بھائی  قانونی راستہ بھی اختیار کر سکتا ہے ۔

(ب )۔۔۔البتہ  اگر بڑے بھائی نے کوئی رقم والد صاحب کومالک بنانے کی نیت سے بھیجی ہو یا صراحتاً یہ کہہ کر بھیجی ہوکہ یہ آپ کی ملکیت ہے تو وہ صرف والد صاحب کی ہو گی    ،جس کو وہ کسی بھی مصرف میں خرچ کرنے کا مجاز  ہوتا ہے،لہذ ابڑے بھائی کو اس قسم  کی رقم کی واپسی کے مطالبہ کا حق حاصل نہیں    ۔

(ج )۔۔۔ جو رقم آپ نےبطورِ احسان گھر کے اخراجات کے لئےبھیجی تھی وہ آپ کی طرف سے تبرع (احسان)شمار ہوگی جس کی واپسی کا مطالبہ بھی  درست نہیں  ۔

حوالہ جات:

حاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 688)

" (قوله: هو الإيجاب) وفي خزانة الفتاوى: إذا دفع لابنه مالا فتصرف فيه الابن يكون للأب إلا إذا دلت دلالة التمليك بيري.

قلت: فقد أفاد أن التلفظ بالإيجاب والقبول لا يشترط، بل تكفي القرائن الدالة على التمليك كمن دفع لفقير شيئا وقبضه، ولم يتلفظ واحد منهما بشيء، وكذا يقع في الهداية ونحوها فاحفظه،"

تنقيح الفتاوى الحامدية (4/ 421،420)

" ( أَقُولُ ) وَفِي الْفَتَاوَى الْخَيْرِيَّةِ سُئِلَ فِي ابْنٍ كَبِيرٍ ذِي زَوْجَةٍ وَعِيَالٍ لَهُ كَسْبٌ مُسْتَقِلٌّ حَصَّلَ بِسَبَبِهِ أَمْوَالًا وَمَاتَ هَلْ هِيَ لِوَالِدِهِ خَاصَّةً أَمْ تُقْسَمُ بَيْنَ وَرَثَتِهِ أَجَابَ هِيَ لِلِابْنِ تُقْسَمُ بَيْنَ وَرَثَتِهِ عَلَى فَرَائِضِ اللَّهِ تَعَالَى حَيْثُ كَانَ لَهُ كَسْبٌ مُسْتَقِلٌّ بِنَفْسِهِ .

وَأَمَّا قَوْلُ عُلَمَائِنَا أَبٌ وَابْنٌ يَكْتَسِبَانِ فِي صَنْعَةٍ وَاحِدَةٍ وَلَمْ يَكُنْ لَهُمَا شَيْءٌ ثُمَّ اجْتَمَعَ لَهُمَا مَالٌ يَكُونُ كُلُّهُ لِلْأَبِ إذَا كَانَ الِابْنُ فِي عِيَالِهِ فَهُوَ مَشْرُوطٌ كَمَا يُعْلَمُ مِنْ عِبَارَاتِهِمْ بِشُرُوطٍ مِنْهَا اتِّحَادُ الصَّنْعَةِ وَعَدَمُ مَالٍ سَابِقٍ لَهُمَا وَكَوْنُ الِابْنِ فِي عِيَالِ أَبِيهِ فَإِذَا عُدِمَ وَاحِدٌ مِنْهَا لَا يَكُونُ كَسْبُ الِابْنِ لِلْأَبِ وَانْظُرْ إلَى مَا عَلَّلُوا بِهِ الْمَسْأَلَةَ مِنْ قَوْلِهِمْ ؛ لِأَنَّ الِابْنَ إذَا كَانَ فِي عِيَالِ الْأَبِ يَكُونُ مُعِينًا لَهُ فِيمَا يَضَعُ فَمَدَارُ الْحُكْمِ عَلَى ثُبُوتِ كَوْنِهِ مُعِينًا لَهُ فِيهِ فَاعْلَمْ ذَلِكَ ا هـ .........

وَأَجَابَ أَيْضًا عَنْ سُؤَالٍ آخَرَ بِقَوْلِهِ إنْ ثَبَتَ كَوْنُ ابْنِهِ وَأَخَوَيْهِ عَائِلَةً عَلَيْهِ وَأَمْرُهُمْ فِي جَمِيعِ مَا يَفْعَلُونَهُ إلَيْهِ وَهُمْ مُعِينُونَ لَهُ فَالْمَالُ كُلُّهُ لَهُ وَالْقَوْلُ قَوْلُهُ فِيمَا لَدَيْهِ بِيَمِينِهِ وَلْيَتَّقِ اللَّهَ فَالْجَزَاءُ أَمَامَهُ وَبَيْنَ يَدَيْهِ وَإِنْ لَمْ يَكُونُوا بِهَذَا الْوَصْفِ بَلْ كَانَ كُلٌّ مُسْتَقِلًّا بِنَفْسِهِ وَاشْتَرَكُوا فِي الْأَعْمَالِ فَهُوَ بَيْنَ الْأَرْبَعَةِ سَوِيَّةٌ بِلَا إشْكَالٍ وَإِنْ كَانَ ابْنُهُ فَقَطْ هُوَ الْمُعِينُ وَالْإِخْوَةُ الثَّلَاثَةُ بِأَنْفُسِهِمْ مُسْتَقِلِّينَ فَهُوَ بَيْنَهُمْ أَثْلَاثًا بِيَقِينٍ وَالْحُكْمُ دَائِرٌ مَعَ عِلَّتِهِ بِإِجْمَاعِ أَهْلِ الدِّينِ الْحَامِلِينَ لِحِكْمَتِهِ . "

حاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 689)

"لو دفع إلى رجل ثوبا، وقال: ألبس نفسك، ففعل يكون هبة، ولو دفع دراهم وقال: أنفقها عليك يكون قرضا باقاني. "

فتاوىٍٰ قاضيخان - (3 / 143)

"قال لآخر خذ هذا المال واغز في سبيل الله تعالى يكون قرضاً لأن الكلام محتمل يحتمل القرض ويحتمل الهبة والقرض أدناهما فيحمل عليه ولأن الأخذ المطلق سبب للضمان في الشرع، ولو دفع إليه دراهم فقال أنفقها ففعل فهو قرض وهو كما قال اصرفها في حوائجك،"

تنقيح الفتاوى الحامدية - (5 / 223)

" ( كِتَابُ الْهِبَةِ ) ( سُئِلَ ) فِيمَا إذَا دَفَعَتْ هِنْدٌ لِزَيْدٍ مَبْلَغًا مَعْلُومًا مِنْ الدَّرَاهِمِ عَلَى سَبِيلِ الْقَرْضِ فَطَالَبَتْهُ بِالْمَبْلَغِ الْمَزْبُورِ فَقَالَ إنَّك دَفَعْته لِي هِبَةً وَقَالَتْ بَلْ قَرْضًا فَهَلْ يَكُونُ الْقَوْلُ قَوْلَهَا بِيَمِينِهَا فِي ذَلِكَ وَعَلَيْهِ رَدُّ مِثْلِ الْقَرْضِ الْمَزْبُورِ ؟ ( الْجَوَابُ ) : نَعَمْ دَفَعَ لِآخَرَ عَيْنًا ثُمَّ اخْتَلَفَا فَقَالَ الدَّافِعُ قَرْضٌ وَقَالَ الْآخَرُ هَدِيَّةٌ فَالْقَوْلُ قَوْلُ الدَّافِعِ كَذَا فِي الْقَوْلِ لِمَنْ عَنْ الْبَزَّازِيَّةُ وَمِثْلُهُ فِي الْخَانِيَّةِ دَفَعَ إلَيْهِ دَرَاهِمَ فَقَالَ أَنْفِقْهَا فَفَعَلَ فَهُوَ قَرْضٌ كَمَا لَوْ قَالَ اصْرِفْهَا إلَى حَوَائِجِك"

مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر - (3 / 368)

"ولو اختلف الأب وابنه فيما في البيت قال أبو يوسف إذا كان الأب في عيال الابن في بيته فالمتاع كله للابن كما لو كان الابن في بيت الأب وعياله فمتاع البيت للأب"

العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية :

" المتبرع لا يرجع بما تبرع به على غيره كما لو قضى دين غيره بغير أمره."

:9مذکورہ صورت میں جب  چھوٹے بھائی نے زکٰوۃ کی  ادائیگی کا وکیل بننے  سے  صراحۃ ًانکار کرلیا تھا،تو اس سے  چھوٹا بھائی  اپنے بڑے بھائی کی طرف سے زکوٰۃ کی ادائیگی کا وکیل ہی نہیں بنا ،کیونکہ وکالت کے لیے وکیل کی طرف سے قبول شرط ہے ، لہذا اس مالیت میں بڑے بھائی کا جتنا حصہ تھا اس  پر جتنے عرصہ  کی زکوٰۃ کی ادائیگی واجب الأدا ہو  اس کی ادائیگی کی  ذمہ داری بڑے بھائی کے ذمہ لازم  ہے۔

حوالہ جات :

حاشية ابن عابدين (5/ 509):

"وأفاد أنه ليس كل أمر توكيلا بل لا بد مما يفيد كون فعل المأمور بطريق النيابة عن الآمر فليحفظ اهـ. هذا جميع ما كتبه نقلته، وبالله التوفيق. "

حوالہ جات

صدام حسین بن ہدایت شاہ

 دارالافتا ءجامعۃالرشید، کراچی

  ۱۲ /محرم الحرام  /۱۴۴۸ھ              

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

صدام حسین بن ہدایت شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب