03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
روبوٹس، ڈیجیٹل تصاویر اور AI کا شرعی حکم
91491جائز و ناجائزامور کا بیانکھیل،گانے اور تصویر کےاحکام

سوال

گزارش ہے کہ راقم ایک دفتر (آفس) چلاتا ہے، جس میں متعدد شعبہ جات کام کرتے ہیں۔ ان شعبہ جات میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ناگزیر ہو گیا ہے۔ اس سلسلے میں چند اہم مسائل پیش آ رہے ہیں، جن کے بارے میں شریعتِ اسلامیہ کی روشنی میں رہنمائی درکار ہے۔ لہٰذا ان تمام مسائل کو تفصیل سے پیش کیا جاتا ہے، تاکہ آپ مکمل صورتِ حال سمجھ کر شرعی حکم ارشاد فرما سکیں۔

  -1کیا کسی ذی روح مخلوق (جیسے انسان یا حیوان) کی شکل و صورت میں جسمانی روبوٹ بنانا جائز ہے؟

  • کیا انسانی یا حیوانی شکل و ہیئت پر مبنی روبوٹ تیار کرنا یا خریدنا جائز ہے؟
  • اگر انسانی شکل کا روبوٹ ناجائز ہو، تو کیا اس کا صرف کاروباری مقاصد (طبی، تعلیمی، دفتری) کے لیے استعمال بھی ممنوع ہے؟
  • کیا غیر جاندار شکل (مشینی ڈھانچہ) پر مبنی روبوٹ جائز ہے؟

  -2کیمرے (Camera) کے ذریعے فوٹوگرافی کرنا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟

  •  غیر جاندار اشیا، جیسے دستاویزات اور عمارت،  درختوں، پہاڑوں، آسمان، ندیوں اور دیگر قدرتی مناظر کی تصاویر یا ویڈیوز بنانا، اور انہیں تجارتی یا تعلیمی مقاصد کے لیے استعمال کرنا کیسا ہے؟
  •  کیا جاندار مخلوق، انسان یا حیوان، کی تصویر لینا جائز ہے؟
  •  کیا دینی علماء، اساتذہ یا معزز شخصیات کی ویڈیوز یا تصاویر بنانا جائز ہے، خاص طور پر جب یہ تعلیمی، دعوتی یا ادارہ جاتی مقاصد کے لیے ہوں؟
  • کسی حقیقی زندہ انسان کی ڈیجیٹل تصویر یا ویڈیو بنانا اور اسے دفتری مقاصد میں استعمال کرنا، مثلاً شناختی کارڈ، ملازم کا ریکارڈ، آن لائن میٹنگ وغیرہ۔
  • کیا کیمرے سے لی گئی ڈیجیٹل تصویر اور ہاتھ سے بنی ہوئی تصویر کے حکم میں فرق ہے؟

  -3مصنوعی ذہانت، یعنی اے آئی (Artificial Intelligence: AI) کے ذریعے تصاویر تیار کروانا کیسا ہے؟

  • کیا روبوٹ یا مشین کی AI تصویر بنانا جائز ہے، خاص طور پر جب وہ ڈیزائن یا پریزنٹیشن کے لیے ہو؟
  •   کیا زمین، آسمان، پہاڑ اور دیگر قدرتی مناظر کی AI تصاویر بنانا جائز ہے؟
  •   کیا خیالی یا فرضی کرداروں کی AI تصاویر بنانا جائز ہے؟

جن مقاصد کے لیے یہ تصاویر بنوائی جاتی ہے:

  • طبی مقاصد، میڈیکل، مثلاً جسمانی اعضاء کی تصاویر، طبی تعلیم کے لیے خاکے۔
  • تعلیمی مقاصد، مثلاً سائنسی موضوعات کی وضاحت، نصابی مواد، پریزنٹیشن وغیرہ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مذکورہ سوالات کے جوابات بالترتیب درج ذیل ہیں:

 (1) اگر روبوٹ میں انسانی یا حیوانی شکل و صورت (یعنی آنکھیں ،ناک ، منہ وغیرہ)نمایاں ہو تو یہ مجسمہ کے حکم میں ہے۔ اس کو تیار کرنا اور خریدنا  دونوں ناجائز اور حرام ہیں۔اس سے ہر صورت میں احتراز لازم ہےنیز  اس کا کاروباری مقاصد کے لیے  استعمال بھی جائز  نہیں ۔البتہ اگر روبوٹ کسی جاندار کی شکل میں نہ ہو، بلکہ صرف ایک مشینی ڈھانچہ ہو، تو اس کا استعمال جائزہے،بشرطیکہ اسے جائز کاموں میں استعمال کیا جائے۔

(2)     اگر کسی عمارت، دستاویز یا پہاڑ وغیرہ کی ساخت کسی جاندار جیسی رکھی جائے، جس میں چہرے کے خدوخال بھی نمایاں ہوں جیسے بعض کارٹونوں میں ایسا  کیا جاتا ہے تو یہ شرعاً ناجائز ہے۔ اس کے برعکس اگر وہ فقط غیر جاندار کی شکل و صورت پر مبنی ہو، تو اس کی ہر طرح کی تصویر  بنانا بلا کراہت جائز ہے۔ جبکہ کسی جاندار، خواہ مردہ ہو یا زندہ، کی تصویر کاغذ پر بنانا تو ناجائز و حرام ہے ۔البتہ  ڈیجیٹل تصویر کے بارے میں علمائے کرام کی تین آراء ہیں:

)الف(بعض علمائے کرام ڈیجیٹل تصویر کو بھی حقیقی تصویر کے حکم میں قرار دیتے ہیں۔

)ب(بعض علمائے کرام کے نزدیک اس پر حقیقی تصویر کے احکام کا اطلاق نہیں ہوتا۔

)ج(ہمارے نزدیک ڈیجیٹل تصویر بھی اپنی حقیقت کے لحاظ سے تصویر ہی ہے، البتہ اس کے تصویر ہونے یا نہ ہونے میں چونکہ ایک سے زائد فقہی آراء موجود ہیں، اس لیے ہماری رائے یہ ہے کہ   کسی بھی دینی یا دنیاوی ضرورت کی وجہ سے،جیسا کہ دینِ اسلام کے خلاف پروپیگنڈوں سے دفاع اور صحیح دینی معلومات کی فراہمی کی خاطر، یا اس کے علاوہ کسی واقعی اور معتبر دینی یا دنیاوی مصلحت کی خاطر، ایسی چیزوں اور مناظر کی تصویر اور ویڈیو بنانے کی گنجائش  ہے، جن میں تصویر ہونے کے علاوہ کوئی اور حرام پہلو، مثلاً عریانیت، موسیقی یا غیر محرم  خواتین کی تصاویر وغیرہ  نہ ہو۔ جو حضرات ڈیجیٹل تصویر کے جواز کے قائل ہیں، ان کی رائے میں ڈیجیٹل تصویر شرعی ممنوع تصویر میں شامل نہیں، کیونکہ شرعی ممنوع تصویر وہ ہے جو کسی سطح پر قائم و پائیدار ہو اور اسے استقرار حاصل ہو۔مستفاد از تبویب: (89546)

لہذا تعلیمی، دعوتی یا ادارہ جاتی مقاصد کے لیے علماء کرام، اساتذہ یا معزز شخصیات کی  ایسی ویڈیوز یا تصاویر  بنانے کی گنجائش  ہے، جن میں تصویر ہونے کے علاوہ کوئی اور حرام پہلو، مثلاً عریانیت، موسیقی یا غیر محرم کی تصاویر وغیرہ، نہ ہو۔ 

ہاتھ سے بنائی گئی  تصویر وہ ہے جو کسی سطح پر قائم وپائیدار ہو اور اسے استقرار حاصل ہوایسی تصویر بنانا حرام ہے۔جبکہ ڈیجیٹل تصویر   میں فقہاء کرام کی مذکورہ تین آراء ہیں ۔

(3) AI سے غیر جاندار، جیسے زمین، پہاڑ، آسمان، درخت، سمندر اور دیگر قدرتی مناظر کی تصاویر تیار کروانا جائز ہے۔اسی طرح AI سے  تعلیمی مقاصد کے لیے فرضی تصاویر اور کردار بنوانے کی بھی گنجائش  ہے، بشرطیکہ ان میں کوئی حرام پہلو، مثلاً عریانیت، موسیقی یا کوئی اور شرعی ممنوع تصاویر وغیرہ شامل نہ ہوں۔

نیز ڈیزائن یا پریزنٹیشن کے لیے بھیAI سے روبوٹ یا  مشینوں  کی تصاویر بنانا  جائز ہے۔

حوالہ جات

صحيح البخاري (775/2):

حدثنا عبد الله بن عبد الوهاب: حدثنا يزيد بن زريع: أخبرنا عوف، عن سعيد بن أبي الحسن قال:كنت عند ابن عباس رضي الله عنهما: إذ أتاه رجل فقال: يا أبا عباس، إني إنسان، إنما معيشتي من صنعة يدي، وإني أصنع هذه التصاوير. فقال ابن عباس: لا أحدثك إلا ما سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: سمعته يقول: (من صور ‌صورة فإن الله معذبه حتى ينفخ فيها الروح، وليس بنافخ فيها أبدا). فربا الرجل ربوة شديدة واصفر وجهه، فقال: ويحك، إن أبيت إلا أن تصنع، فعليك بهذا الشجر، كل شيء ليس فيه روح.

شرح المشكاة للطيبي الكاشف عن حقائق السنن (9/ 2944):

قال أصحابنا وغيرهم من العلماء: تصوير صور الحيوان حرام شديد التحريم، وهو من الكبائر؛ لأنه متوعد عليه بهذا الوعيد الشديد المذكور في الأحاديث، وسواء صنعه في ثوب أو بساط أو درهم أو دينار وغير ذلك.

حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (1/ 647):

وظاهر كلام النووي في شرح مسلم الإجماع على تحريم تصوير الحيوان، وقال: وسواء صنعه لما يمتهن أو لغيره، فصنعته حرام بكل حال لأن فيه مضاهاة لخلق الله تعالى، وسواء كان في ثوب أو بساط أو درهم وإناء وحائط وغيرها اهـ فينبغي أن يكون حراما لا مكروها إن ثبت الإجماع أو قطعية الدليل بتواتره اهـ كلام البحر ملخصا.

مسند أحمد (5/ 23 ط الرسالة):

كل ‌مصور في النار، يجعل له بكل صورة صورها نفس تعذبه في جهنم " فإن كنت لا بد فاعلا، فاجعل الشجر وما لا نفس له.

مسند الحميدي (1/ 284):

إن أشد الناس عذابا عند الله يوم القيامة الذين ‌يضاهون بخلق الله عز وجل قالت: فقطعنا منه وسادة أو وسادتين.

تكملةفتح الملهم (164/4):

 أما اتخاذ الصورة الشمسية للضرورة أو الحاجة كحاجتها في جواز السفر، وفى التاشيرة، وفى البطاقات الشخصيّة أو في مواضع يحتاج فيها إلى معرفة هويّة المرء، فينبغي أن يكون مرخصا فيه. فإن الفقهاء رحمهم الله تعالى استثنوا مواضع الضرورة من الحرمة قال الإمام محمد في السير الكبير: وإن تحققت الحاجة له إلى استعمال السلاح الذي فيه تمثال فلا بأس باستعماله وأعقبه السرخسي الله في شرحه : بقوله: لأن مواضع الضرورة مستثناة من الحرمة كما في تناول الميتة. وذكر السرخسي أيضا: ( إن المسلمين يتبايعون بدراهم الأعاجم فيها التماثيل بالتيجان، ولا يمنع أحد عن المعاملة بذلك.
تكملةفتح الملهم(164/4):                      

أما التلفزيون والفديو، فلاشك في حرمة استعمالهما بالنظر إلى ما يشتملان عليه من المنكرات الكثيرة من الخلاعة والمجون والكشف عن النساء المتبرجات أو العاريات وما إلى ذلك من أسباب الفسوق ولكن هل يتأتى فيهما حكم التصوير بحيث إذا كان التلفزيون أو الفيديو خاليا من هذه المنكرات بأسرها هل يحرم بالنظر إلى كونه تصويرا ؟ فإن لهذا العبد الضعيف عفا الله عنه فيه وقفة. وذلك لأنّ الصُّورة المحرمة ما كانت منقوشة أو منحوتة بحيث يصبح لها صفة الاستقرار على شيئ، وهي الصورة التي كان الكفار يستعملونها للعبادة. أما الصورة التي ليس لها ثبات واستقرار، وليست منقوشة على شيئ بصفة دائمة فإنها بالظلّ أشبه منها بالصورة. ويبدو أن صورة التلفزيون والفيديو لا تستقر على شيئ في مرحلة من المراحل إلا إذا كان في صورة "فيلم". فإن كانت صور الإنسان حيّة بحيث تبدو على الشاشة فى نفس الوقت الذي يظهر فيه الإنسان أمام الكيمرا فإن الصورة لا تستقر على الكيمرا ولا على الشاشة، وإنما هي أجزاء كهربائية تنتقل من الكيمرا إلى الشاشة وتظهر عليها بترتيبها الأصلي، ثم تفنى وتزول. وأما إذا احتفظ بالصورة فى شريط الفيديو، فإن الصور لا تنقش على الشريط وإنما تحفظ فيها الأجزاء الكهربائية التي ليس فيها صورة فإذا ظهرت هذه الأجزاء على الشاشة ظهرت مرة أخرى بذلك الترتيب الطبيعي، ولكن ليس لها ثبات ولا استقرار على الشاشة، وإنما هي تظهر وتفنى فلايبدو أن هناك مرحلة من المراحل تنتقش فيها الصورة على شيئ بصفة مستقرة أو دائمة وعلى هذا فتنزيل هذه الصورة منزلة الصورة المستقرة الله امرأ هداني للصواب في ذلك، والله سبحانه أعلم.

ابن امین صاحب دین

دارالافتاءجامعۃالرشیدکراچی

06/صفر/1448ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

ابن امین بن صاحب دین

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب