| 91071 | معاشرت کے آداب و حقوق کا بیان | متفرّق مسائل |
سوال
ہماری شادی کو چھ سال ہو گئے ہیں۔ پہلے سال میری ایک بیٹی ہوئی، اس کے بعد سے میرے شوہر نے میرے ساتھ ہم بستری نہیں کی۔ جب بھی میں ان کے پاس جاتی ہوں تو وہ بہت زیادہ غصہ کرتے ہیں، حتیٰ کہ ہاتھ بھی نہیں لگانے دیتے۔ جب ان سے ہم بستری کا مطالبہ کرتی ہوں یا ان کے قریب جانے کی کوشش کرتی ہوں تو وہ مارنے لگتے ہیں اور سخت غصہ کرتے ہیں۔
اب پانچ سال گزر چکے ہیں۔ میں چاہتی ہوں کہ اس مسئلے کا کوئی حل نکلے۔ البتہ عام گھریلو زندگی میں وہ میرا بہت خیال رکھتے ہیں۔ وہ خود مفتی اور حافظِ قرآن ہیں۔ جب بھی اس بارے میں ان سے بات کی جائے کہ آپ ایسا کیوں کر رہے ہیں، تو وہ صرف یہی کہتے ہیں: "صبر کرو۔"
اب میرا سوال یہ ہے کہ جب میرے شوہر نے گزشتہ پانچ سال سے میرے ساتھ ہم بستری نہیں کی اور آئندہ بھی ان کا کوئی ارادہ معلوم نہیں ہوتا، بلکہ وہ صرف صبر کرنے کا کہتے ہیں، تو میرے لیے شرعاً کیا حکم ہے؟ مجھے آئندہ کیا قدم اٹھانا چاہیے؟ نیز میرے شوہر میرے ساتھ ایسا کیوں کر رہے ہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ اسلام میں نکاح کا مقصد صرف ایک ہی گھر میں رہنا نہیں، بلکہ میاں بیوی کے درمیان محبت، سکون، عفت اور ایک دوسرے کے حقوق کی ادائیگی بھی ہے۔ اسی لیے شریعتِ مطہرہ نے جس طرح بیوی پر شوہر کے حقوق لازم کیے ہیں، اسی طرح شوہر پر بھی بیوی کے حقوق لازم قرار دیے ہیں۔ ان حقوق میں بیوی کا حقِ زوجیت بھی شامل ہے، جس کی ادائیگی شوہر پر لازم ہے۔ بلا عذرِ شرعی طویل عرصے تک بیوی کو اس حق سے محروم رکھنا اور اس کے مطالبے پر غصہ کرنا یا مارپیٹ کرنا شرعاً درست نہیں، بلکہ یہ ظلم اور حق تلفی ہے۔
اگر واقعہ سوال میں بیان کردہ تفصیل کے مطابق ہے تو شوہر کو چاہیے کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرے، اپنی ذمہ داری کو سمجھے اور اپنی اہلیہ کا شرعی حق ادا کرے۔ محض "صبر کرو" کہہ کر بیوی کے حق کو مسلسل مؤخر کرنا درست طرزِ عمل نہیں۔ صبر کی تلقین وہاں کی جاتی ہے جہاں انسان اپنے اختیار سے باہر کسی آزمائش میں مبتلا ہو، نہ کہ کسی کا حق روک کر اسے خاموش رہنے کا کہا جائے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "تم میں بہترین وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہترین ہو۔" لہٰذا ایک عالمِ دین اور حافظِ قرآن ہونے کے ناطے شوہر کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے کہ وہ اپنے کردار سے شریعت کی صحیح نمائندگی کرے۔
آپ کے شوہر کو چاہیئےکسی ماہر معالج یا ماہرِ نفسیات سے بھی رجوع کریں، کیونکہ بعض اوقات اس طرح کے رویے کے پیچھے جسمانی یا نفسیاتی اسباب بھی ہوتے ہیں۔
دوسری طرف، آپ کو بھی چاہیے کہ اگر آپ کی طرف سے کوئی ایسی بات یا رویہ ہے جس سے شوہر کو تکلیف پہنچتی ہو تو آپ اس رویہ کو ترک کر دیں ، خوش اخلاقی سے شوہر کی خدمت کا اہتمام کریں ،نیز صفائی ستھرائی اور زیب و زینت کا بھی اہتمام کریں ۔ گھر کے ماحول کو خوشگوار بنائیں اور حتی الامکان شوہر کے ساتھ حسنِ معاشرت اختیار کریں۔
اگر اس سے بہتری نہ آئے تو دونوں خاندانوں کے دیانت دار، سمجھدار اور بااثر افراد کو درمیان میں لا کر اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کریں۔
اگر ان سب تدابیر کے باوجود بھی حالت میں بہتری نہیں آتی تو آپ دوبارہ پوری تفصیل لکھ کر استفتاء کریں ۔
حوالہ جات
[سورة النساء : الآيۃ:35 ]
«وَإِنْ خِفْتُمْ شِقاقَ بَيْنِهِما فَابْعَثُوا حَكَماً مِنْ أَهْلِهِ وَحَكَماً مِنْ أَهْلِها إِنْ يُرِيدا إِصْلاحاً يُوَفِّقِ اللَّهُ بَيْنَهُما إِنَّ اللَّهَ كانَ عَلِيماً خَبِيراً »
[سورة النساء : الآيۃ:19 ]
«وَعاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ فَإِنْ كَرِهْتُمُوهُنَّ فَعَسى أَنْ تَكْرَهُوا شَيْئاً وَيَجْعَلَ اللَّهُ فِيهِ خَيْراً كَثِيراً »
«سنن الترمذي : 1197»
«حَدَّثَني أبي أنَّه شَهِدَ حَجة الوَدَاعِ مع رسولِ الله صلى الله عليه وسلم، فحَمِدَ الله وأثْنى عليهِ، وذَكّرَ ووَعَظَ، فذَكَرَ في الحديثِ قِصَّةً، فقالَ: "ألا واسْتَوْصُوا بالنِّسَاءِ خَيْرًا، فإنَّما هُنَّ عَوانٍ عِنْدَكُم، لَيسَ تمْلِكُونَ منهُنَّ شَيئًا غَيرَ ذلك، إلا أن يأتينَ بفاحِشَةٍ مُبَيِّنةٍ، فإن فَعَلنَ، فاهجُرُوهُنَّ في المَضاجِعِ، واضْرِبوهنَّ ضَرْبًا غَير مُبَرِّحٍ، فإن أطَعْنكُم فلا تَبْغوا عَليهنَّ سَبيلًا، ألا إنَّ لكم على نسائِكُم حَقًا، ولِنسائِكم عليْكُم حَقًّا، فأمَّا حَقُّكُم على نِسائِكم، فلا يوطِئنَ فُرُشَكم من تَكْرهونَ ولا يأذَنَّ في بُيُوتِكم لمَن تَكْرَهونَ، ألا وحَقُّهُنَّ عليْكُم أن تُحْسِنوا إليهِنَّ في كِسوَتِهِنَّ وطَعَامِهنَّ"
«سنن الترمذي : 3895 »
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم: «خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِهِ وَأَنَا خَيْرُكُمْ لِأَهْلِي، وَإِذَا مَاتَ صَاحِبُكُمْ فَدَعُوهُ» هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَرُوِيَ هَذَا عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مُرْسَلًا.
«بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع» (2/ 334):
ومنها المعاشرة بالمعروف، وأنه مندوب إليه، ومستحب قال الله تعالى: {وعاشروهن بالمعروف} [النساء: 19] قيل هي المعاشرة بالفضل والإحسان قولا وفعلا وخلقا قال النبي: صلى الله عليه وسلم «خيركم خيركم لأهله، وأنا خيركم لأهلي.»
محمدعمران
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
15 /محرم الحرام /8144ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد عمران بن عبد المطہر خان | مفتیان | مفتی محمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


