03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
سجدہ سہو کا وقت، وتر کی سنتیں، اور مفسداتِ نماز
91270نماز کا بیانسجدہ سہو کابیان

سوال

1:اگر مغرب کی نماز میں شک ہو کہ میں نے التحیات میں کوئی غلطی تو نہیں کی، لیکن سلام پھیرنے کے بعد سمجھ آ جائے کہ مجھے سجدہ سہو کرنا چاہیے تھا، اور اس دوران مسجد میں کسی سے بات چیت نہ کی ہو، البتہ مسجد کا پنکھا بند کیا ہو اور وہاں تقریباً 12 منٹ بیٹھا رہا ہو، اس کے بعد سجدہ سہو کیا ہو، تو کیا نماز ہو گئی یا نہیں؟

2: وتر کی نماز میں سورت کی آخری آیت ختم کرنے سے پہلے ہی دعائے قنوت کی تکبیر کے لیے ہاتھ اٹھا لیے، اور پھر سورت ختم کرنے کے بعد تکبیر کہے ، تو کیا نماز ہو جائے گی؟

3: اگر امام صاحب نماز میں آللہ اکبر یعنی الف کو کھینچ کر پڑھیں، تو کیا نماز ہو جائے گی یا دوبارہ پڑھنی پڑے گی؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

1):مذکورہ صورت میں پنکھا بند کرنے کےلیے سینہ قبلے سے پھیردینا نماز کے منافی عمل ہے، جس سے نماز ناقص طور پر مکمل ہوگئی۔ لہٰذا اس نماز کا اعادہ واجب ہے، چاہے اسی نماز کے وقت کے اندر اعادہ کرے یا بعد میں اعادہ کرے۔

2):وتر  کی نماز  میں دعاءِ  قنوت سے پہلے تکبیر کہنا واجب ہے، جبکہ ہاتھ اٹھانا سنت ہے ،لہذا صورت ِ مسئولہ میں تکبیر سے پہلے ہاتھ اٹھانا خلاف سنت ہے۔ اگرچہ نماز ادا ہوگئی ،اس کے لوٹانے کی ضرورت نہیں ۔ تاہم آئندہ سنت طریقہ پر عمل کرے۔

3): متاخرین فقہاء کرام کا قول ہے کہ غلبہ جہل کی وجہ سے اعراب اور مد کی غلطی سے نماز فاسد نہیں ہوتی، البتہ اگرکوئی معتبر اہل علم کی جانب سے توجہ دلانے اورتنبیہ کے باوجود اصلاح کا انکار کرتا ہے تواس کی نماز نہیں ہوگی۔

حوالہ جات

حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح(385/1)

( قوله أتمها يفعل ما تركه ) حاصل المسألة أنه إذا سلم ساهيا على الركعتين مثلا وهو في مكانه ولم يصرف وجهه عن القبلة ولم يأت بمناف عاد إلى الصلاة من غير تحريمة وبنى على ما مضى وأتم ما عليه. ولو اقتدى به إنسان في هذه الحالة صح. وأما إذا انصرف وجهه عن القبلة فإن كان في المسجد ولم يأت بمناف فكذلك.

رد المحتار(64/2)

تعاد وجوب الإعادة في الوقت وبعده... وأما على القول بأنها تكون في الوقت وبعده كما قدمناه عن شرح التحرير وشرح البزدوي، فإنها تكون واجبة في الوقت وبعده أيضا على القول بوجوبها. وأما على القول باستحبابها الذي هو المرجوح تكون مستحبة فيهما، وعليه يحمل ما مر عن القنية عن الترجماني. وأما كونها واجبة في الوقت مندوبة بعده كما فهمه في البحر وتبعه الشارح فلا دليل عليه... قلت: ... يشمل وجوبها في الوقت وبعده: أي بناء على أن الإعادة لا تختص بالوقت.

 رد المحتار على الدر المختار(442/2)

ويكبر قبل ركوع ثالثته رافعاً يديه كما مر ، ثم يعتمد، وقيل كالداعي (وقنت فيه) ويسن الدعاء المشهور، ويصلي على النبي ، به يفتى، 

( ويكبر) أي وجوباً، وفيه قولان كما مر في الواجبات، وقدمنا هناك عن البحر أنه ينبغي ترجيح عدمه۔۔۔ (وقنت فيه) أي في الوتر أو الضمير إلى ما قبل الركوع .

 الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 179):

قوله: (إذ مد أحد الهمزتين مفسد الخ) اعلم أن المد إن كان في الله، فإما في أوله أو وسطه أو آخره : فإن كان في أوله لم يصر به شارعاً وأفسد الصلاة لو في أثنائها، ولا يكفر إن كان جاهلا، لأنه جازم.

مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر(216/1)

(ولو صلى العشاء بلا وضوء) حال كونه (ناسياً ثم صلى السنة والوتر به) أي بالوضوء ( يعيد السنة لإعادة العشاء) إذ لم يصح أداء السنة قبل الفرض مع أنها أديت بالوضوء لأنها تبع الفرض ( ولا يعيد الوتر ) لأنه واجب عند الإمام۔

احسن الفتاوی(23/3)

اگر وقت کے اندر اعادہ کیا ..شامیہ باب قضاء الفوائت ج ۱ ص ۴۷۸ میں قبل از خروجِ وقت یا بعد از خروج، بہرکیف اعادہ کے وجوب کو ثابت کیا ہے، یہی بحث واجبات الصلوٰۃ اور باب سجود السہو میں بھی ہے...

احسن الفتاوی: (324/2)

علامہ شامی نے حلیہ وغیرہ سے نقل کیا ہے کی تکبیر میں اسم ذات اللہ اور اکبر میں الف کھینچ کر پڑھنا مفسد نماز ہے۔۔ مگر غلبہ جہل کی وجہ سے متاخرین کا یہ فیصلہ ہے کہ اعراب اور مد کی غلطی مفسد نہیں...

ظہوراحمد

دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی

01 صفر المظفر 1448ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

ظہوراحمد ولد خیرداد خان

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب