03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مدرسہ کی زمین پر ایسی مسجد بنانا جسکاسرداب تکرار و مطالعہ کے لیے خاص ہو۔
91073وقف کے مسائلمسجد کے احکام و مسائل

سوال

بخدمت جناب علماءِ کرام و مفتیانِ عظام حفظكم الله ورعاكم السلام عليكم ورحمة الله وبركاته امید ہے مزاج عالیہ بخیر وعافیت ہوں گے، اللہ تبارک وتعالیٰ آپ حضرات کے مساعی جمیلہ کو اپنی بارگاہ میں قبول ومقبول فرمائیں! ایک مسئلہ کے بارے میں آپ حضرات کی رہنمائی مطلوب ہے۔مسئلہ مع جواب ذیل میں درج ہے، اس میں ایک اہم نکتہ کے بارے میں تردّد ہے،اس بارے تشفی چائیے۔ یہ تو واضح ہے کہ مدرسے کی زمین پر بوقتِ ضرورتِ شدیدہ مسجدِ شرعی بنانا جائز ہے۔ اور یہ بھی معلوم ہے کہ مسجدِ شرعی کے سفل یا علو کو شرائط کی رعایت کے ساتھ مسجد سے مستثنیٰ کرکے مدرسہ کے لیے خاص کرنا جائز ہے، بشرطیکہ یہ استثناء ابتداءًیعنی مسجد کے لیے زمین وقف کرتے وقت ہو۔اور یہ سفل یا علو بدستور مسجد کی ملک رہے گی۔ اب مسئلة ما نحن بصدده جو ان دونوں کی مرکب شکل ہے ( یعنی پہلے مدرسہ کی زمین کو وقفِ مدرسہ سے وقف علی المسجد کی طرف تحویل کرنا اور اسی اثناء نچلے یا بالائی حصّہ کو مسجد سے استثناء کرکے مدرسے کے لیے خاص کرنا) کےبارے میں تردّدمیں مبتلا ہیں کہ اس مرکب صورت کا بھی وہی حکم ہوگاجو الگ الگ صورت میں تھا یا اس کاحکم ترکیب کی وجہ سے مختلف ہوگا۔بہر حال جو بھی حکم ہو اصلاح بالدلیل عنایت فر مادیجئے۔ 25/290  سوال : کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ومفتیانِ شرع اس مسئلہ کے بارے میں کہ: زید مدرسہ کے ایک قطعۂ زمین پر مسجد بنانے کا ارادہ رکھتا ہے،لیکن مسجد بنانے سے پہلے اس کے نیچے تہہ خانہ طلبہ کےمطالعے اور تکرار، مدرسے کی ضروریات اور تعزیت کے لیے بنانا چاہتا ہے، یہ حصّہ خارج عن المسجد ہوگا، لیکن وقف علی المسجد رہے گا، اس کے بعد اس پر شرعی مسجد بنائےگا۔ تو اس کے جواز کے متعلق کتب فقہیہ میں صریح جزئیہ نہیں مل سکا، البتہ مفتی رشید احمدصاحب﷫ مسجد پر مدرسے کے متعلق فرماتے ہیں؛ (عربی عبارات نقل کرنے کے بعد ) ان میں اوّل اور ثالث عبارت کے ظاہر (مدرسے ) کے عدمِ جواز پر دال ہے، لأن مفهوم الفقهاء﷭حجّة بالاتفاق اورروایتِ ثانیہ میں جواز کی تصریح ہے، اس لیے بوقتِ ضرورتِ شدیدہ گنجائش معلوم ہوتی ہے۔( احسن الفتاوی :ج،6 ص، 443 ) اور حضرت تھانوی رحمہ اللہ تعالٰی کے اس عبارت سے بھی اس کا جواز مفہوم ہوتا ہے۔ چنانچہ فرماتے ہیں؛ ”اگرمصالح ویسے ہی ہوں جو سرادیبِ مذکورہ (بیت المقدس ) سے متعلق ہوں اور تبعیت کی وہی ہیئت جو ان سرادیب میں ہے،تب تو قیاس یہی ہے اور اگر مصالح دوسری قسم کے ہوں جیسے وقف بالاستقلال للمسجد یا ہیئتِ تبیعیت دوسری طور کی ہو، جیسے مسجد کا علو پر ہونا یا مسجد پر علو کا ہونا، اس کا الحاق خفی، چنانچہ بہت روز تک مجھ کو اس میں تردّد رہا، لیکن شامیؒ نے کتاب الوقف میں اسعاف سے ایک عبارت نقل کی ہے۔ " إذا كان السراديب أو العلو لمصالح المسجد أو كان وقفا عليه صار مسجدا.شرنبلاليه " اس میں "أو كان وقفا عليه‘ کا عطف ’كان لمصالح المسجد" پر ہے۔ اس سے ظاہر ہوا کہ استغلال للمسجد کا حکم بھی یہی ہے، خواہ اس کا نام مصالحِ مسجد رکھا جائے، خواہ فی حکم مصالح المسجد رکھا جائے۔ بہر حال حکم مشترک ہے۔ یہ الحاق بالقیاس بالضرورت ہے، چنانچہ ہدایہ کی مذکورہ عبارت میں ضرورت کا بناء الحاق کا ہونا مصرّح ہے۔( ضمیمہ آدابِ مسجد: ج، 3، ص، 135 جواہر الفقہ ) ان عبارات میں جواز مقیّد ہے ضرورت کی قید کے ساتھ۔ تو عمرو اس کی ضرورت اور احتیاج کی وضاحت اس طرح کرتے ہیں کہ ؛ عام طور پر اکثر مدارس میں اتنا بڑا ہال اور وسیع مسقّف جگہ نہیں ہوتی ہے جس میں سارے طلبہ مل کر مطالعہ یا تکرار کرسکیں، تو وہ مجبورا مسجد میں یہ سارے کام سر انجام دیتے ہیں اور ساتھ امتحانات اور امتحانی نتائج ،اسی طرح دستارِ فضیلت کی تقریب یا دیگر پروگرام بھی مسجدوں میں منعقد کیےجاتے ہیں، جس میں مسجد کا کوئی ادب و احترام نہیں رہتا اور اکثر تقریبات میں دیکھا گیا ہے کہ تقریب یا جلسہ ختم ہونے پر اسی مسجد میں دسترخواں لگا لیتے ہیں، جن میں تلویث وغیرہ سب کچھ ہوتا ہے، اسی طرح طلبہ مسجد میں مسلسل تکرار کرنے سے مسجد کا دیہان ختم کر لیتے ہیں، جس میں پھر گپ شپ اور کھیل کود کر بیٹھتے ہیں۔ اسی طرح ہمارے قرب وجوار میں یہ چیز بہت عام ہے کہ تعزیت کے لیے مسجد میں لوگ بیٹھتے ہیں، جس میں چائے، اور کھانا پینا، گپ شپ، اگالدان،بچھونے، تکیے وغیرہ چلتے رہتے ہیں۔شریعت کے ان خلاف ورزیوں کو دیکھ کر عمرو یہ ارادہ رکھتا ہے کہ ہمارے علاقے میں سرداب یا علو کی تخصیص کی نیت عام ہونی چاہیے تاکہ اس میں یہ سارے کام ہو سکیں۔ اس لئےکہ یہ سارے ضرورت میں شامل ہیں۔ اسی طرح مسجد کے اوپر یا نیچے بچوں کے لئے درسگاہ یا مدرسہ بنانے کے بارے میں بھی یہ عمومی نیت کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس لئے وہ یہ ساری چیزیں مصالحِ مسجد میں شمار ہیں۔ بایں طور کہ مصالح سے اگر وہ مصالح مراد ہوں جو نفسِ مسجد کے لئے فائدہ مند ہوں جیسے مسجد پر امام کا گھر بنانا یا مسجد کے نیچے دکانیں تعمیر کرنا اور اس کی آمدن کو مسجد کے لئے وقف کرنا ( جو کہ بعض حضرات کے نزدیک جائز ہے ) جن سے نفسِ مسجد آباد رہتی ہے۔ یا مصالح سے مراد "ما ينتفع به عامّة النّاس" ہو، جن کی وضاحت ابواللیث سمرقندیؒ نے کی ہے، جیسے سردابِ بیت المقدس ہے، کہ جس میں ٹھنڈا پانی رکھا جاتا ہے۔ دونوں قسم کے مصالح ان اشیاء مذکورہ میں موجود ہیں، تکرار، مطالعہ، تقریبات اور تعزیت میں نفسِ مسجد کا احترام وادب اور تلویث نہیں ہوتی اور مدرسہ ودرسگاہ وغیرہ میں عامّۃ النّاس کا فائدہ ہوتا ہے۔ بالفرض اگر مصالح میں نہیں لیکن فی حکم مصالح میں سے تو ہے جیسا کہ حضرت تھانویؒ نے ذکر فرمایا ہے۔ اب عرض ہے کہ کیا عمرو کا یہ خیال ازروئے شرع درست ہے یا نہیں؟ شرعی رہنمائی فرمائیں۔ بيّنواتوجّروا مستفتی : گل محمد کچلاک الجواب حامدا و مصلّيا مدرسہ کے لئے وقف شدہ زمین پر ایسی مسجد بنانا جس کا نچلا یا بالائی حصّہ مدرسہ کی ضروریات اور تعزیت کے لئے مختص ہو، اس میں تین باتوں کے شرعی حکم کو دریافت کیا گیا ہے۔1…مدرسہ کی زمین پر مسجد بنانا۔ 2…مسجد کے نچلے یا بالائی حصّے کو مسجدیّت سے مستثنیٰ کر کے مدرسے کی ضروریات کےلئے مختص کرنا۔ 3…مسجد کے نچلے یا بالائی حصّے کو تعزیت کنندگان کے بیٹھنے کے لئے خاص کرنا۔ 1… جس وقت زمین مدرسہ کے لئے وقف کی جارہی تھی یعنی ابتداء میں ہی اگر واقف نے اس میں مسجد بنانے کی بھی نیت کر رکھی تھی، تب تو مسجد بنانابلاتردّد جائز ہے، بشرطیکہ اذنِ عام ہو(مدرسہ کی چاردیواری کے باہر سے کسی بھی شخص کو مسجد میں آکر نماز کی ادائیگی کی اجازت ہو)،اور اگر ابتداء میں یہ نیت نہیں کی تھی اور اب جب زمین وقف ہو کر مدرسہ بن گئی اور اس میں مسجد بنانے کا ارادہ ہے،تو اس کے جواز کے لئے اذنِ عام کے علاوہ یہ بھی ضروری ہے کہ مسجد کی واقعی ضرورت ہو۔ اور ضرورت کی تشریح کے لئے” فتاوی محمودیہ “ کا جواب ملاحظہ فرمائیں! ”اگر قریب کوئی دوسری مسجد نہیں جس میں اہلِ مدرسہ نماز ادا کر سکیں یا مسجد تو موجود ہے مگر تنگ ہے کہ سب اس میں سما نہیں سکتے یا وہاں نماز پڑھنے کے لئے جانے سے مدرسہ کی مصالح فوت ہوتی ہیں مثلا وقت کا زیادہ حرج ہوتا ہے یا مدرسہ کی حفاظت نہیں رہتی وغیرہ وغیرہ تو مدرسہ کی زمین میں مسجد بنانا ضروریاتِ مدرسہ میں داخل ہے۔ ایسی حالت میں وہ مسجد مسجدِ شرعی ہوگی۔ “ 2… زمین کے جس حصّے پر مسجد بنادی جائے تو مسجد كے اوپر آسمان تک اور نیچے زمین کی انتہا تک سب کا سب قیامت تک کے لئےمسجد ہے،اس میں کسی جزو کو اب مسجد سے علیحدہ نہیں کیا جاسکتا ہے۔ تاہم بوقتِ ضرورت مسجد کے سفل (تہہ خانہ )یا علو (بالائی منزل ) کو مسجدیّت سے مستثنیٰ کیا جاسکتا ہے،(بشرطیکہ ابتداء میں ہی یعنی مسجد بناتے وقت یہ نیّت کی جائے) اور اس کے لئے ضروری ہے کہ تین باتوں میں سے کوئی ایک موجود ہو(جوعباراتِ فقہیّہ کے تتبع سے ماخوذ ہیں): 1) جس کام کے لئے استثناء مطلوب ہے وہ مصالحِ مسجد میں سے ہو۔جیسے؛ امام کے لئے گھر بنانا، سامانِ مسجد کے لئے گودام بناناوغیرہ۔ 2) استغلال للمسجد(کمائی مسجد میں صرف کرنا) مقصود ہو۔جیسے؛ دکان یا مکان بنا کر کرایہ پر دینا۔ 3) ایسے رفاہِ عامّہ میں سے ہو جس میں قربت (ثواب کا ذریعہ) ہو۔جیسے؛ مدرسہ، تالاب یا مٹکے رکھنے کی جگہ بناناوغیرہ مدرسہ چونکہ رفاہِ عامّہ اورقربت کا بہترین ذریعہ ہے،اور ضرورت بھی ڈکھی چھپی نہیں ہے خاص طور پر موجودہ زمانے میں جہاں ایک طرف آبادی کی کثرت زمینوں کی تنگی اور زیادتِ قیمت کا سبب بنی ہےاور دوسری طرف مسلمان حکمران اور عامّۃ المسلمین اپنی بے توجہی کی وجہ سے تمام مصارف اورا خراجات کابوجھ معدودے چند مخیِّرین حضرات سے اٹھوائے جارہے ہیں ۔ اس لئے مسجد کے تحتانی یا فوقانی حصّے کومدرسے کے لئے وقف کرنا بلاشبہ جائز ہے۔اس صورت میں یہ مدرسہ مسجد کے حکم میں باقی نہیں رہے گا،اور اسی بنا پر اس میں وہ تمام کام جائز ہوجائیں گے جوایک مدرسے میں کیے جاسکتے ہیں۔(مستفاد از جواہر الفقہ : 3 / 124 ) 3… استثناءِ مذکور کو کام میں لاتے ہوئے مسجد کے کسی حصّے کو تعزیت کنندگان کے بیٹھنے کے لئے وقف کرنا جائز نہیں ہے۔کیونکہ نفسِ تعزیت اگرچہ قربت ہےمگر ”الجلوس للتعزية “ (تعزیت کے لیے بیٹھنے کا اہتمام کرنا)قربت نہیں ہے۔زیادہ سے زیادہ اسکو رخصت کہا گیا ہے۔اور وقف کے صحیح ہونے کے لئے قربت ہونا شرط ہے۔اور اگر اس حصّے کو اصلا مدرسے کی ضروریات کے لئے وقف کیا اور تبعا اس میں تعزیت کے لئے استعمال کرنے کی نیت بھی کی تب بھی جائز نہیں ، اس لئے کہ اس صورت میں مسجد کی زمین کو عاریت پر دینا لازم آئے گا، جو کہ وقف میں جائز نہیں ہےاوربہت سے ائمّۂ متاخّرین تو تعزیت کے لئے گھر میں بیٹھنے کےالتزام کوبھی مکروہ اور ناجائز کہتے ہیں۔اور یہ تفصیل تب ہے جب یہ مجلسیں محظوراتِ شرعیّہ سے پاک ہوں۔اور اگر ان قباحتوں پر بھی مشتمل ہوں جن میں سے چند کا سوال میں ذکر ہوا ہے( اور وہ بھی ایسی جگہوں میں جوباوجود استثناء کے شرعا مسجد کے تابع اور ملک ہیں ) توکیا ایسی صورتِ حال میں ان قباحتوں کو بنیاد بنا کر مسجد کی مسجدیّت میں تخصیص کرنے کی ضرورت ہے یا ان قباحتوں کو دور کرنے کی؟ خیال رہے! مندرجہ بالا جواز کی صورتوں میں مسجد کی زمین تا قیامت مسجد کی ہی رہے گی البتہ بعض احکام مثلا اخراجات میں مدرسے کی تابع شمار ہوگی، اورجو شخص مدرسے کا متولّی ہوگا وہی اس مسجد کا بھی شرعا متولّی مانا جائے گا۔اور مسجد کا تہہ خانہ یا بالائی حصّہ مسجد کی ملک اور تابع ہوگا۔ ( ردّ المحتار،كتاب الوقف ، مطلب شرائط الواقف معتبرة ...، ٤ / 343 ، ط : ايج ايم سعيد) فإن شرائط الواقف معتبرة إذا لم تخالف الشرع وهو مالك، فله أن يجعل ماله حيث شاء ما لم يكن معصية وله أن يخص صنفا من الفقراء ولو كان الوضع في كلهم قربة، ( الهداية ،كتاب الوقف ، 2 / 454 ، ط :البشرى) وعن أبي يوسف﷫أنه جوّز في الوجھين حين قدم بغداد ورأى ضيق المنازل، فكأنه اعتبره الضرورة… لأن المسجد ما لا يكون لأحد فيه حقّ المنع. (فتاوی محمودیہ ،کتاب الوقف ، بابِ ہشتم ، فصلِ دوم : 23 /103 ، ط : مکتبہ محمودیہ یو پی الہند) (جواہر الفقہ ، آداب المساجد :3 / 126 ، ط: مکتبہ دار العلوم کراچی) ( البحر الرّائق ،كتاب الوقف : ٥ / ٤٢١ ، ط : رشيدية) وحاصله أن شرط كونه مسجدا أن يكون سفله وعلوه مسجدا لينقطع حق العبد عنه لقوله تعالى {وأن المساجد لله} [الجن: 18] بخلاف ما إذا كان السرداب أو العلو موقوفا لمصالح المسجد فإنه يجوز إذ لا ملك فيه لأحد بل هو من تتميم ‌مصالح المسجد فهو كسرداب مسجد بيت المقدس هذا هو ظاهر المذهب… وبما ذكرناه علم أنه لو بنى بيتا على سطح المسجد لسكنى الإمام فإنه لا يضر في كونه مسجدا لأنه من المصالح. ( ردّ المحتار،كتاب الوقف ، مطلب في أحكام المسجد : ٤ / ٣٥٧ ،358، ط : ايج ايم سعيد) وبه صرح في الإسعاف فقال: وإذا كان السرداب أو العلو لمصالح المسجد أو كانا وقفا عليه صار مسجدا. اهـ. شرنبلالية. فرع: لو بنى فوقه بيتا للإمام لا يضر لأنه من المصالح، أما لو تمت المسجدية ثم أراد البناء منع ولو قال عنيت ذلك لم يصدق التاتارخانية،الدرّ ( تقريرات الرافعي على الردّ ،كتاب الوقف : ٤ / ٨٠، ط : ايج ايم سعيد) (قول المصنّف : لمصالحه) ليس بقيد بل الحكم كذالك إذا كان ينتفع به عامّة المسلمين على ما أفاده في غاية البيان حيث قال أورد الفقيه أبو الليث سؤالا وجوابا فقال : فإن قيل أليس مسجد بيت المقدس تحته مجتمع الماء والنّاس ينتفعون به قيل : إذا كان تحته شيء ينتفع عامّة المسلمين يجوز لأنه إذا انتفع به عامّتهم صار ذالك لله تعالى أيضا اه ومنه يعلم حكم كثير من مساجد مصر الّتي تحتها صهاريج ونحوها. ( ردّ المحتار،كتاب الوقف : ٤ / ٣٤٠، ط : ايج ايم سعيد) (وشرطه شرط سائر التبرّعات)کحريّة وتكليف(وأن يكون قربة) في ذاته. التنوير مع الدرّ ( ردّ المحتار،كتاب الصّلاة ، باب صلاة الجنازة : ٢ / ٢٤١، ط : ايج ايم سعيد) (قوله: وبالجلوس لها) أي للتعزية، واستعمال لا بأس هنا على حقيقته لأنه خلاف الأولى كما صرح به في شرح المنية.وفي الأحكام عن خزانة الفتاوى: الجلوس في المصيبة ثلاثة أيام للرجال جاءت الرخصة فيه... وفي الإمداد: وقال كثير من متأخري أئمتنا يكره الاجتماع عند صاحب البيت ويكره له الجلوس في بيته حتى يأتي إليه من يعزي، بل إذا فرغ ورجع الناس من الدفن فليتفرقوا ويشتغل الناس بأمورهم وصاحب البيت بأمره اهـ. فقط والله تعالى أعلم بالصواب كتبه : سعيد مدني عفا الله تعالى عنه المتخصص بمدرسة تعليم الاسلام شارع زونكی رام كوئٹہ 3،ذی الحجۃ،۱۴۴۷ھ الموافق:۲۰۲۶/05/20

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ جب دو چیزیں فی نفسہ (اپنی اصل میں) جائز ہوں، تو اصولی طور پر ان کی مرکب صورت بھی جائز ہی ہوتی ہے، کیونکہ محض ترکیب عدمِ جواز کی علت نہیں بن سکتی۔الّا یہ کہ یہ ترکیب کسی محظورِ شرعی کو مستلزم ہو (جیسے صفقہ فی صفقہ)، تو پھر اُس محظور شرعی تک مفضی ہونے کی وجہ سے ممنوع قرار پائے گا۔

  سوال میں مذکور دونوں مسئلے(متعلقہ شرائط کے ساتھ) اپنی اپنی جگہ جائز ہیں، جیسے کہ خود سائل تصریح کررہا ہے، تو اصولی طور پر ان کی مرکب صورت بھی (جب کہ شرائط کا لحاظ رکھا جارہا ہو) جائز ہونی چاہئے، کیونکہ اس ترکیب سے کوئی شرعی محظور لازم نہیں آرہا۔

مزید یہ کہ چونکہ یہ زمین اصالتاً مدرسے کے لیے وقف تھی اور ضرورت کے تحت وہاں مسجد بنائی جا رہی ہے، تو تہہ خانے (سرداب) یا علو کو مدرسے کے لیے مستثنیٰ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے اصل وقف کو کلیتاً ختم نہیں کیا، بلکہ اسے تہہ خانے یا بالائی منزل کی صورت میں باقی رکھا ہے۔ لہٰذا یہ ترکیب مقاصدِ واقف کے زیادہ قریب ہے۔

حوالہ جات

«فتح القدير للكمال بن الهمام - ط الحلبي» (6/ 234):

«قال: ومن جعل مسجدا تحته سرداب أو فوقه بيت وجعل باب المسجد إلى الطريق، وعزله عن ملكه فله أن يبيعه، وإن مات يورث عنه؛ لأنه لم يخلص لله تعالى لبقاء حق العبد متعلقا به، ولو كان السرداب لمصالح المسجد جاز كما في مسجد بيت المقدس. وروى الحسن عنه أنه قال: إذا جعل السفل مسجدا وعلى ظهره مسكن فهو مسجد؛ لأن المسجد مما يتأبد، وذلك يتحقق في السفل دون العلو. وعن محمد على عكس هذا؛ لأن المسجد معظم، وإذا كان فوقه مسكن أو مستغل يتعذر تعظيمه. وعن أبي يوسف أنه جوز في الوجهين حين قدم بغداد ورأى ضيق المنازل فكأنه اعتبر الضرورة.

وعن محمد أنه حين دخل الري أجاز ذلك كله لما قلنا.»

«فتح القدير للكمال بن الهمام - ط الحلبي» (6/ 234):

«(قوله ومن جعل مسجدا تحته سرداب) وهو بيت يتخذ تحت الأرض لتبريد الماء وغيره (أو فوقه بيت) ليس للمسجد واحد منهما فليس بمسجد (وله بيعه ويورث عنه إذا مات)، ولو عزل بابه إلى الطريق (لبقاء حق العبد متعلقا به) والمسجد خالص لله سبحانه ليس لأحد فيه حق قال الله تعالى {وأن المساجد لله} مع العلم بأن كل شيء له فكان فائدة هذه الإضافة اختصاصه به، وهو بانقطاع حق كل من سواه عنه وهو منتف فيما ذكر. أما إذا كان السفل مسجدا فإن لصاحب العلو حقا في السفل حتى يمنع صاحبه أن ينقب فيه كوة أو يتد فيه وتدا على قول أبي حنيفة، وباتفاقهم لا يحدث فيه بناء ولا ما يوهن البناء إلا بإذن صاحب العلو، وأما إذا كان العلو مسجدا فلأن أرض العلو ملك لصاحب السفل، بخلاف ما إذا كان السرداب أو العلو موقوفا لصاحب المسجد، فإنه يجوز إذ لا ملك فيه لأحد بل هو من تتميم مصالح المسجد فهو كسرداب مسجد بيت المقدس هذا هو ظاهر المذهب.

وروي عن أبي حنيفة أنه إذا جعل السفل مسجدا دون العلو جاز؛ لأنه يتأبد، بخلاف العلو، وهذا تعليل للحكم بوجود الشرط، فإن التأبيد شرط وهو مع المقتضى، وإنما يثبت الحكم معهما مع عدم المانع وهو تعلق حق واحد. وعن محمد عكسه؛ لأن المسجد معظم وهو تعليل بحكم الشيء وهو متوقف على وجوده (وعن أبي يوسف أنه جوز ذلك في الأولين لما دخل بغداد ورأى ضيق الأماكن و) كذا (عن محمد لما دخل الري) وهذا تعليل صحيح؛ لأنه تعليل بالضرورة»

«الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية» (2/ 455):

«ومن جعل مسجدا تحته سرداب أو فوقه بيت وجعل باب المسجد إلى الطريق وعزله فله أن يبيعه وإن مات يورث عنه، ولو كان السرداب لمصالح المسجد جاز كما في مسجد بيت المقدس كذا في الهداية.

إذا أراد إنسان أن يتخذ تحت المسجد حوانيت غلة لمرمة المسجد أو فوقه ليس له ذلك، كذا في الذخيرة.»

«الموسوعة الفقهية الكويتية» (12/ 295):

«جعل علو الدار مسجدا:

7 - أجاز الشافعية والمالكية والحنابلة جعل علو الدار مسجدا، دون سفلها، والعكس؛ لأنهما عينان يجوز وقفهما، فجاز وقف أحدهما دون الآخر، كالعبدين (2) .

ومن جعل مسجدا تحته سرداب أو فوقه بيت، وجعل باب المسجد إلى الطريق، وعزله عن ملكه، فلا يكون مسجدا، فله أن يبيعه، وإن مات يورث عنه لأنه لم يخلص لله تعالى، لبقاء حق العبد متعلقا به ولو كان السرداب لمصالح المسجد جاز، كما في مسجد بيت المقدس (1) .

هذا مذهب أبي حنيفة، خلافا لصاحبيه. وروى الحسن عن أبي حنيفة: أنه يجوز جعل السفل مسجدا وعليه مسكن، ولا يجوز العكس؛ لأن المسجد مما يتأبد، وروي عن محمد: عكس هذا؛ لأن المسجد معظم، وإذا كان فوقه مسكن أو مستغل فيتعذر تعظيمه. وعن أبي يوسف أنه جوزه في الوجهين حين قدم بغداد، ورأى ضيق المنازل، فكأنه اعتبر الضرورة.

أما لو تمت المسجدية ثم أراد البناء منع (2) .»

«تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي» (3/ 330):

«[حاشية الشلبي]

قوله في المتن ومن جعل مسجدا تحته سرداب) قال في الهداية ومن جعل مسجدا تحته سرداب أو فوقه بيت وجعل باب المسجد إلى الطريق وعزله فله بيعه وإن مات يورث عنه قال الأتقاني وهذا ظاهر الرواية وهو من خواص الجامع الصغير. اهـ. (قوله والمسجد لا يكون إلا خالصا لله تعالى إلخ) ولأن اتخاذ المسجد عرف بالشريعة وفي الشريعة لم يكن المسجد إلا وما فوقه وتحته لله ألا ترى إلى مسجد رسول الله صلى الله عليه وسلم الذي بناه بالمدينة وإلى المسجد الحرام الذي بناه إبراهيم - صلوات الله وسلامه عليه - بمكة وإلى مسجد بيت المقدس الذي بناه داود النبي - صلوات الله وسلامه عليه - بالرخام والمرمر وجعل عليه قبة من ياقوت أحمر وجعل فوق ذلك جوهرا يضيء فراسخ تغزل بضوئها النساء في ظلمة الليالي فكل مسجد لم يكن كذلك بأن لا يكون خالصا لله لم يجز أورد أبو الليث هنا سؤالا وجوابا فقال فإن قيل أليس مسجد بيت المقدس تحته مجتمع الماء والناس ينتفعون به قيل إذا كان تحته شيء ينتفع به عامة المسلمين يجوز لأنه إذا انتفع به عامة المسلمين صار ذلك لله تعالى أيضا.

وأما الذي اتخذ بيتا لنفسه لم يكن خالصا لله تعالى فإن قيل لو جعل تحته حانوتا وجعله وقفا على المسجد قيل لا يستحب ذلك ولكنه لو جعل في الابتداء هكذا صار مسجدا وما تحته صار وقفا عليه ويجوز المسجد والوقف الذي تحته ولو أنه بنى المسجد أولا ثم أراد أن يجعل تحته حانوتا للمسجد فهو مردود باطل وينبغي أن يرد إلى حاله إلى هنا لفظ الفقيه والسرداب بكسر السين كذا في ديوان الأدب وهو بيت تحت الأرض للتبريد. اهـ. مغرب. اهـ. أتقاني. (قوله وعن أبي يوسف أنه أجاز الوجهين) يعني فيما إذا كان تحته سرداب وفوقه بيت اهـ (قوله وروي عن محمد مثله حين قدم الري) قال الكمال وهذا تعليل صحيح لأنه تعليل بالضرورة اهـ وكتب على قوله مثله وهذه الروايات كلها خلاف ظاهر الرواية اهـ.»

«العناية شرح الهداية - بهامش فتح القدير ط الحلبي» (6/ 234):

«والسرداب بكسر السين معرب سردابة. وهو بيت يتخذ تحت الأرض للتبريد.

وقوله (فله أن يبيعه) أي لا يكون مسجدا وهو ظاهر الرواية، لأن المسجد ما يكون خالصا له تعالى، قال تعالى {وأن المساجد لله} أضاف المساجد إلى ذاته مع أن جميع الأماكن له،«فاقتضى ذلك خلوص المساجد لله تعالى، ومع بقاء حق العباد في أسفله أو في أعلاه لا يتحقق الخلوص (قوله وعن أبي يوسف أنه جوز في الوجهين) يعني فيما إذا كان تحته سرداب أو فوقه بيت. وعن محمد أنه أجاز ذلك كله: أي ما تحته سرداب وفوقه بيت مستغل أو دكاكين، وإنما ذكر قول محمد بهذا الطريق ولم يقل وعن أبي يوسف ومحمد مع أن هذين القولين منهما في الحكم سواء ليتهيأ له ما ذكر لكل واحد منهما من دخول مخصوص في مصر مخصوص، ولأنه ذكر زيادة التعميم بلفظ الكل في قول محمد، وقوله لما قلنا يعني من الضرورة.»

«البناية شرح الهداية» (7/ 454):

«(ومن جعل مسجدًا تحته سرداب) ش: بكسر السين معرب سرورية وهو بيت يتخذ تحت الأرض للتبريد وهي معروفة سردابة. م: (أو فوقه) ش: أي فوق المسجد. م: (بيت وجعل باب المسجد إلى الطريق وعزله عن ملكه فله أن يبيعه) ش: أي لا يكون مسجدًا. م: (وإن مات يورث عنه لأنه لم يخلص لله تعالى لبقاء حق العبد متعلقًا به) ش: والمسجد ما يكون خالصًا لله تعالى.

م: (ولو كان السرداب لمصالح المسجد جاز كما في بيت المقدس) ش: لأنه حينئذ لا يكون السرداب مملوكًا لأحد كما أن سرداب بيت المقدس ليس بمملوك لأحد. م: (وروى الحسن رحمه الله عنه) ش: أي عن أبي حنيفة رضي الله عنه. م: (أنه قال: إذا جعل السفل مسجدًا وعلى ظهره مسكن فهو مسجد؛ لأن المسجد مما يتأبد، وذلك) ش: أي التأبيد. م: (يتحقق في السفل دون العلو) «ش: فإنه لا يتأبد فيه.

م: (وعن محمد رحمه الله على عكس هذا) ش: أي روي عن محمد رحمه الله عكس هذا بأن جعل العلو مسجدًا صح، وإذا جعل السفل لا يصح. م: (لأن المسجد يعظم، وإن كان فوقه مسكن أو مستغل) ش: أي يكرى للاستغلال. م: (يتعذر تعظيمه) ش:

وعن بعض المشايخ إذا كان العلو مسجدًا والسفل حوانيت موقوفة على المسجد أو على الأغلب لا بأس به؛ لأن الكل منقطع عن حقوق العباد، ولو كان تحته حوض العامة اختلف فيه على قول من يجوز اتخاذ العلو مسجدًا، قيل: لا يجوز قياسًا على الحوض الحاض، وقيل: يجوز.

م: (وعن أبي يوسف رحمه الله أنه جوز في الوجهين) ش: يعني إذا كان تحته سرداب أو فوقه بيت. م: (حين قدم بغداد ورأى ضيق المنازل، فكأنه اعتبر الضرورة، وعن محمد رحمه الله أنه حين دخل الري أجاز ذلك كله لما قلنا) ش: أي للضرورة.

وإنما أعاد ذكر قول محمد رحمه الله بهذا الطريق ولم يقله عن أبي يوسف ومحمد مع أن هذين القولين في الحكم عندهما سواء [ … ] ما ذكر لكل واحد من دخول مخصوص في مصر مخصوص، ولزيادة [

] التعليم بلفظ الكل، وكذلك عطف على قوله، ومن جعل مسجدًا تحته سرداب فله أن يبيعه.»

(تیسرا حصہ: جواہر الفقہ جلد سوم ۱۳۶ آداب المساجد)

(مسئلہ) اگر کوئی مسجد ایسی بنادی جائے کہ نیچے دکانیں یا تہہ خانے وغیرہ بنالے۔

 اقول: اس باب میں تتبع وتفحص بالغ روایات فقہیہ کے جو میں سمجھا ہوں وہ معروض ہے۔

  1.  ماخوذ اس مسئلہ کا بیت المقدس کے سرادیپ ہیں جن پر خیر القرون میں کسی نے نکیر نہیں کیا اس سے سمجھا گیا کہ مصالح مسجد کے لئے دوسرا درجہ جو بناء میں مسجد کے تابع ہو مشروع ہے۔
  2.  یہ حکم تعبدی نہیں بلکہ اشتراک علت تبعیت قیاساً متعدی ہو سکتا ہے۔
  3. اگر مصالح ویسے ہی ہوں جو سرادیپ مذکورہ سے متعلق ہوں اور تبعیت کی وہی ہیئت جو اُن سرادیپ میں ہے تب تو قیاس یہی ہے اور اگر مصالح دوسری قسم کے ہوں جیسے وقف بالاستغلال للمسجد یا ہیئت تبعیت دوسری طور کی ہو جیسے مسجد کا علو پر ہونا یا مسجد پر علو کا ہونا، اس کا الحاق خفی ہے، چنانچہ بہت روز تک مجھ کو اس میں تردد رہا، لیکن شامی نے کتاب الوقف میں اسعاف سے ایک عبارت نقل کی ہے۔ واذا كان السراديب او العلو لمصالح المسجد او كان وقفا عليه صار مسجد ا. شرنبلا ليه. اس میں او كان وقفاً عليه کا عطف كان لمصالح المسجد پر ہے، اس سے ظاہر ہوا کہ استغلال للمسجد کا حکم بھی یہی ہے، خواہ اس کا نام مصالح مسجد رکھا جائے خواہ فی حکم مصالح المسجد رکھا جائے ، بہرحال حکم مشترک ہے اور ہدایہ میں ہے۔ وروى الحسن عنه اى عن ابى حنيفة انه اذا جعل السفل مسجدًا او علاہ مسكن فهو مسجد وعن محمد عكس هذا اى جعل العلو مسجدًا يصح ١٢، وعن ابى يوسف انه جوز فى الوجهين عن محمد انه حين دخل الرى اجاز ذلك كله لما قلنا( من الضرورة اھ)ملخصًا اس سے ظاہر ہے کہ یہ سب شکلیں تبعیت کی مقیس علیہ کے ساتھ ملحق ہیں۔
  4. یہ الحاق بالقیاس بضرورت ہے، چنانچہ ہدایہ کی مذکورہ عبارت میں ضرورت کا بناء الحاق ہونا مصرح ہے۔
  5.  اس دوسرے درجہ کی بناء مشروط ہے اس کے ساتھ کہ مسجد کی مسجدیت کے قبل بانی کی نیت اس بناء کی ہو ورنہ بعد تمامیت مسجد کے ایسا کوئی تصرف جائز نہیں۔
  6. ) فقہاء نے جو مسجد کو عنان سماء وتحت الثریٰ تک مسجد کہا ہے یہ تقیید ہے اس صورت کے ساتھ جب کہ بناء مسجد کے وقت دوسرے درجہ فوقانی یا تحتانی کے بنانے کی نیت نہ ہو۔
  7.  ونبهت عليه لغفلة كثير من الناس عنه حتى المنسوبين الى العلم ان سب احکام میں فناء مسجد بھی یعنی حصہ متعلقہ مسجد ہی کے حکم میں ہے۔

فى البحر الرائق فى المجتبى لا يجوز لقيم المسجد ان يبنى حوانيت فى حد المسجد او فنائه (ج ۸ ص ۲۶۹)

( احسن الفتاوی :ج،6 ص، 443 )

سوال : مسجد کے اوپر مدرسہ کی تعمیر کرنا جائز ہے یا نہیں؟ بینواتوجروا الجواب باسم ملہم الصواب قال فی التنویر واذا جعل تحتہ سردابا لمصالحہ ای المسجد جاز کمسجد القدس (رد المحتار ص ۳۸۲ ج ۳)

وقال الرافعی رحمہ اللہ تعالیٰ (قول المصنف لمصالحه) لیس بقید بل الحکم کذلک اذا کان ینتفع بہ عامۃ المسلمین علی ما افادہ فی غایۃ البیان حیث قال اورد الفقیہ ابواللیث سؤالا وجوابا فقال فان قیل الیس مسجد بیت المقدس تحتہ مجتمع الماء والناس ینتفعون بہ قیل اذا کان تحتہ شیء ینتفع بہ عامۃ المسلمین یجوز لانہ اذا انتفع بہ عامتہم صار ذلک للہ تعالیٰ ایضا اھ ومنہ یعلم حکم کثیر من مساجد مصر التی تحتہا صہاریج ونحوہا (التحریر المختار ص ۸۰ ج ۲)

وفی الہندیۃ ومن جعل مسجدا تحتہ سرداب او فوقہ بیت وجعل باب المسجد الی الطریق وعزلہ فلہ ان یبیعہ وان مات یورث عنہ ولو کان السرداب لمصالح المسجد جاز کما فی مسجد بیت المقدس کذا فی الہدایۃ (عالمگیریۃ ص ۲۵۵ ج ۲)

عبارت اولیٰ وثالثہ کا ظاہر عدم جواز پر دال ہے لان مفہوم الفقھاء رحمہم اللہ تعالیٰ حجة بالاتفاق۔ اور روایت ثانیہ میں جواز کی تصریح ہے، اس لئے بوقت ضرورتِ شدیدہ گنجائش معلوم ہوتی ہے، مگر یہ اجازت اس صورت میں ہے کہ ابتداء ہی سے مسجد کے اوپر یا نیچے مدرسہ بنانے کا ارادہ ہو، اگر ابتداءً ارادہ نہ تھا بلکہ مسجد کی حدود متعین کر کے اس رقبہ کے بارے میں زبان سے کہہ دیا کہ یہ مسجد ہے، اسکے بعد اوپر مدرسہ بنانے کا ارادہ ہوا تو جائز نہیں۔

قال فی شرح التنویر لو بنی فوقہ بیتا للامام لا یضر لانہ من المصالح اما لو تمت المسجدیة ثم اراد البناء منع ولو قال عنیت ذلک لم یصدق (رد المحتار ص ۳۵۸ ج ۳) واللہ تعالیٰ اعلم ۱۳ ربیع الاول سنہ ۱۳۹۶ھ

محمدسعید خان آفریدی

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

 14/محرم الحرام /1447ھ  

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد سعید خان آفریدی بن معین خان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب