03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
طلاق کا جھوٹا اقرار اور عدالتی خلع کا حکم
91174طلاق کے احکامطلاق دینے اورطلاق واقع ہونے کا بیان

سوال

محترم مفتی صاحب ! میں آپ کی خدمت میں اپنی ازدواجی زندگی سے متعلق حساس اور پیچیدہ معاملہ، شرعی رہنمائی کے لیے پیش کر رہا ہوں، جس میں طلاق، رجوع اور عدالتی خلع جیسے اہم امور شامل ہیں۔ براہِ کرم مکمل تفصیل ملاحظہ فرما کر شریعتِ مطہرہ کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔میری اور میری بیوی کی شادی باقاعدہ شرعی نکاح کے ساتھ ہوئی۔ شادی کے بعد باہمی رضامندی سے ہم لڑکی کے والدین کے گھر (سسرال) میں رہائش پذیر رہے، یعنی میری بیوی کبھی میرے ذاتی گھر میں مستقل طور پر نہیں رہی، بلکہ میں خود بھی زیادہ تر سسرال میں مقیم رہا۔ کچھ گھریلو اختلافات کی بنا ءپر ایک موقع پر مجھ سے غصے کی حالت میں صرف ایک طلاق صادر ہوئی۔ یہ طلاق میں نے ہوش و حواس میں دی، مگر اس کے بعد مجھے ندامت ہوئی اور میں نے دورانِ عدت رجوع کر لیا۔ رجوع کے بعد ہم میاں بیوی کی حیثیت سے اکٹھے رہتے رہے اور ازدواجی حقوق بھی ادا کرتے رہے۔ کچھ وقت گزرنے کے بعد ہمارے درمیان معمولی جھگڑا ہوا، جس میں، میں نے اپنے کچھ جاننے والوں کو بذریعہ فون کال یہ کہا کہ ”ایک طلاق میں نے اس کو پہلے دی ہوئی ہے، باقی جب آپ آؤ گے، آج دوں گا“ لیکن اس دن میں نے کوئی طلاق نہیں دی۔ بعد میں میرے بعض جاننے والوں نے بار بار یہ کہنا شروع کر دیا کہ ”تم نے دوسری لڑائی میں بھی طلاق دی تھی۔“ میں مسلسل یہی کہتا رہا کہ ”میں نے صرف پہلی لڑائی میں ایک طلاق دی ہے“، لیکن جاننے والوں کی مسلسل ضد، دباؤ اور بار بار کے الزامات کی وجہ سے شدید ذہنی الجھن پیدا ہو گئی۔ اسی ذہنی دباؤ میں آکر میں نے اپنے پیر و مرشد کو فون کیا، اور پہلی طلاق کو شامل کرکے کہہ دیا کہ ”میں نے دو طلاقیں دی ہیں“، حال آں کہ یہ بات نہ میرے ارادے کے مطابق تھی، نہ حقیقت میں درست تھی۔ اس کے برعکس، میری بیوی بھی حلفاً اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ میں نے صرف ایک ہی طلاق دی تھی، دو طلاقیں ہرگز نہیں دیں۔پھر کچھ عرصہ بعد میں روزگار کے سلسلے میں سعودی عرب آ گیا۔ میری غیر موجودگی میں میری بیوی نے عدالت میں خلع کا مقدمہ دائر کردیا۔ عدالت میں اس نے یہ دعویٰ کیا کہ میں نے اسے گھر سے نکال دیا، اس سے رابطہ ختم کر دیا اور اس کا نان و نفقہ ادا نہیں کیا۔ حال آں کہ یہ تمام الزامات حقیقت کے خلاف ہیں۔ میں نے، نہ تو اسے اپنے گھر سے نکالا (کیوں کہ وہ میرے گھر میں رہتی ہی نہیں تھی، بلکہ سسرال میں ہماری رہائش تھی)، نہ میں نے کبھی اس سے رابطہ منقطع کیا، اور نہ ہی میں نے خرچہ دینا بند کیا۔ اس کے برعکس میرے پاس واٹس ایپ چیٹس، کال لاگز اور مالی لین دین کے ثبوت موجود ہیں، جو اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ میں مسلسل رابطے میں رہا اور حسبِ استطاعت خرچہ بھی دیتا رہا۔ عدالت نے مجھے بیرونِ ملک ہونے کے باوجود صرف ایک نوٹس جاری کیا، اور میری غیر حاضری میں میرا مؤقف سنے بغیر اور میری رضامندی کے بغیر یک طرفہ طور پر فسخِ نکاح (خلع) کا فیصلہ سنا دیا۔ میں نہ تو عدالت میں پیش ہو سکا اور نہ ہی میں نے خلع کو قبول کیا، اور نہ ہی میں نے کسی مرحلے پر اپنی بیوی کو خلع دینے پر رضامندی ظاہر کی۔ یہ عدالتی فیصلہ مکمل طور پر یک طرفہ تھا۔ بعد ازاں اللہ کے فضل سے میرے اور میری بیوی کے درمیان صلح ہو چکی ہے۔ ہم دونوں اپنی سابقہ غلطیوں پر نادم ہیں، ایک دوسرے کے ساتھ باعزت اور شرعی طریقے سے ازدواجی زندگی گزارنا چاہتے ہیں، اور دوبارہ اکٹھے رہنے پر متفق ہیں۔ مگر اس پورے معاملے میں شرعی حیثیت ہمارے لیے واضح نہیں ہو پا رہی، جس کی وجہ سے شدید ذہنی اضطراب ہے۔ لہٰذا میں آپ سے درج ذیل امور میں شرعی رہنمائی چاہتا ہوں:(1) جب حقیقت میں صرف ایک طلاق دی گئی تھی اور دورانِ عدت رجوع بھی ہو چکا تھا، تو نکاح کی شرعی حیثیت کیا بنتی ہے؟(2) پیر و مرشد کو دباؤ میں آکر پہلی طلاق شمار کرکے دو طلاق کہہ دینے سے، جب کہ نیت اور حقیقت میں ایسا نہ ہو، کیا شرعاً دو طلاقیں واقع ہو جاتی ہیں؟۔(3) شوہر کی غیر موجودگی میں، اس کی رضامندی اور قبولیت کے بغیر، عدالت کا یک طرفہ خلع یا فسخِ نکاح کا فیصلہ شرعاً معتبر ہے یا نہیں؟(4) اگر عدالتی فیصلہ شرعاً معتبر نہ ہو تو کیا ہمارا نکاح بدستور قائم ہے؟(5) موجودہ صورتِ حال میں کیا ہمارے لیے نیا نکاح کرنا ضروری ہے، یا ہم بغیر نئے نکاح کے میاں بیوی کی حیثیت سے رہ سکتے ہیں؟(6)اگر احتیاطاً نکاحِ ثانی کا مشورہ ہو تو اس کی شرائط کیا ہوں گی؟براہِ کرم قرآن و سنت، فقہِ حنفی کی روشنی میں واضح، دوٹوک اور تسلی بخش جواب عنایت فرمائیں، تاکہ ہم شرعی حدود کے اندر رہتے ہوئے اپنی ازدواجی زندگی کو درست طریقے سے آگے بڑھا سکیں۔ہم میاں بیوی دونوں حلف دیتے ہیں کہ ہم نے اس بیان میں کوئی بات نہیں چھپائی۔ یہ بیان بالکل درست ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورتِ مسئولہ میں جب آپ نے بیوی کو ایک طلاق دے کر دورانِ عدت رجوع کرلیا، تو آپ دونوں کا ایک ساتھ رہنا جائز ہے، اور اب آپ کو دو طلاقوں کا اختیار باقی رہے گا  ۔ جہاں تک آپ کا اپنے پیر و مرشد کے سامنے دوسری طلاق کا صرف جھوٹا اقرار کرنا ہے جب کہ حقیقت میں  آپ نے وہ طلاق نہیں دی تھی،  تو دیانتًا یہ طلاق واقع نہیں ہوئی ۔

اسی طرح عدالت میں آپ کی بیوی کا معتبر اعذار مثلاً نان و نفقہ ادا نہ کرنے کی بنیاد پر فسخ نکاح کی اپیل دائر کرنا جبکہ حقیقت میں وہ اعذار موجود نہ ہوں ، تو عدالت کے فیصلے سے فسخِ نکاح نہیں ہوا  ،  یا اگر آپ کی بیوی کے یہ اعذار تو درست اور حقیقت پر مبنی تھے،  لیکن عدالت میں وہ ان کو ثابت کرنے کیلئے دو شرعی گواہ پیش نہ کرسکی  اور عدالت نے ان شرعی گواہوں کے بغیر ہی فسخِ نکاح کا فیصلہ کردیا تو بھی شرعاً نکاح کی تنسیخ نہیں ہوئی اور آپ دونوں کا نکاح بدستور قائم ہے ۔

حوالہ جات

«المبسوط» للسرخسي (6/ 140):

«(قال): وإن قال لها: طلقتك أمس، وهو كاذب كانت طالقا في القضاء، فأما فيما بينه وبين الله تعالى فهي امرأته؛ لأن الإقرار إخبار محتمل للصدق، والكذب إلا أن دينه وعقله يحمله على الصدق ويمنعه عن الكذب فحملنا كلامه في الظاهر على الصدق، فأما فيما بينه وبين الله تعالى فالمخبر عنه إذا كان كذبا لا يصير بالإخبار عنه صدقا؛ فلهذا لا يقع شيء.»

«العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية» (1/ 40):

«(سئل) في رجل سئل عن زوجته فقال أنا طلقتها وعديت عنها والحال أنه لم يطلقها بل أخبر كاذبا فما الحكم؟

(الجواب) : لا يصدق قضاء ويدين فيما بينه وبين الله تعالى وفي العلائي عن شرح نظم الوهبانية قال أنت طالق أو أنت حر وعنى به الإخبار كذبا وقع قضاء إلا إذا أشهد على ذلك. اهـ. وفي البحر الإقرار بالطلاق كاذبا يقع قضاء لا ديانة. اهـ. وبمثله أفتى الشيخ إسماعيل والعلامة الخير الرملي.»

«شرح الوقاية - ت أبو الحاج» (3/ 130):

«وأصحابنا رضي الله عنه لما شاهدوا الضرورة في التفريق؛ لأن دفع الحاجة الدائمة لا يتيسر بالاستدانة، والظاهر أنها لا تجد من يقرضها، وغنى الزوج في المال أمر متوهم استحسنوا أن ينصب القاضي نائبا شافعي المذهب يفرق بينهما(5).»

«بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع» (3/ 145):

«وأما ركنه فهو الإيجاب والقبول؛ لأنه عقد على الطلاق بعوض فلا تقع الفرقة، ولا يستحق العوض بدون القبول بخلاف النوع الأول فإنه إذا قال: خالعتك ولم يذكر العوض ونوى الطلاق فإنه يقع الطلاق عليها، سواء قبلت أو لم تقبل؛ لأن ذلك طلاق بغير عوض فلا يفتقر إلى القبول وحضرة السلطان ليست بشرط لجواز الخلع عند عامة العلماء فيجوز عند غير السلطان وروي عن الحسن وابن سيرين أنه لا يجوز إلا عند السلطان، والصحيح قول العامة لما روي أن عمر وعثمان وعبد الله بن عمر رضي الله عنهم جوزوا الخلع بدون السلطان، ولأن النكاح جائز عند غير السلطان فكذا الخلع.»

عبدالغفاربن غلام اکبر  

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

٣/صفرالمظفر/١٤٤٨

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبدالغفار بن غلام اکبر

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب