| 92135 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
میرا سوال یہ ہے کہ میں ایک ڈاکٹر ہوں۔ میرے پاس مریض آتے ہیں اور میں انہیں وہی دوا لکھتا ہوں جس کی واقعی ضرورت ہوتی ہے۔ میں غیر ضروری دوا نہیں لکھتا۔ بعض اوقات میں ایک خاص فارمولا یا دوا لکھنا چاہتا ہوں، اور اسی حوالے سے ایک بین الاقوامی/ملٹی نیشنل کمپنی مجھ سے رابطہ کرتی ہے اور کہتی ہے کہ آپ اس فارمولے میں ہماری کمپنی کی دوا لکھیں۔ اگر آپ ہمارا دیا ہوا ہدف/ٹارگٹ پورا کریں گے تو ہم آپ کو کچھ مراعات یا فائدہ دیں گے۔
میری کلینک کی فیس اس وقت تقریباً سو روپے ہے۔ میں چاہوں تو یہ فیس بڑھا بھی سکتا ہوں، لیکن میری کوشش یہ ہے کہ عوام پر بوجھ کم رہے۔ اگر دوا ساز کمپنی میرے کچھ کلینک کے اخراجات، مثلاً بل، کرایہ یا دیگر ضروری اخراجات میں تعاون کر دے، تو میں اپنی فیس کم رکھ سکتا ہوں اور عوام کو سستی فیس میں معیاری طبی مشورہ دے سکتا ہوں۔
میرا سوال یہ ہے کہ اگر میں مریض کو صرف وہی دوا لکھوں جس کی اسے واقعی ضرورت ہو، دوا غیر معیاری نہ ہو، اور میری وجہ سے اس دوا کی قیمت مریض کے لیے نہ بڑھ رہی ہو، کیونکہ کمپنی کا مارکیٹنگ بجٹ پہلے سے مقرر ہوتا ہے، تو ایسی صورت میں کمپنی سے کمیشن، مراعات یا تعاون لینا شرعاً کیسا ہے؟براہِ کرم رہنمائی فرما دیں کہ:
- . ڈاکٹر کا کمپنی سے ٹارگٹ کی بنیاد پر کمیشن یا مراعات لینا جائز ہے یا نہیں؟
- . اگر ڈاکٹر غیر ضروری دوا نہ لکھے، صرف ضرورت کے مطابق دوا لکھے اور دوا معیاری ہو تو حکم میں کوئی فرق آئے گا یا نہیں؟
- اگر اس سپورٹ کی وجہ سے کلینک کی فیس کم رکھی جائے اور مریض پر مالی بوجھ کم ہو تو کیا یہ جائز صورت بن سکتی ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
آپ کے سوالات کےترتیب وار جوابات درج ذیل ہے:
1۔ ڈاکٹر کا مریض کے مصالح کو نظر انداز کرکے فارما سیوٹیکل کمپنی سے تحفے تحائف اور دیگر مراعات لے کر ان کی دوائی فروخت کروانا جائز نہیں بلکہ رشوت اور حرام ہے،کیونکہ یہ بات ڈاکٹر کے فرائض منصبی میں داخل ہے کہ وہ مریض کوغیر ضروری اخراجات سے بچاتے ہوئے معیاری دوا تجویز کرے،چونکہ اس طرح مراعات لینے کی صورت میں ڈاکٹر مریضوں کی مصلحت نظر انداز کرکے مراعات دہندہ کمپنیوں کی دوائیاں تجویز کرتے ہیں اس لیے ان مراعات کا لینا دینا حرام ہےاسی طرح غیر ضروری مراعات سےبھی بچناضروری ہے ۔کیونکہ ان کی وجہ سے بہت دفعہ مریضوں کے مصالح پر سمجھوتا کرنا پڑے گا ۔البتہ اگر درج ذیل شرائط کا خیال رکھا جائے تو ہلکی پھلکی وہ مراعات جو تشہیر کے لیے عام طور پر مروج ہیں وہ لینا جائز ہے،جیسے معمولی کمیشن،پین،کیلنڈر یا ڈائری وغیرہ۔
(الف)محض کمیشن وصول کرنے کی خاطر ڈاکٹر غیر معیاری و غیر ضروری اور مہنگی ادویات تجویز نہ کرے۔
(ب)ڈاکٹر دوا کے معیار سے مطمئن ہو۔
(ث)ڈاکٹر صرف یہی دوا لکھنے کا پابند نہیں ہوگا بلکہ اس کے علم کے مطابق اگر اس سے بہتر دوا موجود ہو تو مریض کے لیے اسے تجویز کرے۔
2۔ایسی صورت میں بھی غیر معمولی مراعات سے بچنا ضروری ہوگا۔
3۔اگر معمولی مراعات ہیں اور دوا کا معیار بھی درست ہو تو مزید فیس میں رعایت کرنا بھی ایک مناسب احتیاطی قدم ہوسکتا ہے۔تاہم غیر معمولی مراعات جیسے کلب کی ممبرشپ یا پاکستان ٹور یا فارن ٹرف وغیرہ سے ہر صورت گریز کرنا ضروری ہے۔
حوالہ جات
البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري(6/ 305):
وقدمنا عن الأقطع الفرق بين الهدية والرشوة أن الرشوة ما كان معها شرط الإعانة بخلاف الهدية وفي خزانة المفتين مال يعطيه ولا يكون معها شرط والرشوة مال يعطيه بشرط أن يعينه.
المحيط البرهاني (7/ 485):
وفي) نوادر ابن سماعة(عن أبي يوسف: رجل ضل شيئا، فقال: من دلني عليه فله درهم فدله إنسان فلا شيء له؛ لأن الدلالة والإشارة ليست بعمل يستحق به الأجر، ولو قال لإنسان بعينه: إن دللتني عليه فلك درهم، فإن دله من غير شيء معه فكذلك الجواب لا يستحق به الأجر وإن مشى معه ودله فله أجر مثله، لأن هذا عمل يقابل الأجر عرفا وعادة إلا أنه غير مقدر ففسد العقد ووجب به أجر المثل.
فتح القدير للكمال بن الهمام - ط الحلبي(7/ 254):
ثم الرشوة أربعة أقسام: منها ما هو حرام على الآخذ والمعطي وهو الرشوة على تقليد القضاء والإمارة لا يصير قاضيا. الثاني ارتشاء القاضي ليحكم وهو كذلك حرام من الجانبين ثم لا ينفذ قضاؤه في تلك الواقعة التي ارتشى فيها سواء كان بحق أو بباطل. أما في الحق فلأنه واجب عليه فلا يحل أخذ المال عليه. وأما في الباطل فأظهر.
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (4/ 24):
ولو استأجرها للطبخ والخبز؛ لم يجز ولا يجوز لها أخذ الأجرة على ذلك؛ لأنها لو أخذت الأجرة لأخذتها على عمل واجب عليها في الفتوى فكان في معنى الرشوة فلا يحل لها الأخذ.
إعلاء السنن (٦٤/١٥):
والحاصل أن حد الرشوة هو ما يؤخذ عما وجب علي الشخص سواء كان واجبا على العين أو على الكفاية وسواء كان وجبا حقا للشرع كما في القاضي وأمثاله ...... أو كان واجباً عقداً كمن آخر نفسه لإقامة أمر من الأمور المتعلقة بالمسلمين فيما لهم، أو عليهم كأعوان القاضي، وأهل الديوان وأمثالهم.
(صحيح مسلم: 1/99)
عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "... ومن غشنا فليس منا."
ابن امین صاحب دین
دارالافتاءجامعۃالرشیدکراچی
19/محرم الحرام /1448ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | ابن امین بن صاحب دین | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


