03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
فارمیسی کا ٹارگٹ پورا ہونے پر کمپنی سے اضافی ڈسکاؤنٹ لینے کا حکم
92136جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے ساتھ ایک فارمیسی بھی ہے جو میرے بڑے بھائی چلاتے ہیں اور میں اسی جگہ کلینک کرتا ہوں۔ مجھے ایک فتوے میں یہ بات ملی تھی کہ ایکسٹرا ڈسکاؤنٹ لیا جا سکتا ہے۔ لیکن عملی طور پر کمپنیز عموماً یہ ڈسکاؤنٹ یا مراعات تب دینا چاہتی ہیں جب ان کا ٹارگٹ پورا ہو جائے۔

اس حوالے سے میرا سوال یہ بھی ہے کہ کیا کوئی ایسی جائز صورت نکل سکتی ہے جس میں کلینک یا فارمیسی کو اس معاملے میں شامل کیا جائے، کمپنی کے ساتھ کوئی ایسا معاہدہ کیا جائے جس میں حرام کا عنصر نہ ہو، بلکہ جائز طریقے سے ڈسکاؤنٹ، سپورٹ یا مراعات حاصل کی جا سکیں؟براہِ کرم رہنمائی فرما دیں کہ:

  1. . فارمیسی کے ذریعے اضافی ڈسکاؤنٹ یا کمپنی سے کوئی جائز معاملہ کرنے کی کیا شرعی صورت ہو سکتی ہے؟
  2. کیا کوئی ایسا طریقہ یا معاہدہ ممکن ہے جس میں کمپنی، کلینک اور فارمیسی تینوں شامل ہوں، لیکن اس میں رشوت، دھوکہ، مریض کا نقصان یا حرام کمیشن کا پہلو نہ ہو؟جزاکم اللہ خیراً۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

آپ کے سوالات کےجوابات درج ذیل ہے:

1۔صورتِ مسئولہ میں فارمیسی کو مقررہ ٹارگٹ کی تکمیل پر کمپنی کی جانب سے ملنے والا اضافی ڈسکاؤنٹ درج ذیل شرائط کے ساتھ جائز ہے:

(الف)فارمیسی محض اضافی ڈسکاؤنٹ وصول کرنے کی خاطر ڈاکٹر کو غیر معیاری، غیر ضروری اور مہنگی ادویات تجویز کرنے پر پابند نہ کرے۔

(ب)فارمیسی صرف وہی دوا دے گی جس کی تجویز ڈاکٹر نے کی ہو، اپنے ٹارگٹ کی خاطر کسی اور کمپنی کی دوا نہیں دے گی۔

اگر فارمیسی ڈاکٹر کو کسی ایک کمپنی کی دوا لکھنے کا پابند کرتی ہے، یا ڈاکٹر کی تجویز کردہ دوا کے علاوہ صرف اسی کمپنی کی دوا دیتی ہے جس سے اضافی ڈسکاؤنٹ ملتا ہے، تو اس صورت میں یہ ناجائز ہوگا۔

2۔ اگر سوال نمبر ایک اور سوال نمبر دو کے تمام شرائط کا لحاظ رکھتے ہوئے کام کیا جائےتو جائز ہے، ورنہ نہیں۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4/ 560):

وأما الدلال فإن باع العين بنفسه بإذن ربها فأجرته على البائع وإن سعى بينهما وباع المالك بنفسه يعتبر العرف وتمامه في شرح الوهبانية.َ....  (قوله: يعتبر العرف) فتجب الدلالة على البائع أو المشتري أو عليهما بحسب العرف جامع الفصولين.

درر الحكام شرح مجلة الأحكام (1/ 231):

 إذا باع الدلال مالا بإذن صاحبه تؤخذ أجرة الدلالة من البائع ولا يعود البائع بشيء من ذلك على المشتري لأنه العاقد حقيقة وظاهره أنه لا يعتبر العرف هنا لأنه لا وجه له أما إذا كان الدلال مشى بين البائع والمشتري ووفق بينهما ثم باع صاحب المال ماله ينظر فإن كان مجرى العرف والعادة أن تؤخذ أجرة الدلال جميعها من البائع أخذت منه أو من المشتري أخذت منه أو من الاثنين أخذت منهما  أما إذ باع الدلال المال فضولا لا بأمر صاحبه فالبيع المذكور موقوف ويصبح نافذا إذ أجاز صاحب المال وليس للدلال أجرة في ذلك لأنه عمل من غير أمر فيكون متبرعا۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 63):

قال في التتارخانية: وفي الدلال والسمسار يجب أجر المثل، وما تواضعوا عليه أن في كل عشرة دنانير كذا فذاك حرام عليهم. وفي الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسدا لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز، فجوزوه لحاجة الناس إليه كدخول الحمام وعنه قال: رأيت ابن شجاع يقاطع نساجا ينسج له ثيابا في كل سنة.

ابن امین صاحب دین

دارالافتاءجامعۃالرشیدکراچی

19/محرم الحرام /1448ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

ابن امین بن صاحب دین

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب