| 91437 | خرید و فروخت کے احکام | خرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل |
سوال
آج کل حکومت کی جانب سے گھر کی تعمیر کے لیے 5% مارک اپ پر بینک لون (ہاؤس فنانسنگ اسکیم) فراہم کی جا رہی ہے۔ کیا شریعتِ مطہرہ، قرآن و سنت کی تعلیمات کی روشنی میں اس اسکیم کے تحت قرض لینا جائز ہے یا نہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ یہ اسکیم اگر روایتی (سودی) بینک کے ذریعے قرض کی صورت میں ہے، جس میں اصل رقم پر متعین شرح کے مطابق مارک اپ (سود) وصول کیا جاتا ہے، تو یہ شرعاً ناجائز ہے،قرآنِ کریم اور احادیثِ مبارکہ کی رو سے سود لینا اور دینا دونوں حرام ہیں، اس لیے ایسی اسکیم سے قرض لینا بھی جائز نہیں۔
البتہ اگر یہ اسکیم کسی اسلامی بینک کے ذریعے شریعت کے مطابق، مثلاً مرابحہ، اجارہ، شرکت متناقصہ یا کسی دیگر شرعی طریقۂ تمویل کے تحت فراہم کی جا رہی ہو، اور اس کی تمام شرائط بھی شریعت کے مطابق ہوں،تو اس صورت میں اس سے استفادہ کرنا جائز ہے۔،بشرطیکہ اس کےمالی معاملات کی نگرانی مستند علماء کرام کر رہے ہوں اور وہ بینک کے مالی معاملات سے مطمئن ہوں ،اور آپ کو بھی ان علماء کے علم و تقوی پر اعتماد ہو،تو آپ اس غیر سودی بینک سے مذکورہ سہولت حاصل کر سکتے ہیں۔
حوالہ جات
قال اللہ تعالیٰ«يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ (278) فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَإِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُؤُسُ أَمْوالِكُمْ لا تَظْلِمُونَ وَلا تُظْلَمُونَ (279)»} البقرة {
الدر المختار: (5/ 166)
«وفي الأشباه كل قرض جر نفعا حرام فكره للمرتهن سكنى المرهونة بإذن الراهن».
درر الحكام في شرح مجلة الاحكام "
المادة (431) يسوغ للشريكين أن يؤجرا مالهما المشترك لآخر معااى يجوز للشريكين او الشركاء ان يؤجر وامالهم من اجنبى بعقد واحد، أو أن يؤجر أحد الشركاء حصته من شركائه الآخرين معا فقط
المعاییر الشرعیۃ(رقم12):
:1المشاركة المتناقصة عبارة عن شركة يتعهد فيها أحد الشركاء بشراء حصة الآخر تدریجیا إلى أن يتملك المشتري المشروع بكامله، ولا بد أن تكون الشركة غير مشترط فيها البيع والشراء، وإنما يتعهد الشريك بذلك بوعد منفصل عن الشركة،وكذلك يقع البيع والشراء بعقد منفصل عن الشركة، ولا يجوز أن يشترط أحدالعقدين في الآخر.
محمد عمران
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
07/صفر /8144ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد عمران بن عبد المطہر خان | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


