03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ہبہ کی گئی رقم سے شادی کے اخراجات کرنا
91474ہبہ اور صدقہ کے مسائلہبہ کےمتفرق مسائل

سوال

سوال: اگر کوئی عورت نکاح سے پہلے اپنے ہونے والے شوہر کو پیسے بطورِ گفٹ دے، اور پھر وہ شخص انہی پیسوں سے اسی عورت سے شادی کر لے، اور سارا خرچہ گفٹ والے پیسوں سے کرے، تو کیا یہ جائز ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ جب کوئی شخص کسی کو کوئی چیز ہبہ کرکے اس کے قبضے میں دے دے تو وہ چیز ہبہ کرنے والے کی ملکیت سے نکل جاتی ہے اور جسے ہبہ کی گئی ہے، اس کی ملکیت میں داخل ہو جاتی ہے۔ لہٰذا اب موہوب لہ جس طرح چاہے، اس میں جائز تصرف کر سکتا ہے۔ لہٰذا مذکورہ صورت میں شوہر کا ان پیسوں کو شادی میں خرچ کرنا جائزہے۔

حوالہ جات

«بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع» (6/ 127):

«وأما حكم الهبة فالكلام فيه في ثلاث مواضع في بيان أصل الحكم وفي بيان صفته وفي بيان ما يرفع الحكم.

أما أصل الحكم فهو ثبوت الملك للموهوب له في الموهوب من غير عوض لأن الهبة تمليك العين من غير عوض فكان حكمها ملك الموهوب من غير عوض»

«الهداية في شرح بداية المبتدي» (3/ 222):

«كتاب الهبة

الهبة عقد مشروع لقوله عليه الصلاة والسلام: "تهادوا تحابوا" وعلى ذلك انعقد الإجماع "وتصح بالإيجاب والقبول والقبض" أما الإيجاب والقبول فلأنه عقد، والعقد ينعقد بالإيجاب، والقبول، والقبض لا بد منه لثبوت الملك.»

اسداللہ بن قوت خان

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

5/صفر /8144 ھ  

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

اسداللہ بن قوت خان

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب