| 91272 | پاکی کے مسائل | حیض،نفاس اور استحاضہ کا بیان |
سوال
مجھے حیض کے ایام کے حوالے سے معلوم کرنا ہے، کیونکہ میری عادت مستقل نہیں ہے، لہٰذا مجھے اکثر ایام کی بے ترتیبی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ میری عمر 29 سال ہے، اور میری شادی کو آٹھ سال ہو گئے ہیں۔ میری کوئی اولاد نہیں ہے اور نہ ہی کبھی حمل ٹھہرا۔
میں اپنی گزشتہ چند ماہ کی عادت لکھ رہی ہوں۔ براہِ کرم مجھے میری نماز سے متعلق رہنمائی فرمائیں۔26دسمبر 2025 سے 4 جنوری 2026 تک نارمل طریقے سے حیض کے ایام تھے۔ پھر 29 جنوری 2026 سے 5 فروری 2026 تک نارمل طریقے سے حیض کے ایام تھے۔ پھر 7 اپریل 2026 کو اسپاٹنگ ہوئی۔ پھر 9 اپریل 2026 سے 12 اپریل 2026 تک اسپاٹنگ رہی۔ اس کے بعد 19 اپریل سے باقاعدہ خون جاری ہوا، جو 10 مئی 2026 تک جاری رہا۔
اس کے بعد 4 جون 2026 سے اسپاٹنگ جاری ہوئی، جو 14 جون تک بند ہو گئی۔ اس کے بعد دوبارہ 19 جون 2026 سے اسپاٹنگ جاری ہوئی، اور 21 جون 2026 سے 30 جون 2026 تک باقاعدہ خون جاری رہا، اور اب تاحال اسپاٹنگ جاری ہے۔میری نماز کی ترتیب بتا دیں کہ پاکی کے ایام کون سے ہیں اور استحاضہ کے کون سے ہیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
شرعی طور پر دو حیض کے درمیان طہرِ کامل، یعنی پاک رہنے کی کم سے کم مدت پندرہ دن ہے، جبکہ زیادہ سے زیادہ ایامِ طہر کی کوئی حد نہیں ہے۔ چنانچہ اگر ایک یا کئی دن خون آئے، اور پھر پندرہ دن سے کم خون بند رہے، تو ان دنوں کا کوئی اعتبار نہیں، بلکہ یہ سمجھا جائے گا کہ گویا اول سے آخر تک برابر خون جاری رہا۔ لہٰذا جتنے دن حیض آنے کی عادت ہو، اتنے دن حیض کے شمار ہوں گے اور باقی استحاضہ کے ہوں گے۔
اگر ہر مہینے دس سے کم، مگر متعین دن حیض کی عادت ہو، اور پھر کسی مہینے میں عادت سے زیادہ دن خون آئے، تو اگر دس یا اس سے کم دنوں میں خون بند ہو جائے، تو یہ تمام دن حیض کے شمار ہوں گے، اور اس کو یوں سمجھا جائے گا کہ عادت تبدیل ہوگئی ہے۔ اور اگر یہ دس دنوں سے بھی بڑھ جائے، تو پھر عادت کے علاوہ یہ تمام دن استحاضہ کے شمار ہوں گے۔
صورتِ مسئولہ میں 5 فروری 2026 تک نارمل طریقے سے حیض اور طہر کے ایام تھے۔ پھر 7 اپریل 2026 سے
10 مئی 2026 تک جو سلسلہ شروع ہوا، اس میں بغیر پندرہ دن کے وقفہ کے مسلسل خون آ رہا تھا۔ اس میں سابقہ عادت جو کہ آٹھ دن ہے حیض کے شمار ہوں گے اور باقی دن استحاضہ کے ہوں گے۔ اس کے بعد 4 جون 2026 سے جو سلسلہ شروع ہوا،آخر تک اس میں بغیر پندرہ دن کے وقفہ کے مسلسل خون آ رہا تھا۔ اس میں بھی سابقہ عادت جو کہ آٹھ دن ہے حیض کے شمار ہوں گے اور باقی دن استحاضہ کے ہوں گے جب تک مسلسل 15 دن خون بند نہیں ہو جاتا، تب تک ہر مہینے یہی ترتیب جاری رہے گی۔
استحاضہ کی حالت میں حکم یہ ہے کہ جب اس کا استحاضہ ہونا یقینی طور پر معلوم ہو، تو نماز، روزہ، تلاوت اور قربت، غرضیکہ پاکی والے تمام اعمال جائز ہوں گے۔ اگر خون اتنے وقفے سے آتا ہو کہ کپڑے پاک کرکے باوضو وقتی فرض نماز ادا کرنا ممکن ہو، تو بھی کپڑے پاک کرکے باوضو نماز ادا کرنا ضروری ہوگا۔ اور اگر خون مسلسل جاری ہو، تو ہر نماز کے وقت میں نیا وضو کرنا ہوگا، پھر اس وضو سے وقت کے اندر جتنی فرض یا نفل نمازیں چاہیں ادا کرسکتی ہیں۔ لہٰذا حیض کے دنوں کا حساب کرکے جو نمازیں استحاضہ کے دنوں میں حیض کا گمان ہونے کی بنا پر فوت ہوئی ہیں، ان کی قضا کرلیں۔
حوالہ جات
ملتقى الأبحر (ص82):
والعادة تثبت وتنتقل بمرة في الحيض والنفاس عند أبي يوسف وبه يفتي وعندها لا بد من المعاودة ونفاس التوأمين من الأول خلافا لمحمد.
الهداية في شرح بداية المبتدي (1/ 32-34):
أقل الحيض ثلاثة ايام ولياليها،وما نقص من ذلك فهو استحاضة ؛لقوله ﷺ :" أقل الحيض للجارية البكر والثيب ثلاثة أيام ولياليها وأكثره عشرة أيام "...ثم الزائد والناقص استحاضة ؛لأن تقدير الشرع يمنع إلحاق غيره به ، وما تراه المرأة من الحمرة والصفرة والكدرة في أيام الحيض حيض حتى ترى البياض خالصا...وأما الخضرة فالصحيح أن المرأة إذا كانت من ذوات الأقراء تكون حيضا و يحمل على فساد الغداء،وإن كانت كبيرة لا ترى غير الخضرة تحمل على فساد المنبت فلا تكون حيضا...قال: والطهر إذا تخلل بين الدمين في مدة الحيض فهو كالدم المتوالي... وأقل الطهر خمسة عشر يوما . . . ولا غاية لأكثره ؛لأنه يمتد إلى سنة وسنتين فلا يتقدر بتقدير، إلا إذا استمر بها الدم فاحتيج إلى نصب العادة...ودم الاستحاضة كالرعاف الدائم لا يمنع الصوم و لا الصلاة ولا الوطء؛ لقوله ﷺ :" توضئي وصلي وإن قطر الدم على الحصير " .وإذا عرف حكم الصلاة ثبت حكم الصوم والوطء بنتيجة الإجماع، ولو زاد الدم على عشرة أيام ولها عادة معروفة دونها ردت إلى أيام عادتها ،والذي زاد استحاضة؛لقوله ﷺ: "المستحاضة تدع الصلاة أيام أقرائها". ولأن الزائد على العادة يجانس ما زاد على العشرة فيلحق به، و إن ابتدأت مع البلوغ مستحاضة فحيضها عشرة أيام من كل شهر والباقي استحاضة ؛لأنا عرفناه حيضا فلا يخرج عنه بالشك...والمستحاضة ومن به سلس البول والرعاف الدائم والجرح الذي لا يرقأ يتوضئون لوقت كل صلاة ،فيصلون بذلك الوضوء في الوقت ما شاؤا من الفرائض والنوافل.
حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي :(1/ 285)
(وأقل الطهر) بين الحيضتين أو النفاس والحيض (خمسة عشر يوما) ولياليها إجماعا (ولا حد لأكثره) ، إن استغرق العمر (إلا عند) الاحتياج إلى (نصب عادة لها إذا استمر) بها (الدم) فيحد لأجل العدة بشهرين به يفتى، وعم كلامه المبتدأة والمعتادة.
حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي: (1/ 283)
و (أقله ثلاثة بلياليها) الثلاث، فالإضافة لبيان العدد المقدر بالساعات الفلكية لا للاختصاص، فلا يلزم كونها ليالي تلك الأيام؛ وكذا قوله (وأكثره عشرة) بعشر ليال، كذا رواه الدارقطني وغيره. (والناقص) عن أقله (والزائد) على أكثره أو أكثر النفاس أو على العادة وجاوز أكثرهما. (وما تراه) صغيرة دون تسع على المعتمد وآيسة على ظاهر المذهب (حامل) ولو قبل خروج أكثر الولد (استحاضة(.(قوله بالساعات) وهي اثنتان وسبعون ساعة، والفلكية هي التي كل ساعة منها خمس عشرة درجة وتسمى المعتدلة أيضا. واحترز به عن الساعات اللغوية. (قوله والناقص إلخ) أي ولو بيسير. قال القهستاني: فلو رأت المبتدأة الدم حين طلع نصف قرص الشمس وانقطع في اليوم الرابع حين طلع ربعه كان استحاضة إلى أن يطلع نصفه، فحينئذ يكون حيضا.
البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري: (1/ 218)
(قوله وأقل الطهر خمسة عشر يوما) بإجماع الصحابة رضي الله عنهم ولأنه مدة اللزوم فصار كمدة الإقامة (قوله ولا حد لأكثره إلا عند نصب العادة في زمن الاستمرار) ؛ لأنه قد يمتد إلى سنة وإلى سنتين، وقد لا تحيض أصلا فلا يمكن تقدير أكثره إلا عند الضرورة.
البحر الرائق شرح كنز الدقائق : (1/ 226)
(قوله: وتتوضأ المستحاضة ومن به سلس بول أو استطلاق بطن أو انفلات ريح أو رعاف دائم أو جرح لا يرقأ لوقت كل فرض) .
الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (1/ 41)
المستحاضة ومن به سلس البول أو استطلاق البطن أو انفلات الريح أو رعاف دائم أو جرح لا يرقأ يتوضئون لوقت كل صلاة ويصلون بذلك الوضوء في الوقت ما شاءوا من الفرائض والنوافل هكذا في البحر الرائق.
ابن امین صاحب دین
دارالافتاءجامعۃالرشیدکراچی
04/صفر /1448ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | ابن امین بن صاحب دین | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


