| 91061 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
یہ کہا جا رہا ہے کہ دجال کے فتنے سے بچنے کے لیے یہ ایک راستہ ہےکہ ہم خود کو off-grid کر لیں یعنی ہم گاؤں کی زندگی اختیار کریں ،وہاں پر اپنی کچھ زمین لے کر اس پر اناج کاشت کریں اور کچھ جانور وغیرہ رکھ لیں ،تاکہ دجال کے فتنے سے بچ سکیں ،کیونکہ دجال نے ا گر کھانا پینا اپنے ہاتھ میں کر لینا ہے، تو لوگ فاقوں سے ختم ہوں گے ،اس لیے اپنی زمین اور اپنا اناج ہوگا ،تو کافی حد تک دجال سے محفوظ رہ سکیں گے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ایسا کرنا صحیح ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اسلام میں رہبانیت ناپسندیدہ چیزہے ۔تاہم اگرکبھی دینی امور کی مخالفت اس قدر عام ہو جائے کہ اپنے دین کی حفاظت مشکل ہو جائے، حفاظتِ دین کے اسباب و ذرائع مفقود ہو جائیں اور مستند علماء عوام کومشورہ دیں کہ اب تنہائی میں رہنا مناسب ہے۔توعوام کوچاہیے کہ حفاظت ِدین کی خاطر ایسے بگڑے ہوئے معاشرے سے دوری اختیار کرلے۔ اسی کی طرف ایک حدیث میں اشارہ ہے،چناچہ صحیح بخاری میں ہے" ا ٓپ ﷺنے فرمایا:کہ وہ زمانہ قریب ہے جب مسلمان کابہترین مال بکریاں ہوں گی ،جن کے پیچھے وہ پہاڑ کی چوٹیوں اور بارش کے مقامات میں اپنادین فتنوں سے بچاتاہوا بھاگتا پھرے گا"۔
آج کے زمانے میں تاحال ایسے حالات سامنے نہیں آئےکہ رہبانیت اختیار کرنا ضروری ہو ،بلکہ معاشرے میں رہ کرخرابیوں سے بچنے اور ان کی اصلاح کی کوشش کرنا ضروری ہے۔نیز عوام میں رہ کراپنے آپ کو گناہوں سے بچانا،خلوت نشینی سے زیادہ فضیلت اور ثواب کی چیز ہے۔تاہم بطور تیاری اگر کوئی عارضی طور پر پہاڑوں میں بکریوں کے ساتھ قدرتی ماحول میں رہناچاہے ،تواس میں حرج نہیں ۔
حوالہ جات
صحيح البخاري (1/ 15):
عن أبي سعيد الخدري أنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:
(يوشك أن يكون خير مال المسلم غنم يتبع بها شعف الجبال ومواقع القطر، يفر بدينه من الفتن).
شرح صحيح البخاري لابن بطال (1/ 71):
باب مِنَ الدِّينِ الْفِرَارُ مِنَ الْفِتَنِ
فيه: أبو سعيد الخدرى، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : تمت يوشك أن يكون خير مال المسلم غنم يتبع بها شعف الجبال، ومواقع القطر يفر بدينه من الفتن -. قال المؤلف: هذا الحديث يدل على إباحة الانفراد والاعتزال عند ظهور الفتن، طلبا لإحراز السلامة فى الدين، خشية أن تحل عقوبة فتعم الكل، وهذا كله من كمال الدين، وقد جاء فى الحديث: تمت أنه إذا فشا المنكر، وكان بالناس قوة على تغييره، فلم يغيروه امتحنهم الله بعقوبة، وبعث الصالحين على نياتهم، وكان نقمة للفاسقين، وتكفيرا للمؤمنين -. وقد اعتزل سلمة بن الأكوع عند قتل عثمان، وقال له الحجاج: أرتددت على عقبيك، تعربت؟ قال: لا، ولكن رسول الله أذن لى فى البدو. وقال أبو الزناد: خص الغنم من بين سائر الأشياء حضا على التواضع وتنبيها على إيثار الخمول وترك الاستعلاء والظهور، وقد رعاها الأنبياء والصالحون، وقال صلى الله عليه وسلم : تمت ما بعث الله نبيا إلا رعى الغنم وأخبر أن السكينة فى أهل الغنم.
عمدة القاري شرح صحيح البخاري (1/ 163):
(بيان استنباط الفوائد) : وهو على وجوه. الأول: فيه فضل العزلة في أيام الفتن إلا أن يكون الإنسان ممن له قدرة على إزالة الفتنة، فإنه يجب عليه السعي في إزالتها، إما فرض عين وإما فرض كفاية بحسب الحال والإمكان، وأما في غير أيام الفتنة فاختلف العلماء في العزلة والاختلاط أيهما أفضل؟ قال النووي: مذهب الشافعي والأكثرين إلى تفضيل الخلطة لما فيها من اكتساب الفوائد، وشهود شعائر الإسلام، وتكثير سواد المسلمين، وإيصال الخير إليهم ولو بعيادة المرضى، وتشييع الجنائز، وإفشاء السلام، والأمر بالمعروف والنهي عن المنكر، والتعاون على البر والتقوى، وإعانة المحتاج، وحضور جماعاتهم وغير ذلك مما يقدر عليه كل أحد، فإن كان صاحب علم أو زهد تأكد فضل اختلاطه. وذهب آخرون إلى تفضيل العزلة لما فيها من السلامة المحققة، لكن بشرط أن يكون عارفا بوظائف العبادة التي تلزمه وما يكلف به، قال: والمختار تفضيل الخلطة لمن لا يغلب على ظنه الوقوع في المعاصي.
حنبل اکرم
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
21 /محرم الحرام /1448ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | حنبل اکرم بن محمد اکرم | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


