03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مشترکہ گاڑی کے کرایہ کی تقسیم
91252اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلکرایہ داری کے متفرق احکام

سوال

دو آدمی سامان لینے گئے۔ ان میں سے ایک نے 357من سامان خریدا، جبکہ دوسرے نے 68 من سامان خریدا۔ دونوں نے ایک ٹرک کرایہ پر لیا، جس کا کرایہ 28000 روپے تھا۔ جس شخص کا 68 من سامان تھا، اس کا سامان دونوں کے پہنچنے سے پہلے ہی لوڈ ہو چکا تھا، اور اس کے ساتھ زیادہ سامان والے شخص کا بھی تھوڑا سا سامان لوڈ ہو گیا تھا۔ باقی سامان لوڈ ہونا شروع ہوا تو ڈرائیور نے کہا کہ سامان زیادہ ہے، اس لیے وہ سارا سامان ایک ہی ٹرک میں نہیں لے جا سکتا۔ چنانچہ زیادہ سامان والے شخص کا کچھ سامان بعد کے لیے رہ گیا۔ پہلے ٹرک میں سامان لوڈ ہونے کے بعد 80 من سامان باقی بچ گیا، جس کے لیے دوسرا ٹرک کرائے پر کرنا پڑا۔ دوسرے ٹرک کا کرایہ 15000 روپے تھا۔ دوسرا ٹرک کرائے پر کرنے میں کسی کی کوئی غلطی نہیں تھی، اور نہ ہی یہ طے ہوا تھا کہ یہ ٹرک کم سامان والے شخص کی وجہ سے کرایا گیا۔ اگر سارا سامان پہلے ٹرک میں آ جاتا تو کوئی مسئلہ نہ ہوتا، لیکن سامان زیادہ ہونے کی وجہ سے دوسرا ٹرک درکار ہوا۔ سامان منزل پر پہنچنے کے بعد کرایہ تقسیم کرنے کی بات آئی۔ پہلے سے کرایہ تقسیم کرنے کا کوئی واضح معاہدہ نہیں ہوا تھا۔ اب اختلاف یہ ہے کہ جس شخص کا سامان 357 من تھا، وہ کہتا ہے کہ میرا سارا سامان ایک ہی ٹرک میں آ سکتا تھا، اس لیے میں صرف پہلے ٹرک کا کرایہ، یعنی 28000 روپے دوں گا۔ لیکن چونکہ وہ الگ ٹرک تھا، اس لیے اس کا 15000 روپے کرایہ دوسرا شخص ادا کرے۔ جبکہ دوسرا شخص، جس کا سامان 68 من تھا، کہتا ہے کہ دونوں ٹرکوں کا مجموعی کرایہ، یعنی 43000 روپے، دونوں کے سامان کے وزن کے تناسب سے تقسیم ہونا چاہیے، کیونکہ پہلے سے کسی اور طریقے پر اتفاق نہیں ہوا تھا۔ البتہ ایک بات یہ بھی ہوئی تھی کہ سامان خریدنے سے پہلے جس شخص کا سامان زیادہ تھا، اس نے کہا تھا کہ کرایہ آدھا آدھا ہوگا، لیکن اسی وقت دوسرے شخص نے واضح کر دیا تھا کہ نہیں، کرایہ وزن کے حساب سے تقسیم ہوگا، اور اس پر دونوں کے درمیان کوئی حتمی اتفاق نہیں ہوا۔ براہِ کرم قرآن و سنت، انصاف اور عام تجارتی اصولوں کی روشنی میں اس مسئلے کا درست اور منصفانہ حل بتائیں کہ دونوں افراد پر کتنا کتنا کرایہ بنتا ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

 صورتِ مسؤولہ میں پہلے ٹرک کا کرایہ سامان کے وزن کے تناسب سے دونوں حضرات پر تقسیم ہوگا ، لہذا جس شخص کا سامان 68من تھا ، اس کے ذمےتقریبًا 5518 روپے لازم ہوں گے، جب کہ  پہلے ٹرک کا بقیہ کرایہ زیادہ سامان والے شخص کے ذمے ہو گا، اسی طرح دوسرے ٹرک کا مکمل کرایہ بھی زیادہ سامان والے شخص  کو ہی ادا کرنا ہوگا ، اس لیے کہ دوسرا ٹرک خالصتاً زیادہ سامان والے شخص کی ضرورت کے پیشِ نظر کرایہ پر لیا گیا تھا، جس میں کم سامان والے شخص کا کوئی عمل دخل یا کوتاہی نہیں تھی۔ البتہ اگر کم سامان والا شخص اپنی خوشی اور رضا مندی سے اپنی  ہی  تجویز (یعنی مجموعی کرایہ 43000کی تقسیم ) پر عمل کرنے کے لیے تیارہو،تو یہ بھی جائز ہے ۔ اس صورت میں کم سامان والے شخص پر 6880 روپے لازم ہوں گے اور بقیہ کرایہ دوسرے شخص کے ذمے  ہوگا۔

حوالہ جات

«درر الحكام في شرح مجلة الأحكام» (1/ 459):

«وكذلك لو استأجر إنسان بغلين: أدهم وأشهب ليحمل عليهما 20 كيلة حنطة، فيجب أن يحمل عشرة على الأشهب وعشرة على الأدهم فإذا حمل أحدهما زيادة عن الآخر تقسم الأجرة عليهما حسب أجر المثل لكل منهما؛ لأن التفاوت بين الدابتين تفاوت فاحش يختلف الأجر بمثله والتفاوت بين الأجراء في عمل واحد تفاوت يسير؛ فلا يعتبر.»

«الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية» (4/ 491):

«ولو استأجرا دابة على أن لأحدهما ثلثها وللآخر ثلثها فحمل عليها الأول سبعة والآخر عشرة ضمن هذا أربعة وثلثا من سبعة عشر لأن المأذون له خمسة وثلثان. كذا في الغياثية.»

«البناية شرح الهداية» (10/ 320):

«م: (والأجر مقابل بالمنافع، ولهذا) ش: أي ولأجل أن الأجر مقابل بالمنافع»

«الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية» (4/ 457):

«وإذا استأجر دابتين ليحمل عليهما عشرين مختوما من الحنطة بكذا لم يكن له أن يحمل على أحدهما أكثر من العشرة فلو حمل على واحدة أكثر من العشرة فإنه يقسم الأجر عليهما على قدر أجر مثلهما؛ لأن التفاوت بين الدابتين تفاوت فاحش يختلف الأجر بمثله والتفاوت بين الأجراء في عمل واحد تفاوت يسير فلا يعتبر. قال بعض مشايخنا: هذا إذا لم يكن التفاوت بين الأجراء في العمل في هذه الصورة تفاوتا فاحشا أما إذا فحش التفاوت لا يقسم الأجر على عدد الرءوس كما في مسألة الدابتين.»

عبدالغفاربن غلام اکبر 

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

٥ /صفرالمظفر/١٤٤٨

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبدالغفار بن غلام اکبر

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب