03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
قانونی لحاظ سے مشتبہ جگہ پربنی مسجد کی تعمیرنو
91097وقف کے مسائلمسجد کے احکام و مسائل

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

ہمارے محلے کی ایک مسجد سنہ 1985ء میں تعمیر ہوئی، جس میں اس وقت سے مسلسل پنج وقتہ نماز باجماعت، جمعہ اور دیگر دینی و تبلیغی اعمال جاری ہیں۔ اس مسجد کی زمین محلہ کے ایک بزرگ نے مسجد کے لیے وقف کی تھی۔ بعد ازاں مسجد سے متصل کچھ مزید زمین پر عوامی چندے سے مدرسہ کی نیت سے تعمیر کی گئی۔

پھر 2004ء میں مذکورہ بزرگ نے اہلِ محلہ کی موجودگی میں اسٹامپ پیپر پر باقاعدہ تحریری دستاویز کے ذریعے مزید ایک مرلہ زمین بھی مسجد کے لیے وقف کی، جس پر متعلقہ حکام کی تصدیق بھی موجود ہے۔

مسجد کا نظام معمول کے مطابق چلتا رہا، لیکن کچھ عرصہ قبل مذکورہ بزرگ کے بڑے صاحبزادے نے مسجد کے وقف کو قانونی شکل دینے کے لیے محکمہ مال سے رجوع کیا تو معلوم ہوا کہ ریکارڈِ مال میں مسجد کی زمین کسی دوسرے شخص کے نام درج ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ محکمہ مال کی غلطی ہے اور ریکارڈ کی درستی کی کارروائی جاری ہے، تاہم ابھی تک یہ درستی مکمل نہیں ہو سکی۔

ادھر اہلِ محلہ نے مسجد کی تعمیرِ نو کا فیصلہ کرتے ہوئے مجلسِ مشاورت قائم کی ہے اور تعمیراتی و مالیاتی کمیٹی بھی تشکیل دے دی گئی ہے۔

اب درج ذیل امور میں شرعی رہنمائی مطلوب ہے:

  1. اگر کوئی شخص حقیقتاً کسی زمین کا مالک نہ ہو، تو کیا وہ شرعاً اس زمین کو مسجد کے لیے وقف کر سکتا ہے؟ نیز ایسی زمین جس کی ملکیت مشتبہ ہو، اس پر مسجد کی تعمیر یا تعمیرِ نو کا کیا حکم ہے؟
  2. اگر خود زمین وقف کرنے والا یا اس کے ورثاء یہ کہیں کہ محکمہ مال کے ریکارڈ میں غلطی ہوئی ہے، تو ایسی صورت میں پہلے ریکارڈ کی اصلاح کرنا ضروری ہے یا مسجد کی تعمیرِ نو شروع کی جا سکتی ہے؟
  3. اگر ریکارڈ کی اصلاح نہ ہو سکے اور زمین قانونی طور پر کسی دوسرے شخص کی ملکیت قرار پائے، تو ایسی صورت میں موجودہ مسجد اور اس کی تعمیرِ نو کا کیا حکم ہوگا؟ کیا اصل مالک کی اجازت یا وقف کے بغیر تعمیر جاری رکھی جا سکتی ہے؟
  4. تعمیر کے دوران اگر نمازوں کے لیے عارضی طور پر کسی دوسری جگہ کا انتظام کیا جائے، تو اس جگہ کی شرعی حیثیت کیا ہوگی؟ کیا وہ بھی مسجد کے احکام میں داخل ہوگی؟
  5. ایک مرتبہ مسجد کے لیے صحیح طور پر وقف ہو جانے کے بعد کیا واقف یا اس کے ورثاء کا اس زمین پر کوئی حق باقی رہتا ہے؟
  6. موجودہ صورتِ حال میں جبکہ مستقبل میں قانونی اور شرعی نزاعات پیدا ہونے کا اندیشہ ہے، زیادہ اہم اور مقدم کام کون سا ہے: مسجد کی تعمیرِ نو یا پہلے زمین کے شرعی و قانونی معاملے کی مکمل اصلاح؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

شرعی اصول یہ ہے کہ وقف کی صحت کے لیے واقف کا اس چیز کا مالک ہونا ضروری ہے جسے وہ وقف کر رہا ہو۔ لہٰذا اگر کوئی شخص حقیقتاً کسی زمین کا مالک نہ ہو، تو اس کا اس زمین کو مسجد کے لیے وقف کرنا شرعاً صحیح نہیں ہوگا، خواہ اس نے وقف نامہ تحریر کر دیا ہو یا عوام میں یہی مشہور ہو۔ اسی طرح غصب شدہ یا غیر کی ملکیت والی زمین پر مسجد قائم کرنا یا اس کی نئی تعمیر کرنا شرعاً جائز نہیں۔

البتہ سوال میں مذکور صورت میں چونکہ دعویٰ یہ ہے کہ زمین درحقیقت واقف ہی کی تھی اور محکمہ مال کے ریکارڈ میں غلطی کی وجہ سے کسی دوسرے کے نام درج ہو گئی، اس لیے جب تک اس دعویٰ کی حقیقت واضح نہ ہو جائے، اس وقت تک زمین کی ملکیت مشتبہ رہے گی۔ ایسی صورت میں احتیاط اور شرعی تقاضا یہ ہے کہ پہلے ملکیت کا تنازعہ ختم کیا جائے، اس کے بعد نئی تعمیر شروع کی جائے۔کیونکہ معروف فقہی قاعدہ ہےکہ:درء المفاسد مقدم على جلب المصالح یعنی مفاسد اور خرابیوں کو دور کرنا، مصالح کے حصول پر مقدم ہے۔

لہٰذا اگر ملکیتی تنازعہ حل کیے بغیر عوامی چندے سے کروڑوں روپے کی تعمیرات کر دی جائیں اور بعد میں اصل مالک یا اس کے ورثاء دعویٰ کر دیں تو اس سے شدید فتنہ، مسلمانوں کے اموال کا ضیاع اور مسجد کی بے حرمتی کا اندیشہ ہوگا۔ اس لیے موجودہ حالات میں تعمیرِ نو سے پہلے زمین کی قانونی اور شرعی حیثیت واضح کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے۔

اب آپ کے سوالات کے مختصرجوابات درج ذیل ہیں :

(1) اگر واقعی زمین کسی دوسرے شخص کی ملکیت ہو تو واقف کا وقف معتبر نہیں ہوگا، اور اس زمین پر مسجد کی نئی تعمیر یا تعمیرِ نو کرنا جائز نہیں ہوگا،  جب تک اصل مالک کی  رضامندی حاصل نہ ہو یا وہ زمین شرعی طور پر مسجد کے لیے

وقف نہ کر دی جائے۔

(2) اگر واقف یا اس کے ورثاء کا موقف یہ ہے کہ ریکارڈِ مال میں غلطی ہوئی ہے تو پہلے اس غلطی کی اصلاح کی جائے، کیونکہ ملکیت کے تعین سے پہلے تعمیر شروع کرنا مستقبل کے بڑے نزاعات کا سبب بن سکتا ہے۔

(3) اگر بالآخر یہ ثابت ہو جائے کہ زمین حقیقتاً کسی دوسرے شخص کی ملکیت ہے تو شرعاً درج ذیل میں سے کوئی ایک صورت اختیار کرنا ضروری ہوگی:

  • اصل مالک اپنی رضامندی سے زمین مسجد کے لیے وقف کر دے؛ یا
  • مسجد کمیٹی یا اہلِ محلہ اس زمین کو خرید کر شرعی طریقے سے مسجد کے لیے وقف کر دیں۔

اس کے بغیر اس زمین پر نئی تعمیرات کرنا یا ملکیت برقرار رکھنا درست نہیں ہوگا۔

(4) تعمیر کے دوران جس جگہ پر وقتی طور پر نمازیں ادا کی جائیں گی، وہ مسجدِ شرعی نہیں بلکہ مصلیٰ یا جماعت خانہ ہوگا۔ اس پر مسجد کے دائمی احکام جاری نہیں ہوں گے، لہٰذا تعمیر مکمل ہونے کے بعد اس جگہ کو اس کا مالک کسی بھی جائز استعمال میں لا سکتا ہے۔

(5) اگر وقف صحیح شرائط کے مطابق منعقد ہو جائے تو وقف شدہ زمین واقف کی ملکیت سے نکل جاتی ہے۔ اس کے بعد نہ واقف اور نہ ہی اس کے ورثاء کا اس پر کوئی مالکانہ حق باقی رہتا ہے، بلکہ وہ ہمیشہ کے لیے مسجد کے مصالح کے لیے مخصوص ہو جاتی ہے۔

خلاصہ یہ ہے کہ مذکورہ صورت میں جبکہ زمین کی ملکیت کے بارے میں بظاہر قانونی اشکال موجود ہے، اس لیے مسجد کی تعمیرِ نو شروع کرنے سے پہلے زمین کے شرعی اور قانونی معاملہ کی مکمل تحقیق اور اصلاح کرنا ضروری ہے۔ جب تک یہ اطمینان نہ ہو جائے کہ زمین صحیح طور پر مسجد کے لیے وقف ہو چکی ہے یا اصل مالک کی رضامندی حاصل ہو گئی ہے، اس وقت تک نئی تعمیر شروع کرنا مناسب نہیں۔ لہٰذا تعمیراتی کمیٹی اور اہلِ محلہ کو چاہیے کہ پہلے زمین کے تنازعہ کو مکمل طور پر حل کریں، اس کے بعد تعمیرِ نو کا آغاز کریں تاکہ مستقبل میں کسی قسم کے شرعی یا قانونی نزاع اور فتنہ کا اندیشہ باقی نہ رہے۔

حوالہ جات

قال العلامۃ ابن العابدین رحمہ اللہ تعالی:

قوله:(وشرطه شرط سائر التبرعات) أفاد أن الواقف لا بد أن يكون مالكه وقت الوقف ملكا باتا ولو بسبب فاسد.(رد المحتار:/4340)

       وقال العلامۃ رحمہ اللہ تعالی أیضاً:

حتى لو وقف الغاصب المغصوب لم يصح، وإن ملكه بعد شراء أو صلح، ولو أجاز المالك وقف فضولي

جاز.(رد المحتار:/4341)

        وقال العلامۃ رحمہ اللہ تعالی أیضاً:

 وفي الواقعات: بنى مسجدًا على سور المدينة لاينبغي أن يصلي فيه؛ لأنه من حق العامة فلم يخلص لله تعالى كالمبني في أرض مغصوبة". (رد المحتار:4/ 381)

        وقال العلامۃ ابن العابدین:

و إن بني للمسلمين كمسجد و نحوه... لاينقض.(رد المحتار:(593/6

        وقال العلامۃ ابن العابدین رحمہ اللہ تعالی:

فإنه ‌يجب ‌أن ‌يتخذ ‌الإمام للمسلمين مسجدا من بيت المال، أو من مالهم إن لم يكن لهم بيت مال ،كذا في فتح القدير.(رد المحتار:339/4)

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

26/01/1448ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب