| 91023 | وصیت کا بیان | متفرّق مسائل |
سوال
میرا سوال ہے کہ میری والدہ کی وفات کے بعد ان کی وصیت ہے کہ میری کل مالیت کا 1/4حصہ میری نواسی کو دیا جائے ۔ اب الحمدللہ ان پر قرضہ نہیں ہے۔ شریعت کے مطابق ان کی تکفین و تدفین کے بعد قرض ہو،تواس کی ادائیگی ،اس کے بعد وصیت پھر وراثت پر عمل در آمد کیاجاتا ہے۔ اب میرے بھائی زمین کے ٹھیکے سے حاصل ہونے والی رقم تقسیم کرتے ہیں؛ یعنی دو حصے وہ خود رکھتے ہیں اور ایک حصہ مجھے دیتےہیں ۔
لیکن میرا سوال یہ ہے کہ وصیت پر پہلے عمل درآمد ہونا چاہیے، پھر ہم وراثت سے کچھ لیں۔جس طرح میرے بھائی کر رہے ہیں ،کیا ایسا کرنا ٹھیک ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
شریعت میں مورث کی وفات کے بعد اس کے مال سے تجہیز و تکفین کا خرچہ نکالا جاتا ہے، پھر قرضہ ادا کیا جاتا ہے۔ پھر جو مال بچ جائے، اس کی ایک تہائی تک وصیت پر عمل کیا جاتا ہے۔ موجودہ صورت میں وصیت ایک تہائی سے کم ہے ،لہذا جو بھی ترکہ کامال ہو، اس سے پہلے وصیت کا ایک چوتھائی الگ کیا جائے ،پھر باقی مال ورثہ میں تقسیم ہوگا۔ لہذا کل مال کے چار حصے کیے جائیں گے ،ایک نواسی کا ،ایک بیٹی کا ،اور دو حصے بیٹے کے ہوں گے۔
حوالہ جات
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (7/ 330):
أما الكتاب العزيز فقوله تبارك وتعالى في آية المواريث: {يوصيكم الله في أولادكم} [النساء: 11] إلى قوله جلت عظمته {من بعد وصية يوصي بها أو دين} [النساء: 11] و {يوصى بها أو دين} [النساء: 12] و {يوصين بها أو دين} [النساء: 12] و {توصون بها أو دين} [النساء: 12] شرع الميراث مرتبا على الوصية فدل أن الوصية جائزة، وقوله سبحانه وتعالى: {يا أيها الذين آمنوا شهادة بينكم إذا حضر أحدكم الموت حين الوصية اثنان ذوا عدل منكم أو آخران من غيركم إن أنتم ضربتم في الأرض} [المائدة: 106] ، ندبنا سبحانه وتعالى إلى الإشهاد على حال الوصية فدل أنها مشروعة.
حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي (6/ 759):
فی الدر المختار(يبدأ من تركة الميت الخالية عن تعلق حق الغير بعينها كالرهن والعبد الجاني) والمأذون المديون والمبيع المحبوس بالثمن والدار المستأجرة وإنما قدمت على التكفين لتعلقها بالمال قبل صيرورته تركة (بتجهيزه) يعم التكفين (من غير تقتير ولا تبذير) ككفن السنة أو قدر ما كان يلبسه في حياته ولو هلك كفنه فلو قبل تفسخه كفن مرة بعد أخرى وكله من كل ماله (ثم) تقدم (ديونه التي لها مطالب من جهة العباد) ويقدم دين الصحة على دين المرض إن جهل سببه وإلا فسيان كما بسطه السيد، (وأما دين الله تعالى فإن أوصى به وجب تنفيذه من ثلث الباقي وإلا لا ثم) تقدم (وصيته)وفی الدر المختار (قوله ثم تقدمت وصيته) أي على القسمة بين الورثة.
حنبل اکرم
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
20/ محرم الحرام /1448ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | حنبل اکرم بن محمد اکرم | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


