| 91486 | جائز و ناجائزامور کا بیان | بچوں وغیرہ کے نام رکھنے سے متعلق مسائل |
سوال
کیا شادی کے بعد کسی خاتون کا اپنے نام کے ساتھ والد کے نام کی بجائے شوہر کے نام کو استعمال کرنا شرعی لحاظ سے درست ہے قران و حدیث کی روشنی میں رہنمائی فرما دیجئے ۔جزاک اللہ
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
والد کے علاوہ کسی کی جانب ولدیت کی نسبت کرنا حرام ہے۔ تا ہم بھائی ، چچا وغیرہ دیگر رشتوں کی نسبت منع نہیں ہے۔ شوہر سے بھی چونکہ زوجیت کا رشتہ ہےاس لیے اس کا اظہار کیا جا سکتا ہے۔شادی کے بعد شناختی کارڈوغیرہ میں نام کی تبدیلی کا مقصد ولدیت کی نسبت تبدیل کرنا نہیں ہوتا بلکہ ایک اور رشتہ یعنی زوجیت کی نسبت بیان کرنا ہوتا ہے ، لہذا شناختی کارڈ وغیرہ میں شوہر کا نام لکھوانے میں کوئی قباحت نہیں( انبیائے کرام اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے زمانے میں بھی عورت کو شوہر کی طرف منسوب کرنے کا رواج تھا، مثلاً: امرأۃنوح، امرأۃ لوط، امرأۃ فرعون اور امرأۃ ابن مسعود(رضی اللہ عنہما)وغیرہ کہا جاتا تھا)۔
حوالہ جات
عمدة القاري شرح صحيح البخاري (17/ 305):
(من ادعى إلى غير أبيه) أي من انتسب إلى غير أبيه، (فالجنة عليه حرام) إما على سبيل التغليظ، وإما أنه إذا استحل ذلك.
شرح النووي على مسلم (2/ 52):
وأما قوله صلى الله عليه وسلم "فالجنة عليه حرام" ففيه التأويلان اللذان قدمناهما في نظائره. أحدهما :أنه محمول على من فعله مستحلا له. والثاني :أن جزاءه أنها محرمة عليه أولا عند دخول الفائزين وأهل السلامة ثم إنه قد يجازى فيمنعها عند دخولهم ثم يدخلها بعد ذلك وقد لا يجازى بل يعفو الله سبحانه وتعالى عنه ومعنى حرام ممنوعة.
محمد ابرار الحق
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
03/صفر/1448ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد ابرار الحق بن برھان الدین | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


