03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مولانا الطاف حسین حالی اور مولانا شبلی نعمانی کے عقائد
91049ایمان وعقائدایمان و عقائد کے متفرق مسائل

سوال

سوال : مولانا الطاف حسین حالی اور مولانا شبلی نعمانی کے عقائد کیسے تھے؟ اور کیا حالی کے درج ذیل اشعار شرک ہیں؟

وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا، مرادیں غریبوں کی بر لانے والا

مصیبت میں غیروں کے کام آنے والا ،وہ اپنے پرائے کا غم کھانے والا

فقیروں کا ملجا ضعیفوں کا ماویٰ، یتیموں کا والی غلاموں کا مولیٰ

خطا کار سے در گزر کرنے والا، بد اندیش کے دل میں گھر کرنے والا

مفاسد کو زیر و زبر کرنے والا، قبائل کو شیر و شکر کرنے والا

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا ،اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

مس خام کو جس نے کندن بنایا ،کھرا  اور کھوٹا الگ کر دکھایا

عرب جس پر قرنوں سے تھا جہل چھایا ،پلٹ دی بس اک آن میں اس کی کایا

رہا ڈر نہ بیڑے کو موج بلا کا، ادھر سے ادھر پھر گیا رخ ہوا کا

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ تکفیر کا معاملہ نہایت حساس اور سنگین ہے۔ چنانچہ سرداردو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"جس شخص نے جانتے بوجھتے کسی دوسرے کو باپ بنایا تو یہ بھی کفر کی بات ہے اور جس شخص نے ایسی بات کو اپنی طرف منسوب کیا جو اس میں نہیں ہے تو ایسا شخص ہم میں سے نہیں ہے اور اس کو اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنانا چاہیے  اور جس نے کسی کو کافر کہا یا اللہ کا دشمن کہہ کر پکارا حالانکہ وہ ایسا نہیں ہے تو یہ کلمہ اسی پر لوٹ آئے گا"۔ (صحیح مسلم، ابو ہریرہ ؓ)۔

فقہائے کرامؒ فرماتے ہیں کہ اگر کسی شخص کے قول میں ننانوےاحتمالات کفر کےہوں اور ایک احتمال غیرِ کفر کا موجود ہو، تو اس کے کلام کو اسی ایک احتمال پر محمول کیا جائے گا۔ لہٰذا جب تک کوئی شخص خود اپنے کفر کا صریح اعتراف نہ کرے، یا اس کے کفر پر کوئی قطعی شرعی دلیل قائم نہ ہو، یا اس کے قول و فعل میں شرعاً کسی صحیح تاویل کا احتمال موجود ہو، اس وقت تک محض گمان، شبہے یا کسی مبہم عبارت کی بنیاد پر اسے کافر قرار دینا جائز نہیں۔

1۔جہاں تک مولانا الطاف حسین حالی کے عقائد کا تعلق ہے، تو ہماری تحقیق کے مطابق ان کے مجموعی عقائد اہلِ سنت والجماعت (حنفی) کے موافق ہیں۔

2۔جہاں تک ان کے اشعار کا تعلق ہے توان ا شعارمیں حالی نے دراصل حضور اقدس ﷺ کے حسن اخلاق ،دینی و اجتماعی خدمات   اور آپ کی مبارک سیرت کا نہایت موثر انداز میں نقشہ کھینچا ہے، اس میں کوئی شرکیہ یا گمراہ کن عقیدہ نہیں ہے،بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ فضائل مذکور ہیں جو قرآن وسنت سے ثابت ہیں۔  

3۔جہاں تک مولانا شبلی نعمانی کے عقائدکا سوال ہے تو ان کے بعض عقائد کی وجہ سے علماء وقت نے ان پر کفر کا فتویٰ لگایا تھا (حیات شبلی) جن میں خاص کر مادہ کے قدیم اور نبوت کے اکتسابی ہونے کے عقیدے پر ۔

 لیکن مفتی کفایت اللہ صاحب نے کفایت المفتی میں  لکھا  ہے :

مولانا شبلی کے بارے میں محتاط رائے:

(سوال) ایک رسالہ آپ کا ۱۳۲۲ھ میں چھپا ہوا نظر سے گزرا جو کہ مولانا شبلی مرحوم کے ملحدانہ اور زندیقانہ خیالات پر ہے۔ لیکن ایک مولوی صاحب کے کہنے سے معلوم ہوا ہے کہ آپ نے رجوع فرمالیا ہے۔ اس لئے مہربانی فرما کر جواب عنایت فرمائیے کہ مولوی صاحب کا کہنا درست ہے کہ نہیں۔

(المستفتی نمبر ۱۳۹۶ ابراهیم محمد اولا (راندیر - سورت ) ۲۲محرم ۳۵۶ ادھ مطابق ۱۵ اپریل ۱۹۳۷ء)

 (جواب ۳۳۱) ۱۳۲۲ھ کے رسالے میں مولانا شبلی مرحوم کے چند اقوال و خیالات پر ان  کا فتویٰ حاصل کر کے اس کو شائع کیا تھا۔ جس کا مطلب یہ تھا کہ ان کی کتابوں میں ایسے عقائد موجود ہیں جن کو مولانا شبلی خود بھی کفر والحاد قرار دیتے ہیں۔ مگر ۱۹۳۶ء میں مولانا سید سلیمان ندوی صاحب نے مولانا شبلی مرحوم کا ایک اعتراف نامہ شائع کیا تھا کہ وہ عقائد اسلامیہ کے پابند تھے اور فلاسفہ اور دہریوں کے عقائد سے بے زار تھے۔ اس کی بناء پر میں نے لکھا تھا کہ علماء کو مولانا شبلی مرحوم کی تکفیر نہ کرنی چاہئے کیونکہ تکفیر بہت بڑی ذمہ داری کی چیز ہے اور کسی مسلمان کو کافر کہنے میں انتہائی احتیاط لازم ہے۔ (۱) فقط ۔ محمد کفایت اللہ کان اللہ لہ ۔ دہلی۔ کفایت المفتی ( 1/301)۔

(جواب ۳۸۸) میرا پہلا کون  سا فتویٰ تکفیر  کا ہے جس کا آپ حوالہ دیتے ہیں ۔ اگر۱۳۳۲ھ کا مطبوعہ فتوی ٰ مراد ہے تو اسے غور سے پڑھئے اور یہ بھی لحاظ رکھئے کہ اس کے بعد عرصہ تک علامہ شبلی زندہ  رہے اور توفیق الہٰی ایک آن میں ملحد کو تائب کر سکتی ہے ۔ میں اب بھی کہتا ہوں کہ جو شخص مادہ کو قدیم مانے اور خدا  کو فاعل بالا ضطرار  جانے نبوت کو اکتسابی کہے وہ ملحد ہے (۱)۱۱۳۳۲ھ کا  فتویٰ الزامی طور پر مرحوم کی تحریرات سے عائد کیا گیا تھا ۔ لیکن اگر اس کے بعد انہوں نے تبری کی ہو جیسا کہ مولانا سید سلیمان صاحب ندوی  نے شائع کی ہے تو اسے نظر انداز نہ کرنا چاہئے ۔ محمد کفایت اللہ کان اللہ لہ ۔دہلی۔ کفایت المفتی (1/345)۔

جواب ۳۸۹) جناب محترم دام فضلہم ۔ بعد سلام مسنون میں جس قدر لکھ چکا ہوں وہی کافی ہے ۔ تکفیر مسلم میں انتہائی  احتیاط کرنی چاہئے۔(۱) میں نے ان کے جواب  پر جو کچھ لکھا تھا وہ الزاماً تھا اور خود  اپنی طرف سے تکفیر نہیں کی تھی ۔ اور اگر علامہ شبلی ان عقائد سے تبری کرتے ہیں تو ان کی طرف ان عقائد کی نسبت کر کے  ان کی تکفیر  کا اپنی طر ف  سے حکم لگانا احتیاط کے خلاف ہے اور وہ بھی اب  جبکہ ان کے انتقال کو سالہا سال گذر چکے ہیں ۔ یہ صحیح ہے کہ نبوت کو اکتسابی ماننا اور مادہ کو غیر حادث کہنا اور خدا کو فاعل بالا ضطرار بتانا یہ عقائد کفریہ  ہیں اور ان کے عقائد کفریہ  ہونے کو علامہ شبلی بھی تسلیم کرتے ہیں توضرور ہے کہ وہ اپنی پہلی عبارتوں کو مأول یا منقول یا منسوخ قرار دیتے ہیں ۔ تو عدم تکفیر کے لئے اتنا کافی ہے ۔      محمد کفایت اللہ کان اللہ لہ۔ دہلی۔ کفایت المفتی (1/346)

اب جن عقائد کی وجہ سے ان پر تنقید کی گئی تھی وہ اور ان کی وضاحت درج  ذیل ہے  جو کہ سید سیلمان ندوی کی کتاب حیات شبلی سے ماخوذ ہے:

معجزات کے بارے میں عقیدہ:

۔۔۔۔۔۔۔اس بنا پر لوگ یہ سمجھتے تھے کہ وہ معجزات کے بھی قائل نہ ہوں گے، کیوں کہ وہ خرق عادت پر مبنی اور خلاف عقل ہوتے ہیں لیکن یہ سوء ظن قطعاً غلط ہے، وہ معجزات کے قائل تھے اور سرسید وغیرہ کی تاویلات کو دوراز کار اور ملمع سمجھتے تھے، چنانچہ الکلام میں لکھتے ہیں لیکن خرق عادت تمام مذاہب کا ایک ضروری عنصر ہے اور اس سے انکار نہیں ہو سکتا کہ اسلام میں بھی کچھ نہ کچھ اس کی جھلک موجود ہے، اس لیے اس عقدہ کا حل کرنا ضرور ہے، قرآن مجید میں اس قسم کے جو واقعات منقول ہیں، فرقہ جدیدہ ان کی عموما تاویل کرتا ہے اور کہتا ہے کہ قرآن مجید میں اس قسم کا ایک واقعہ بھی مذکور نہیں لیکن انصاف یہ ہے کہ قرآن مجید بلکہ تمام آسمانی کتابوں میں اس قسم کے واقعات کے مذکور ہونے سے انکار نہیں ہو سکتا ، بے شبہ اشاعرہ کی افراط بچوں کی وہم پرستی کے درجہ تک پہنچ گئی لیکن انکار محض کرنا بھی کچھ کم ہٹ دھرمی نہیں ہے، ہمارے زمانہ کے لوگوں نے جو تاویلیں کی ہیں، ہم اس سے بخوبی واقف ہیں ، بے شبہ یہ تاویلیں نئے تعلیم یافتہ لوگوں کے لیے کافی ہیں ، جو بچارے عربی زبان اور اس کے طرز واسلوب سے نا آشنا ہیں، مگر ماہر عربیت کے سامنے یہ تلمیح کیا کام دے سکتی ہے۔ " (ص ۸۲۰۸۵)

لیکن بایں ہمہ وہ بات بات کو معجزہ نہیں مانتے تھے، ان کے نزدیک معجزات کے ثبوت کے لیے قطعی شہادت کی ضرورت تھی اور قرآن مجید چوں کہ قطعی الثبوت ہے، اس لیے اس میں جہاں خرق عادت کا ذکر ہوگا ، واجب التسلیم ہوگا۔

لیکن مولانا کے نزدیک یہ امر نہایت غور اور دقت نظر سے طے کرنا پڑے گا کہ فی الواقع قرآن مجید کے الفاظ اس کے ثبوت میں قطعی الدلالہ ہیں یا نہیں۔۔۔۔ان کا یہ خیال الکلام کے لکھتے وقت یعنی ۱۹۰۲ء سے ۱۹۰۴ء تک تھا لیکن سیرت کی تصنیف کے وقت وہ اپنے پچھلے خیال سے پھر چکے تھے، چنانچہ احادیث صحیحہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کے جو معجزات مذکور ہیں ، ان کا ذکر خود سیرۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دو جلدوں میں کیا ہے اور مقدمہ میں لکھ بھی دیا ہے، البتہ جن معجزات کی تاریخ اور سنہ متعین ہے ، مثلاً معراج  وغیرہ ان کو اس سنہ کے واقعات میں لکھ دیا ہے۔ (خاتمہ دیباچہ سیرت جلد اول)۔

جنات اور شیاطین کے بارے میں عقیدہ:

وہ جن اور شیطان کے وجود کو بھی تسلیم کرتے تھے لیکن ان کے متعلق عوام جو واقعات بیان کرتے ہیں ان کو وہم پرستی سمجھتے تھے، چنانچہ علامہ ابن تیمیہ کے حال میں ان کا جو مضمون ہے، اس میں لکھتے ہیں جن کے وجود سے انکار نہیں لیکن جن یوں صورت بدل کر لوگوں کے پاس آیا جایا نہیں کرتے ۔ (مقالات شبلی ج دی ۷۳)

اس سے شاید مولانا کا یہ مطلب ہوگا کہ وہ دوسروں کی صورت بن کر نمایاں نہیں ہوا کرتے ، ور نہ شخصیتوں سے امان اٹھ جائے ، ہاں احادیث میں شیاطین کا بہ تبدیل صورت نظر آنا صاف و صریح مذکور ہے۔

فرشتوں کے بارے میں عقیدہ:

وہ گوفرشتوں کے وجود کے پہلے بھی قائل تھے لیکن اس کے ساتھ ان کا یہ بھی خیال تھا کہ ملائکہ کا اطلاق حسب تصریح مولانا روم و مولا نا بحر العلوم شارح منثوی بعض ملکات نبوی اور ملکات بشری پر بھی ہوا ہے، جیسا کہ سوانح مولانا روم میں انہوں نے لکھا ہے لیکن سیرت کی تالیف کے زمانہ میں اس حقیقت کے چہرہ سے بھی پر دہ اٹھ چکا تھا اور جبریل امین اور دوسرے فرشتوں کے مستقل شخصی وجود کے نام ان کی اس کتاب میں اسی طرح آئے ہیں، جس طرح عام مسلمان مانتے ہیں

حشر و نشر، جنت و دوزخ اور واقعات ما بعد الموت کے بارے میں عقیدہ:

حشر و نشر، جنت و دوزخ اور واقعات ما بعد الموت کے متعلق جہاں تک ان کی قدیم کلامی تصنیفات کے مطالعہ سے ظاہر ہوتا ہے، وہ اپنی کلامی مشغولیتوں کے زمانہ میں ان چیزوں کو فقط روحانی سمجھتے تھے، مگر جب سے انہوں نے ادھر چند اخیر برسوں میں سیرۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم  کے تعلق سے احادیث کا مطالعہ شروع کیا تھا، ان کے خیالات میں بڑا انقلاب پیدا ہو گیا تھا ، ان کے ذہن و عقل کی دنیا ہی بدل گئی تھی ، ان کے اس انقلاب میں علامہ ابن تیمیہ کی تصنیفات کو بھی بڑا دخل تھا۔

بدعات سے بیزاری:

بدعات سے ان کو ہمیشہ سے سخت نفرت تھی ، بدعات شعبان و محرم کا ان کے ہاں پتہ بھی نہ تھا، اس طرح بزرگوں کے مزارات پر جا کر عوام جن بدعات کا ارتکاب کرتے ہیں ، وہ ان کو شرک سمجھتے تھے، بلکہ بعض دفعہ وہ غصہ میں احتیاط سے آگے بڑھ جاتے تھے، ایک بار ایک صوفی ان سے ملنے آئے ، سلسلہ کلام میں مولانا نے فرمایا کہ اجمیر وغیرہ کے بتکدوں کو جلا دینا چاہیے ۔۔۔۔۔الکلام میں مولانا نے ملحدین کے بہت سے اعتراضات حل کر کے ان کے جوابات دیے ہیں، بعض لوگوں نے دیدہ و دانستہ یا نادانستہ ان اعتراضات کو مولانا کے عقائد میں داخل کر دیا ۔

مادہ اور نبوت کے بارے میں عقیدہ:

 ۱۹۱۴ء میں معاملات ندوہ کی تحقیقات کے لیے دلی میں جو جلسہ ہوا ، اس میں بعض مخالف علما ءنے ان ہی عقائد کی بنا پر ان پر کفر کا فتوی لگایا اور ظاہر کیا کہ وہ مادہ کو قدیم اور غیر مخلوق اور نبوت کو اکتسابی سمجھتے ہیں ، اس پر سید عبد السلام صاحب مرحوم مالک مطبع فاروقی دہلی نے مولانا سے اس کے متعلق سوال کیا ، مولانا نے اس کا جواب یہ لکھا جس کا یہ عقیدہ ہو کہ وہ قدیم ہے اور خدا کا مخلوق نہیں ہے، وہ ملحد اور زندیق ہے، میں مادہ کو نہ قدیم بالذات تسلیم کرتا ہوں ، نہ قدیم بالزمان ،البتہ میں یہ مانتا ہوں کہ خدا کے تمام اوصاف قدیم ہیں۔ الکلام میں اگر اس قسم کے اقوال مذکور ہیں تو وہ غیر مذہب والوں کے عقائد ہیں اور اس غرض سے نقل کیے ہیں کہ ان کا رد کیا جائے ۔

نبوت کے متعلق میرا ہرگز یہ اعتقاد نہیں ہے کہ وہ اکتسابی ہے اور ہر شخص نبی ہو سکتا ہے، میں نبوت کو عطیہ الہی سمجھتا ہوں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم  کو خاتم الانبیا یقین کرتا ہوں اور جو شخص اس بات کا قائل ہو کہ آنحضرت کے بعد بھی کوئی نبی ہو سکتا ہے، اس کو مسلمان نہیں جانتا، باقی میرے عقائد وہی ہیں جو قرآن شریف اور احادیث سے ثابت ہیں، میں عقیدہ اور فقہا دونوں لحاظ سے اہل سنت و جماعت سے ہوں ۔

زیادہ تفصیل کے لئے حیات شبلی کا مطالعہ کیا جائے ۔

بہر حال اتنی بات ظاہر ہے کہ  ایک زمانہ میں  علماء وقت کا ان سے عقائد میں شدید اختلاف رہا ہے،  یہاں تک کہ ان پر کفر کا فتویٰ بھی لگایا گیا۔تاہم اس بارے میں احتیا ط درج  ذیل باتوں میں ہے :

۱۔ موالانا مرحوم  کے بارے میں، باوجود اختلاف کے،  مفتی کفایت اللہ صاحب ؒنے  جولکھا ہے  وہی معتدل فتویٰ ہے ۔

۲۔ کسی شخص کے ذاتی اجتہادی عقیدے (اگر چہ کفریہ اورگمراہ کن نہ ہو) کےبجائے جمہور اہل سنت والجما  عت کے عقیدےکو اپناناچاہئے۔

۳۔ جب تک کسی سے کفر  بواح  (جس میں کسی  قسم کی کوئی تاویل ممکن نہ ہو) ظاہر نہ ہو، اس وقت تک اسے کافر نہیں کہا جائےگا ۔ 

حوالہ جات

اسداللہ بن قوت خان

دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

21/ محرم الحرام/8144ھ  

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

اسداللہ بن قوت خان

مفتیان

مفتی محمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب