03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کپڑے کے کاروبار میں شراکت داری کا حکم
91377شرکت کے مسائلشرکت سے متعلق متفرق مسائل

سوال

دو افراد، اسامہ اور عثمان نے کپڑے کے کاروبار میں شراکت ( پارٹنر شپ ) قائم کی، اسامہ پہلے سے اس کاروبار میں موجود تھا ،جبکہ عثمان بعد میں شریک ہوا، شراکت کے آغاز میں دونوں کے درمیان چند امور زبانی طور پر طے ہوئے تھے،جن میں درج ذیل نکات شامل تھے:

1۔دونوں برابر سرمایہ لگا ئیں گے۔

2۔دونوں کا روبار کو برا بر وقت دیں گے۔

3۔ دونوں اپنی صلاحیت کے مطابق سیل بڑھانے کی کوشش کریں گے۔

4۔نفع اور نقصان برابری کی بنیاد پر ہوگا۔

البتہ بعض معاملات طے نہیں ہوئے تھے، مثلا اگر کسی وقت کوئی شریک سرمایہ کم لگا سکےیاسرمایہ لگانے میں تاخیر ہو جائے، یا وہ کسی وجہ سے کم وقت دے سکے تو کیا اس کی وجہ سے اس کی شراکت یا منافع میں کوئی کمی واقع ہوگی یا نہیں؟

یہ کار و بار تقریباً تین سال تک خوش اسلوبی سے چلتا رہا اور دونوں فریقین نے مناسب منافع حاصل کیا، تا ہم چوتھےسال، جب کار و بار نسبتا کم چلا ، اسامہ نے عثمان پر اعتراضات اٹھائے کہ:

1۔آپ نے اپنے حصے کا سرمایہ کم لگایا ۔

2۔آپ نے کاروبار کو کم وقت دیا۔

3۔آپ کی سیل بھی کم رہی۔

ان اعتراضات کی بنیاد پر اسامہ کا مؤقف ہے کہ جن گاہکوں کو مال فروخت کیا گیا تھا اور جن سے اب رقوم وصول ہونا  باقی ہیں، ان تمام وصولیوں پر صرف اسامہ کا حق ہے، عثمان کا ان میں کوئی حصہ نہیں، مزید تفصیل یہ ہے کہ اسامہ کا کہنا ہے کہ بازار سے جو مال خریدا گیا وہ اس کے ذاتی بینک کریڈٹ کارڈ کے ذریعے خریدا گیا، لہذا اس پر اس کا حق زیادہ بنتا ہے،جبکہ عثمان کا کہنا ہے کہ اگر چہ ادا ئیگی اسامہ کے کریڈٹ کارڈ سے ہوئی، لیکن اس کریڈٹ کارڈ کی ادائیگی کے لیے نقد رقم بازار سے وصول کر کے کاروبار ہی کے فنڈز سے دی گئی۔

 دونوں فریقین ہر ماہ کے آخر میں اپنا حساب کتاب کیا کرتے تھے، لیکن گزشتہ تقریبا سات ماہ سید عثمان مسلسل اسامہ سے حساب برابر کرنے کا مطالبہ کرتا رہا، مگر اسامہ نے حساب نہیں کیا اور اسامہ اس بات کو تسلیم بھی کرتا ہے،اختلاف بھی اسی عرصے کے دوران شروع ہوا، اس وقت صورت حال یہ ہے کہ بازار سے وصول ہونے والی رقم میں سے ایک کروڑ سرسٹھ لاکھ روپے اسامہ کے پاس آئیں گے، جبکہ پچپن لاکھ روپے عثمان کے پاس آئیں گے،دونوں پر بازار کے سپلائرز کی تقریباً ایک کروڑ روپے کی ادائیگی واجب ہے،اسامہ کا موقف ہے کہ بازار سے موصول ہونے والی رقم میں عثمان کا کوئی حق نہیں ۔

جبکہ عثمان کا کہنا ہے کہ پہلے تمام مشتر کہ واجبات (بازار کی ادائیگیاں ) ادا کی جائیں، پھر جو رقم باقی بچے اسے دونوں شرکاء کے درمیان اس تناسب سے تقسیم کیا جائے جس بنیاد پر کاروبار ابتداء سے چلتار ہایعنی برابری کی بنیاد پر تقسیم کیا جائے ۔

سوال: اس صورت حال میں شریعت کا کیا حکم ہے؟کیا مارکیٹ کی جو ادائیگی فریقین کے ذمہ باقی ہے اس کو ادا کرنے کے بعد جو رقم بچے گی اس کو برابر تقسیم کیا جائے گا دونوں میں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

سوال میں ذکر کی گئی صورتِ حال کے مطابق اگر کاروبار شروع کرتے وقت فریقین کے درمیان یہ امور طے ہوئے تھے کہ فریقین کا سرمایہ برابر ہو گا، دونوں کاروبار کو وقت بھی برابر دیں گے، نفع ونقصان بھی فریقین کے درمیان نصف نصف ہو گا تو اس صورت میں شرکت کا معاملہ ختم ہونے تک کاروبار سے جتنا بھی نفع حاصل ہوا ہے، وہ سب فریقین کے برابر سمجھا جائے گا، جس میں سے سب سے پہلے کاروبار کے ذمہ لوگوں کے واجبات (Dues) ادا کیے جائیں گے، پھرجو رقم باقی بچے گی وہ فریقین آپس میں نصف نصف تقسیم کریں گے، لہذا عثمان کا اسامہ کی طرف سے سرمایہ کم لگانے، کام کم کرنے یا سیل کم ہونے کی بنیاد پر اس کے نفع کو کم کرنا جائز نہیں، کیونکہ اصول یہ ہے کہ جن شرائط کے ساتھ شرکت کا انعقاد کیا جاتا ہے نفع کی تقسیم میں انہی شرائط کو مدِ نظر رکھا جاتا ہے، البتہ عثمان کو یہ حق حاصل یہ ہے کہ جتنا سرمایہ اسامہ نے کم لگایا ہے وہ اس سے وصول کر کے کاروبار میں شامل کرے، کیونکہ شرط کے مطابق نصف سرمایہ لگانا اس کی ذمہ داری تھی، اس کے علاوہ کام کم کرنے یا اس کی سیل کم ہونے سے بھی شرعاً نفع کی مقدار پر اثر نہیں پڑے گا۔

حوالہ جات

      المبسوط للسرخسي (11/ 287) الناشر: دار المعرفة – بيروت:

والشريكان في العمل إذا غاب أحدهما أو مرض أو لم يعمل وعمل الآخر فالربح بينهما على ما اشترطا لما روي أن رجلا جاء إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: أنا أعمل في السوق ولي شريك يصلي في المسجد فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم "لعلك بركتك منه" والمعنى أن استحقاق الأجر بتقبل العمل دون مباشرته والتقبل كان منهما وإن باشر العمل أحدهما ألا ترى أن المضارب إذا استعان برب المال في بعض العمل كان الربح بينهما على الشرط أو لا ترى أن الشريكين في العمل يستويان في الربح وهما لا يستطيعان أن يعملا على وجه يكونان فيه سواء وربما يشترط لأحدهما زيادة ربح لحذاقته وإن كان الآخر أكثر عملا منه فكذلك يكون الربح بينهما على الشرط ما بقى العقد بينهما وإن كان المباشر للعمل أحدهما ويستوي إن امتنع الآخر من العمل بعذر أو بغير عذر لأن العقد لا يرتفع بمجرد امتناعه من العمل واستحقاق الربح بالشرط في العقد.

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (6/ 59) الناشر: دار الكتب العلمية:

(ومنها) : أن يكون الربح معلوم القدر، فإن كان مجهولا تفسد الشركة؛ لأن الربح هو المعقود عليه، وجهالته توجب فساد العقد كما في البيع والإجارة.

(ومنها) : أن يكون الربح جزءا شائعا في الجملة، لا معينا، فإن عينا عشرة، أو مائة، أو نحو ذلك كانت الشركة فاسدة؛ لأن العقد يقتضي تحقق الشركة في الربح والتعيين يقطع الشركة لجواز أن لا يحصل من الربح إلا القدر المعين لأحدهما، فلا يتحقق الشركة في الربح.

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

یکم صفرالخیر1448ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب