03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
طلاق رجعی کے بعد شرعی رجوع کا طریقہ
91181طلاق کے احکامطلاق سے رجو ع کا بیان

سوال

میرے خاوند یو اے ای (UAE) میں رہتے ہیں۔ انہوں نے اپنے گھر والوں کے کہنے پر مجھے طلاقِ اول کا نوٹس واٹس ایپ (WhatsApp) پر 16 اپریل 2026 کو بھیجا۔ اس کے ایک ہفتے بعد بذریعہ ٹی سی ایس بھی بھیجا، جو کہ میرے سسر کے پاس ہے۔ میں تب سے اپنے سسرال میں ہی مقیم ہوں، لیکن 10 مئی 2026 تک میرے خاوند کا میرے ساتھ کوئی رابطہ نہیں ہوا۔ اس کے بعد انہوں نے مجھ سے کال اور میسج پر بات کرنا شروع کی، جو کہ ان کے گھر اور فیملی کے بارے میں ہوتی تھی۔ اب مجھے اس بارے میں فتویٰ چاہیے کہ اس رشتے کو اگر وہ قائم رکھنا چاہتے ہیں، تو شرعی طریقۂ رجوع کیا ہے، جو میں اپنے خاوند اور سسر کو دکھا سکوں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورتِ مسئولہ میں اگر شوہر نے بیوی کو ایک طلاقِ رجعی دے دی ہے تو شوہر کو اپنی بیوی کی عدت (پوری تین ماہواریاں اگر حمل نہ ہو، وگرنہ حمل کی صورت میں بچہ کی پیدائش) کے اندر اندر رجوع کرنے کا حق حاصل ہے،اس کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ رجوع قولی یعنی زبانی ہو،مثلا: شوہر یہ کہے "میں رجوع کرتا ہوں"یا عملی ہو ،جیسے ہمبستری وغیرہ۔پھر بہتر  یہ ہےاس  رجوع پر دوگواہ  بھی بنالیے جائیں ،تاکہ بعد میں کوئی مشکل نہ ہو۔

اگر عدت کے اندر رجوع کرلیا تو نکاح قائم رہے گا ورنہ بعد از عدت نکاح ختم ہوجائے گا، پھر اگر دونوں ساتھ رہنے پر رضا مند ہوں تو نئے مہر اور شرعی گواہان کی موجودگی میں نئے ایجاب وقبول کے ساتھ تجدید نکاح کرنا ہوگا۔

حوالہ جات

وفی الشامیۃ (3/401):

قال في البحر :وأشار المصنف إلى أن الرجعة على ضربين سني وبدعي فالسني أن يراجعها بالقول ويشهد على رجعتها ويعلمها ولو راجعها بالقول ولم يشهد أو أشهد ولم يعلمها كان مخالفا للسنة كما في شرح الطحاوي۔

وفی الدر المختار (3/ 436):

باب الرجعة بالفتح وتكسر، يتعدى ولا يتعدى.

(هي استدامة الملك القائم) بلا عوض ما دامت (في العدة) أي عدة الدخول حقيقة، إذ لا رجعة في عدة الخلوة… وتصح مع إكراه وهزل ولعب وخطأ (بنحو) متعلق باستدامة (راجعتك ورددتك ومسكتك) بلا نية لانه صريح (و) بالفعل مع الكراهة (بكل ما يوجب حرمة المصاهرة) كمس ولو منها اختلاسا أو نائما أو مكرها أو مجنونا أو معتوها إن صدقها هو أو ورثته بعد موته.

وفی الشامیۃ (3/ 440):

(وندب الإشهاد) احترازا عن التجاحد وعن الوقوع في مواقع التهم لأن الناس عرفوه مطلقا فيتهم بالقعود معها وإن لم يشهد صح والأمر في قوله تعالى  (وأشهدوا ذوي عدل)۔

محمد ابراہیم قریشی بن عبدالرزاق

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

29/محرم الحرام /1448ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد ابرہیم قریشی بن عبد الرزاق

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب