03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر شراب نوشى کے الزام کى حقیقت
91341ایمان وعقائدایمان و عقائد کے متفرق مسائل

سوال

سیدنا  امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ کے متعلق  ایک حدیث  میں ان کے شراب پینے کا ذکر ہے ۔میرا سوال یہ ہے کہ کیا یہ حدیث  مستند ہے  ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

یہ روایت  سند  اور متن دونوں اعتبار سے منکر ہے :

سند کے  اعتبار سے اس لیے  کہ اس روایت کا مدار  " حسین بن واقد مروزی" ہیں، جو"عن عبد الله بن بريدة، عن أبيه بريدة رضي الله عنه"کے طریق سے روایت کرتے ہیں ۔"حسین بن واقد     " عبد اللہ بن بریدہ ؒ سے  روایت بیان کرنے میں متفرد ہیں،جو صدوق ،صاحبِ اوہام   راوی ہیں، نیز ان کی عبد اللہ بن بریدہ  سے بعض روایات میں مناکیر پائے جاتے ہیں ،چناچہ  امام احمدبن حنبل رحمہ اللہ ان کے متعلق فرماتے ہیں :" ما أنكر حديث حسين بن واقد وأبي المنيب عن ابن بريدة "

   ايك دوسری جگہ  فرماتے ہیں :" عبد الله بن بريدة الذي روی عنه حسين بن واقد ما أنكرها، وأبو المنيب أيضا يقولون كأنها من قبل هؤلاء"

"شراب" سے عربی زبان میں کوئی بھی مشروب  مراد لیاجا سکتاہے۔اگر اس سے خمر مرادلی جائے،تواس صورت میں  متن بھی  درج ذیل   وجوہ  کی بنا پر منکر ہے:

۱۔حضرت امیر معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما جلیل القدر صحابی ہیں۔  وہ خود شراب کی حرمت سے متعلق رسول اللہ ﷺ سےروایت کرتے ہیں: "کہ جب کوئی  آدمی شراب پیے، تو اسے کوڑے مارو،پھر اگر دوبارہ پیے تو پھر کوڑے مارو ،پھر اگر تیسری  مرتبہ پیے تو کوڑے مارو ،اگر چوتھی مرتبہ  بھی پی لے تو اسے قتل کردو"۔    

اس  روایت سے معلوم ہوا کہ حضرت امیر معاویہ ان صحابہ میں سے ہیں ،جنہوں نے  حرمتِ شراب سے متعلق روایا ت بیان کی ہیں  ،بلکہ اس  سے بڑھ کر اس  کی تعزیری سزاکو بیان کیا۔ نیز اپنی خلافت کے دوران حدِّشرب میں اسّی کوڑوں کی سزا کو  مقررکیا۔ لہذا    ان کی طرف شراب کی حرمت کے بعد شراب پینے کی نسبت    خلاف اصل ہے۔

۲۔اس روایت میں یہ بھی مذکور ہے کہ حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ نے بھی وہ مشروب نوش فرمایا تھا۔ اس سے روایت کی نکارت اور بھی  واضح ہوجاتی  ہے، کیونکہ حضرت بریدہ بن حصیب رضی اللہ عنہ بھی جلیل القدراور السابقون الاولون

 صحابہ    میں سے ہیں ۔  لہذا  دو جلیل القدر صحابہ کا حرام کام پر اتفاق بھی خلاف اصل ہے۔

خلاصہ یہ کہ مندرجہ بالا بحث سے واضح ہوتا ہے کہ یہ روایت سند اور متن دونوں اعتبار سے منکر ہے۔ نیز اس میں "شراب "سے متعین طور پر خمر مراد لینابھی درست نہیں ۔لہٰذا    اسے  امیر المؤمنین   سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ پر طعن و تشنیع اور ان کی مذمت کا ذریعہ بنانا تو دور کی بات ،اس سے استدلال کرنا  بھی جائز نہیں۔

نیزصحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے محبت رکھنا، ان کا خیر کے ساتھ ذکر کرنا اور ان کی شان میں گستاخی سے اجتناب کرنا اہلِ سنت والجماعت کے بنیادی عقائد میں سے ہے۔ اسی لیے امام طحاوي نے اپنی مشہور"العقيدة الطحاوية"میں فرمایا:"ہم رسول اللہ ﷺ کے تمام صحابہ سے محبت رکھتے ہیں، کسی کی محبت میں غلو نہیں کرتے، کسی سے براءت کا اظہار نہیں کرتے، جو ان سے بغض رکھے یا انہیں برے الفاظ سے یاد کرے، ہم اس سے بغض رکھتے ہیں۔ ہم صحابہ کا ذکر ہمیشہ خیر کے ساتھ کرتے ہیں۔ ان سے محبت دین، ایمان اور احسان ہے، جبکہ ان سے بغض رکھنا کفر، نفاق اور سرکشی ہے... اور جس شخص نے رسول اللہ ﷺ کے صحابہ، آپ کی پاکیزہ ازواج اور آپ کی مقدس اولاد کا اچھے الفاظ میں ذکر کیا، وہ نفاق سے بری ہوگیا۔ اور جو ان کا برے انداز میں ذکر کرے، وہ سیدھے راستے پر نہیں ہے۔

حوالہ جات

مسند أحمد (38/ 25 ط الرسالة):

حدثنا زيد بن الحباب، حدثني حسين،حدثنا عبد الله بن بريدة، قال: دخلت أنا وأبي على معاوية، فأجلسنا على الفرش، ثم أتينا بالطعام، فأكلنا، ثم أتينا بالشراب، فشرب معاوية، ثم ناول أبي، ثم قال: ما شربته منذ حرمه رسول الله صلى الله عليه وسلم. ثم قال معاوية: كنت أجمل شباب قريش، وأجوده ثغرا، وما شيء كنت أجد له لذة كما كنت أجده وأنا شاب غير اللبن، أو إنسان حسن الحديث يحدثني.

سنن أبي داود (4/ 280 ط) ( الحدیث رقم 4482):

عن معاوية بن أبي سفيان قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إذا شربوا الخمر فاجلدوهم، ثم إن شربوا فاجلدوهم، ثم إن شربوا فاجلدوهم، ثم إن شربوا فاقتلوهم .ھکذا ھذہ الروایۃموجودۃ فی  الترمذی ، سنن ابن ماجہ،و مسند احمد.

سنن أبي داود  ،رقم الحدیث 4488:

عن ابن شهاب، أخبره أن عبد الله بن عبد الرحمن بن الأزهر، أخبره عن أبيه قال: أتي النبي صلى الله

عليه وسلم بشارب وهو بحنين، فحثى في وجهه التراب، ثم أمر أصحابه فضربوه بنعالهم، وما كان في أيديهم، حتى قال لهم: )ارفعوا( فرفعوا، فتوفي رسول الله صلى الله عليه وسلم، ثم جلد أبو بكر في الخمر أربعين، ثم جلد عمر أربعين صدرا من إمارته، ثم جلد ثمانين في آخر خلافته، ثم جلد عثمان الحدين كليهما ثمانين وأربعين،، ثم أثبت معاوية الحد ثمانين ."

مصنف ابن أبي شيبة (17/ 109 ت الشثري):

حدثنا زيد بن الحباب عن حسين بن واقد قال: حدثنا عبد الله بن بريدة قال: دخلت أنا وأبي على معاوية فأجلس أبي على السرير وأتى بالطعام فأطعمنا وأتى بشراب فشرب، فقال معاوية: ما شيء كنت أستلذه وأنا شاب فآخذه اليوم إلا اللبن، فإني آخذه كما كنت آخذه قبل اليوم، والحديث الحسن.

شرح العقيدة الطحاوية  (ص475):

 (ونحب أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم، ولا نفرط في حب أحد منهم، ولا نتبرأ من أحد منهم. ونبغض من يبغضهم، وبغير الخير يذكرهم. ولا نذكرهم إلا بخير. وحبهم دين وإيمان وإحسان، وبغضهم كفر ونفاق وطغيان).يشير الشيخ رحمه الله إلى الرد على الروافض والنواصب. وقد أثنى الله على الصحابة هو ورسوله، ورضي عنهم، ووعدهم الحسنى كما قال تعالى: {والسابقون الأولون من المهاجرين والأنصار والذين اتبعوهم بإحسان رضي الله عنهم ورضوا عنه ۔۔۔الخ

أصول الدين عند الإمام أبي حنيفة (ص540):

أما الحديث الثالث ففيه بيان لفضل أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم، حيث «وصفهم بالصحبة، ونهى عن التعرض لهم وأوجب ذكرهم بالقول الحسن.وهذا هو ما عليه الإمام أبو حنيفة طاعة لربه وامتثالا لأمر نبيه محمد صلى الله عليه وسلم فهو يحب جميع الصحابة ويترضى عنهم ويتولاهم ولا يتبرأ من أحد منهم ولا يذكرهم إلا بالخير. دل على هذا قول الإمام أبي حنيفة: "ولا نذكر أحدا من أصحاب الرسول إلا بخير".

وقوله: "ولا نتبرأ من أحد من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم ولا نوالي أحدا دون أحد" 2.

وقرر هذا الطحاوي في بيان اعتقاد أهل السنة والجماعة على مذهب أبي حنيفة وصاحبيه حيث قال: "ونحب أصحاب الرسول صلى الله عليه وسلم ولا نفرط في حب أحد منهم، ولا نتبرأ من أحد منهم، ونبغض من يبغضهم وبغير الخير يذكرهم، ولا نذكرهم إلا بخير وحبهم دين وإيمان وإحسان، وبغضهم كفر ونفاق وطغيان".وقال: "ومن أحسن القول في أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم وأزواجه الطاهرات من كل دنس، وذريته المقدسين من كل رجز فقد برئ من النفاق."

حنبل اکرم

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

 05/صفر المعظم   /1448ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

حنبل اکرم بن محمد اکرم

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب