| 91247 | اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائل | کرایہ داری کے جدید مسائل |
سوال
میں ایک ادارے میں ملازمت کرتا ہوں جہاں حاضری کا نظام بائیومیٹرک مشین کے ذریعے ہے۔ ادارے کے ضابطے کے مطابق صبح آتے وقت اور شام جاتے وقت دونوں مرتبہ بائیومیٹرک لگانا ضروری ہے۔ اگر ملازم ان میں سے کسی ایک وقت یا دونوں اوقات میں بائیومیٹرک لگانا بھول جائے، تو خواہ وہ پورا دن ادارے میں موجود رہ کر اپنے فرائض انجام دیتا رہا ہو، ادارہ اسے غیر حاضر شمار کرتا ہے اور اس دن کی تنخواہ کاٹ لیتا ہے۔ مزید یہ کہ اگر ملازم کی حاضری پر گواہ موجود ہوں یا وہ قسم کھانے کو تیار ہو کہ وہ واقعی حاضر تھا، تب بھی ادارہ نہ گواہی قبول کرتا ہے اور نہ قسم، بلکہ صرف بائیومیٹرک ریکارڈ کو معتبر سمجھتا ہے۔اب سوال یہ ہے کہ :
1۔ کیا ادارے کا یہ ضابطہ شریعتِ مطہرہ کی رو سے درست ہے کہ محض بائیومیٹرک نہ لگانے کی وجہ سے ایک ایسے ملازم کو غیر حاضر قرار دے کر اس کی تنخواہ کاٹ لے، جس نے اپنی خدمات پوری سر انجام دی ہوں؟
2۔ گواہوں اور قسم کو رد کر کے صرف مشینی ریکارڈ پر اعتماد کرنے کا شرعی حکم کیا ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
1۔ واضح رہے کہ کسی ادارے کا ملازم "اجیرِ خاص" ہوتا ہے۔ اجیرِ خاص وہ ہے جو ایک وقتِ معلوم کے لیے کسی ایک مستأجر (ادارے) کی خدمت پر مامور ہو۔ شرعی اصول یہ ہے کہ اجیرِ خاص اپنی مدتِ ملازمت میں خود کو کام کے لیے پیش کر دینے (تسلیمِ نفس) ہی سے اجرت کا مستحق ہو جاتا ہے، خواہ اس سے کام لیا جائے یا نہ لیا جائے۔
بائیومیٹرک مشین حاضری کی تصدیق کا محض ایک مشینی ذریعہ ہے، جو نظام کی شفافیت اور سہولت کے لیے لگایا جاتا ہے۔ وہ بذاتِ خود "مقصودِ عقد" نہیں ہوتا۔
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر ملازم سارا دن ادارے میں رہ کر اپنے فرائض انجام دے چکا ہو تو اس نے معاہدے کی روح، یعنی "خود کو کام کے لیے پیش کر دینا"، پوری کر دی۔ نیز اگر اس نے اپنی موجودگی پر دو گواہ بھی پیش کیے ہوں تو محض ایک انتظامی طریقۂ کار (بائیومیٹرک) پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے ان کی موجودگی اور کام کا انکار کرنا، اور تنخواہ کاٹ کر اس پر مالی جرمانہ عائد کرنا، شرعاً درست نہیں۔
البتہ ملازم کی تاخیر کی وجہ سے صرف اتنی اجرت کی کٹوتی جائز ہے جتنی تاخیر ہوئی ہو۔ پورے دن کی تنخواہ کی کٹوتی جائز نہیں، اگرچہ کسی مصلحت کی وجہ سے کی گئی ہو۔ لیکن اگر کٹوتی کر لی گئی ہو تو اس رقم کو واپس کرنا ضروری ہے۔ادارے کیلئے ان پیسوں کااستعمال جائز نہیں۔
2۔ اسلامی نظامِ عدل میں کسی بھی متنازع معاملے کے فیصلے کے لیے مدعی پر "بینہ" (واضح گواہی) اور اس کے پاس گواہ موجود نہ ہونے کی صورت میں مدعی ٰ علیہ (ادارہ) پر"یمین" (قسم) آتی ہے ۔صورت مسئولہ میں مدعی (ملازم) کے پاس گواہ موجود ہیں ۔
لہذا مشینی ریکارڈ غلطی یا بھول چوک کا شکار ہو سکتا ہے، لیکن معتبر گواہوں کی موجودگی اور ملازم کی قسم حقیقتِ واقعہ کو ظاہر کرنے کے لیے کافی ہے۔ اگر ملازم کی حاضری میں اختلاف ہو، تو شرعی قاعدہ یہ ہے کہ "حالتِ حال" (تحکیم الحال) کو دیکھا جائے۔ اگر ساتھی ملازمین یا دیگرریکارڈ یہ گواہی دیں کہ وہ شخص وہاں موجود تھا، تو ان گواہوں کو رد کر کے صرف مشینی خاموشی پر بھروسہ کرنا شرعی اصولوں کے خلاف ہے۔ بینہ (گواہی) تمام لوگوں کے حق میں حجتِ متعدیہ (Transitive proof) ہے۔
حوالہ جات
«المحيط البرهاني» (7/ 595):
«ولو كان استأجره مدة معلومة على أن يرعى غنماً معلوماً له بأجر معلوم، فهو جائز، ويكون أجير وحد لأنه أوقع العقد في حقه على المدة، لما ذكر المدة أولاً.»
«البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري» (8/ 33):
«قال رحمه الله (والخاص يستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة وإن لم يعمل كمن استؤجر شهرا للخدمة أو لرعي الغنم) يعني الأجير الخاص يستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة عمل أو لم يعمل قال الأكمل...وسمي الأجير خاصا وحده؛ لأنه يختص بالواحد وليس له أن يعمل لغيره؛ ولأن منافعه صارت مستحقة للغير والأجر مقابل بها فيستحقه ما لم يمنع مانع من العمل كالمرض والمطر ونحو ذلك مما يمنع التمكن »
حاشية ابن عابدين (4/ 61)
قوله (لا بأخذ مال في المذهب) قال في الفتح وعن أبي يوسف يجوز التعزير للسلطان بأخذ المال وعندهما وباقي الأئمة لا يجوز اه. ومثله في المعراج وظاهره أن ذلك رواية ضعيفة عن أبي يوسف
قال في الشرنبلالية ولا يفتى بهذا لما فيه من تسليط الظلمة على أخذ مال الناس فيأكلونه اه
ومثله في شرح الوهبانية عن ابن وهبان. قوله (وفيه الخ) أي في البحر حيث قال وأفاد في البزازية أن معنى التعزير بأخذ المال على القول به إمساك شيء من ماله عنه مدة لينزجر ثم يعيده الحاكم إليه لا أن يأخذه الحاكم لنفسه أو لبيت المال كما يتوهمه الظلمة إذ لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي...... والحاصل أن المذهب عدم التعزير بأخذ المال.
مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر (2/ 371)
وفي البحر ولا يكون التعزير بأخذ المال من الجاني في المذهب.
«الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي» (6/ 4394):
«يرجع المشتري على البائع بالثمن إذا ثبت الاستحقاق ببينة المستحق؛ لأنها حجة متعدية تظهر في حق كافة الناس،
محمدعمران
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
22 /محرم الحرام /8144ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد عمران بن عبد المطہر خان | مفتیان | مفتی محمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


