03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
رخصتی کے بعد حق مہر کا حکم
91203نکاح کا بیانجہیز،مہر اور گھریلو سامان کا بیان

سوال

میری شادی مورخہ 20-8-2022 کو طاہره دختر میر عالم سکنہ ڈب بٹل بعوض حق مہر تین لاکھ روپے میں طے پائی، جس کے نکاح نامے کی کاپی آپ کو ارسال خدمت ہے ، آج تک میری کوئی بھی اولاد نہیں ہے، میری بیوی طاہره دختر میر عالم کے پاس میرا پانچ تولے سونا بطور امانت تھا،جب میں نے طلب کیا تو مجھے کہا کہ میرے والد کے گھر رکھا ہوا ہے، پھر میرا بڑا بھائی اور بڑی بہن اور بھانجا یہ تین لوگ میرے سسر میر عالم کے گھر ڈب بٹل گئے اور میری بیوی کے بڑے بھائی لیاقت ولد میر عالم نے کہا ہمارے چھوٹے بھائی کی شادی تھی اور ہماری بہن طابره سونا یہاں رکھ کر چلی گئی ہے اور اس وقت میری بیوی نسیم گهر میں موجود نہیں ہے۔ چونکہ چابی اس کے پاس ہے، تم لوگوں کی امانت صبح انشاء اللہ آپ کے گھر پہنچا دوں گا۔یہ اطلاع میری بیوی طاہرہ کو ہوئی تو اس نے میری والدہ محترمہ جو کہ ضعیف العمر تھی اس کے کمرے میں گئی اور شور کرنے لگی، اونچی آواز میں چیخ و پکار شروع کر دی اور گالم گلوچ اور دهمکیاں دینی شروع کر دی، تم لوگ سونے کے پیچھے گھومتے ہو، میں تو تیرے بیٹے کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے رکھوں گی ۔ اس وقت میری والدہ کی عمر تقریبا 90 سال کے لگ بھگ ہے اور معذور و کمزور حالت میں تھیں تو میری بیوی طاہرہ کی گالم گلوچ اور دھمکیوں کو میری والدہ محترمہ نہ برداشت کر سکی۔

ایک دم چکر آیا اور بے ہوش ہوگئی، ہمارے گھر میں میری بھتیجی کی شادی کی وجہ سے میرے تمام بہن بھائی اور بھابیاں موجود تھیں جو کہ اس پورے واقعہ گالم گلوچ اور دھمکیوں کی چشم دید گواه ہیں، ہم اپنی والدہ صاحبہ کو اسپتال لے کر گئے۔ ڈاکٹر نے ان کا فوری طور پر سٹی سکین کیا اور کہا کہ اسے دماغی اٹیک یعنی برین ہیمبرج ہو گیا ہے، میں والدہ کے ساتھ اسپتال میں موجود تھا کہ میرے گھر میں میری سالی دلشاد کی جوان بیٹی اور سالے لیاقت کی بیوی نسیم آئی اور میری بیوی طابره نے گھر سے اپنے اور میرے کپڑے و سامان اور میرے ضروری دستویزات لے کر ان عورتوں کے ساتھ اپنے والد کے گھر گاؤں ڈب بٹل چلی گئی، میری والدہ صاحبہ چھ روز ہسپتال میں زندگی اور موت کے کش مکش میں مبتلا تھی۔ 27 مئی عيد الاضحى كى صبح والده محترمہ اللہ جی کو پیاری ہوگی، یعنی ان کا انتقال ہو گیا، جناب ظلم کی انتہاء دیکھیں، اتنی بے رحمی دیکھیں کہ میرے سسرال اور بیوی طاہرہ جو کہ نہ ہی ہسپتال میں میری والدہ کی بیمار پرسی کے لیے گئے اور نہ ہی جنازے میں اور اس کے بعد تعزیت کے لیے کوئی بھی میرے گھر نہیں آیا، میں مجبور ہو کر اپنے مقامی تھانے گیا اور چوری شده سونا جو کہ میری بیوی کے پاس امانت تھا اس کی درخواست دائر کی، چونکہ اس وقت سونے کی قیمت تقریبا 23 لا کھ روپے کے لگ بھگ بنتی ہے، پھر تھانے کی ایماء پر ہمارے درمیان جرگہ ہوا ۔ جرگے والوں نے میری بیوی طاہرہ کو طلب کیا اور ہمیں آمنے سامنے بٹھایا اور اتنے عرصہ کے بعد میری بیوی نے میرے اوپر الزام لگایا کہ یہ بندہ میرے کام کا نہیں ہے، جناب مفتی صاحب میرا پانچ تولہ سونا جو چوری کر کے اپنے گھر لے گئی ہے، اس کو بھی یہ مجھے واپس دینے کو انکاری ہے، لہذا آپ سے گزارش ہے کہ ایسی عورت کے لیے شرعا حق مہر کی ادائیگی کا کیا حکم ہے؟ میرے نکاح نامے کی فوٹو کاپی آپ کے سامنے ہے،لہذا شق نمبر 13 چیک کر کے مجھے شرعی مہر کی رہنمائی فرمائیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورتِ مسئولہ میں اگر فریقین کے درمیان ازدواجی تعلقات قائم ہو چکے ہیں یا خلوتِ صحیحہ ( میاں بیوی کا کسی جگہ پر اس طرح اکٹھے ہونا کہ ازدواجی تعلقات سے کوئی مانع موجود نہ ہو) ہو چکی ہے تو اس صورت میں عورت مکمل حق مہر لینے کا شرعاً حق رکھتی ہے اور نکاح نامہ کی عبارت کے موافق تین لاکھ روپے بصورتِ طلائی زیور دینا آپ کے ذمہ لازم ہے اور یہ چونکہ مہرمعجل تھا اس لیے نکاح کے وقت تین لاکھ روپے کا جتنا سونا آتا تھا اتنا سونا عورت کو دیا جائے گا۔ البتہ جو اس کے پاس آپ کا پانچ تولہ سونا بطور امانت موجود ہے اس کی ادائیگی اس کے ذمہ شرعاً لازم ہے، جس کو نہ ادا کرنے سے وہ سخت گناہ گار ہو گی، نیز اگر آپ نے ابھی تک اس کا حق مہر ادا نہیں کیا تو وہ اس پانچ تولہ سونا میں سے اپنے حق مہر کی رقم کےبرابر سونا منہا کر کے بقیہ سونا آپ کے سپرد کردے تو یہ بھی جائز ہے۔  

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (3/ 114) الناشر: دار الفكر-بيروت:

(والخلوة) مبتدأ خبره قوله الآتي كالوطء (بلا مانع حسي) كمرض لأحدهما يمنع الوطء (وطبعي) كوجود ثالث عاقل ذكره ابن الكمال.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (3/ 118) الناشر: دار الفكر-بيروت:

قوله وفي تأكد المهر) أي في خلوة النكاح الصحيح، أما الفاسد فيجب فيه مهر المثل بالوطء لا بالخلوة كما سيذكره المصنف في هذا الباب لحرمة الوطء فيه، فكان كالخلوة بالحائض (قوله والعدة) وجوبها من أحكام الخلوة سواء كانت صحيحة أم لا ط: أي إذا كانت فيه نكاح صحيح.

مفتی محمد حسین خلیل خیل

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

6/صفرالخیر1448ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب