| 92184 | طلاق کے احکام | کسی کو طلاق واقع کرنے کا حق دینے کا بیان |
سوال
بیوی نے کابین نامہ کے حق کے تحت ایک طلاق لی تھی اور اسی رات شوہر نے اسے واپس لے لیا تھا۔ (قابلِ ذکر ہے: کابین نامہ میں طلاق کی کوئی تعداد لکھی ہوئی نہیں تھی، اور بائن بھی لکھا ہوا نہیں تھا)۔ کچھ دنوں بعد شوہر نے اپنی بیوی سے فون کال پر کہا کہ طلاق دو۔ پھر بیوی نے فون کال کاٹنے کے بعد وائس میسج میں کہا" میں کابین نامہ میں دیے گئے طلاقِ تفویض کے حق کے تحت اپنے نفس پر 1 طلاق 2 طلاق 3 طلاق لی" پھر دوبارہ بیوی نے اس وقت میسج میں شوہر کو لکھا" میں آپ کو 1 طلاق 2 طلاق 3 طلاق دی" شوہر نے تب جواب میں کہا ،شکریہ۔ تم اپنے گھر والوں شادی کی بات چیت کلوز (Close) کر دو، میں اپنے گھر والوں بھی شادی کی بات چیت کلوز کر دوں گا۔ (یعنی انہوں نے خفیہ طور پر گواہوں کے سامنے ولی کو بتائے بغیر شادی کی تھی، مستقبل میں ولی کو لے کر شادی کی بات چیت چل رہی تھی، اس بات کو چھوڑ دینے کے مقصد سے اس طرح کہا تھا)۔ کیا اس سے طلاق کی رضامندی سمجھی جائے گی اور طلاق ہو جائے گی؟ بیوی اب اس کے ساتھ گھر بسانا نہیں چاہتی۔
تنقیح : سائل کے بیان کردہ تفصیل کا خلاصہ :
(1) نکاح کے بعد دخول ہوچکا ہے۔
(2) لڑکا تمام امور میں لڑکی کے برابر ہے ،البتہ دین داری کے معاملے میں لڑکا فاسق ہونے کی وجہ سے لڑکی کا کفوء نہیں ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ کہ بیوی کو طلاق کا اختیاردینا شوہر کی مرضی پر موقوف ہے، شریعت کی طرف سے اختیار دینے کی نہ تو ترغیب ہے اور نہ ممانعت ہے،تاہم شریعت نے بہت ساری حکمتوں کی وجہ سے یہ اختیار مردکو دیاہے ،لہذااسے مردکے پاس ہی رکھنابہترہے،عورتوں کو یہ حق سپرد کرناان شرعی حکمتوں کے خلاف ہے،تاہم اگر شوہر کسی بھی وجہ سے طلاق کا اختیار بیوی کو دے دے تو شرعاً یہ تفویضِ طلاق کہلاتا ہے اور اس سے بیوی کو اپنے اوپر طلاق واقع کرنے کا اختیار مل جاتا ہے۔
لہذا صورت مسئولہ میں چونکہ نکاح نامہ میں طلاق کی نہ کوئی تعداد مذکور تھی اور نہ اس کی کوئی صفت ، مثلاً طلاق بائن ہونے کی صراحت موجود تھی، اس لیے بیوی کو صرف ایک طلاق رجعی واقع کرنے کا اختیار حاصل تھا۔ چنانچہ جب اس نے اس اختیار کو استعمال کرتے ہوئے اپنے اوپر ایک طلاق واقع کی تو ایک طلاق رجعی واقع ہوئی، اور چونکہ شوہر نے اسی رات رجوع کر لیا تھا، اس لیے نکاح بدستور برقرار رہا۔
بعد ازاں جب شوہر نے دوبارہ بیوی سے فون کال پر کہا کہ "طلاق دو"، تو یہ ایک نئی تفویضِ طلاق شمار ہوگی، جو اسی فون کال کی مجلس تک محدود ہوگی، اور اس مجلس میں ہی اس اختیار کو استعمال کرنا ضروری ہوگا۔ چنانچہ بیوی نے فون کال کی مجلس میں اس تفویضِ طلاق کو استعمال نہیں کیا، کیونکہ اس نے فون کال ختم کردی، جس سے مجلس بھی ختم ہوگئی۔ اس کے بعد وائس میسج کے ذریعے لی گئی طلاق کو اس نئی تفویض کے تحت قرار نہیں دیا جائے گا۔ سی طرح بیوی نے اس حالیہ تفویض کے جواب میں بھی کچھ نہیں کہا، بلکہ سابقہ کابین نامہ میں دی گئی تفویضِ طلاق کے حق کو استعمال کرتے ہوئے اپنے اوپر طلاق واقع کرنے کے الفاظ کہے، جو اس کے پیغام کے الفاظ سے واضح ہیں۔
چنانچہ بیوی کابین نامہ میں دیے گئے اختیار کو ایک بار استعمال کرچکی ہے۔ اب دوبارہ اس تفویض کو استعمال کرنے یا نہ کرنے کا دارومدار ان الفاظ پر ہے جن کے ذریعے یہ اختیار دیا گیا ہے۔ اگر اختیار ایسے الفاظ سے دیا گیا ہو جو دائمی طور پر اختیار دینے پر دلالت نہ کرتے ہوں یا مجلس تک محدود اختیار دینے پر دلالت کرتے ہوں، مثلاً یہ کہا ہو کہ "تمہیں اپنے آپ کو طلاق دینے کا اختیار ہے" یا "تم چاہو تو اپنے آپ کو طلاق دے سکتی ہو" وغیرہ، تو ایسی صورت میں بیوی صرف اسی مجلس میں اپنے آپ کو ایک طلاق دے سکتی ہے، اس کے بعد اسے اپنے آپ کو طلاق دینے کا اختیار نہیں رہے گا۔
اور اگر دائمی طور پر طلاق دینے کا اختیار دیا ہو، مثلاً یوں کہا ہو کہ "جب چاہو یا کسی بھی وقت تم اپنے آپ کو طلاق دے سکتی ہو" وغیرہ، تو ایسی صورت میں مجلس کے بعد بھی جب چاہے اپنے آپ کو طلاق دے سکتی ہے۔ البتہ ایسی صورت میں بھی بیوی کو صرف ایک مرتبہ ایک طلاق دینے کا اختیار ہوگا۔
البتہ اگر واضح طور پر کہا ہو کہ "تم جتنی بار چاہو" یا "جتنی طلاق چاہو" یا "جب جب چاہو اپنے آپ کو طلاق دے سکتی ہو"، تو ان تمام صورتوں میں وہ ایک سے زائد طلاق بھی دے سکتی ہے، خواہ ایک مجلس میں دے یا متعدد مجالس میں۔
لہٰذا اگر تفویض کے الفاظ میں طلاقِ مکرر کی گنجائش نہ ہو تو شوہر کے محض "شکریہ" کہنے سے طلاق کی اجازت نہیں سمجھی جائے گی۔
مذکورہ تفصیل اس صورت میں ہے کہ لڑکا دینداری وغیرہ میں لڑکی کا کفو ہو ۔
البتہ اگر لڑکی ولی کی رضامندی کے بغیر غیر کفو میں شادی کرلے تو نکاح راجح قول کے مطابق باطل اور کالعدم شمار ہوگا، یعنی مذکورہ تفویض طلاق والی تفصیل بھی کالعدم ہوگی ۔
چونکہ اس نکاح (ولی کی رضامندی کے بغیر غیر کفو میں نکاح )کے منعقد ہونے نہ ہونے میں اختلاف ہے،اس لئے عدت وغیرہ میں اس پر نکاح فاسد کے احکام جاری ہوں گے۔
لہذا اگر ازدواجی تعلق قائم نہ ہوا ہوتا تو عدت،مہر اور نکاح کو فسخ کرنا وغیرہ کوئی بھی چیزواجب نہیں ہوتی، جبکہ یہاں ازدواجی تعلق قائم ہو چکا ہے تو مزید درج ذیل احکام جاری ہوں گے:
۱۔دونوں کا آپس میں ازدواجی تعلق قائم کرنا اور بیوی کا شوہر کو اپنے اوپر قدرت دینا حرام تھا ، جس کی وجہ سے دونوں پر توبہ واستغفار لازم ہے۔
۲۔ لڑکے پر لازم ہے کہ وہ یہ تعلق ختم کرنے کےلئے زبان سے متارکت کے الفاظ ادا کرے ، یا نکاح فسخ کرنے کے الفاظ کہے۔ بلکہ یہاں نکاح میں فساد چونکہ ابتداء سے ہے، اس لئے لڑکی بھی متارکت (میں آپ کو چھوڑتی ہوں یا علیحدگی اختیار کرتی ہوں )کے الفاظ کہہ کر یہ تعلق ختم کرسکتی ہے۔
۳۔ ایسی صورت میں بیوی سے وطی کرنے کی وجہ سے مرد کے ذمہ عورت کو مہر دینا بھی لازم ہے ، چنانچہ اگر کوئی مہر مقرر ہو تو مہر مثل اور مقررہ مہر میں سے جو کم ہو وہ ادا کیا جائے گا،۔اگر مہر مقرر نہ کیا گیا ہو تو مہر مثل ہی دیا جائے گا، خواہ وہ کتنا ہی زیادہ ہو، "مہر مثل" اس مہر کو کہا جاتا ہے جو لڑکی کے باپ کے خاندان کی اس جیسی لڑکیوں کا مہر عموما مقرر کیا جاتا ہے۔
۴۔فسخ یا متارکت کے الفاظ کہنے کے وقت سے عورت پر پوری عدت گزارنا لازم ہوگا۔
۵۔ایسے نکاح میں کی گئی وطی سے اگر بچہ پیدا ہوجائے تو اس کا نسب لڑکے سے ثابت ہوگا۔
ان احکامات کی رعایت رکھتے ہوئے، متارکت کے بعد جب عورت کی عدت (تین حیض) گزر جائے تب ولی لڑکی کی رضامندی کے ساتھ اس کا نکاح کہیں اور کراسکیں گے ۔
متارکت کے الفاظ اور جملے جو فقہاءِ کرام نے بیان کیے ہیں وہ یہ ہیں"میں نے آپ کو چھوڑ دیا"، "میں نے آپ کا راستہ چھوڑ دیا"، "میں نے آپ کو طلاق دی" وغیرہ، لہٰذا نکاحِ فاسد کی صورت میں مذکورہ جملوں میں سے کوئی بھی جملہ کہنے سے دونوں کے درمیان متارکت ہوجائےگی۔
حوالہ جات
الفتاوى الهندية - (ج 9/ ص 58):
إذا قال لها : طلقي نفسك سواء قال لها : إن شئت أو لا فلها أن تطلق نفسها في ذلك المجلس خاصة
وليس له أن يعزلها . وإن قال لها : طلقي نفسك متى شئت فلها أن تطلق في المجلس وبعده، ولها المشيئة مرة واحدة وكذا قوله : متى ما شئت وإذا ما شئت ولو قال : كلما شئت كان ذلك لها أبدا حتى يقع ثلاثا كذا في السراج الوهاج.
الهداية في شرح بداية المبتدي (1/ 195)
الكفاءة في النكاح معتبرة " قال عليه الصلاة والسلام: " ألا لا يزوج النساء إلا الأولياء ولا يزوجن إلا من الأكفاء " ولأن انتظام المصالح بين المتكافئين عادة لأن الشريفة تأبى أن تكون مستفرشة للخسيس فلا بد من اعتبارها بخلاف جانبها لأن الزوج مستفرش فلا تغيظه دناءة الفراش " وإذا زوجت المرأة نفسها من غير كفء فللأولياء أن يفرقوا بينهما " دفعا لضرر العار عن أنفسهم " ثم الكفاءة تعتبر في النسب...."وتعتبر أيضا في الدين " أي الديانة.... " و تعتبر في المال وهو أن يكون مالكا للمهر والنفقة".." و تعتبر في الصنائع ".
حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (3/ 57):
(قوله بعدم جوازه أصلا) هذه رواية الحسن عن أبي حنيفة، وهذا إذا كان لها ولي لم يرض به قبل العقد، فلا يفيد الرضا بعده بحر.
حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (3/ 57):
(قوله وهو المختار للفتوى) وقال شمس الأئمة وهذا أقرب إلى الاحتياط كذا في تصحيح العلامة قاسم لأنه ليس كل ولي يحسن المرافعة والخصومة ولا كل قاض يعدل، ولو أحسن الولي وعدل القاضي فقد يترك أنفة للتردد على أبواب الحكام، واستثقالا لنفس الخصومات فيتقرر الضرر فكان منعه دفعا له.
المحيط البرهاني (1213):
إذا وقع النكاح فاسداً وفرق القاضي بين الزوج وبين المرأة فإن لم يكن دخل بها فلا مهر لها ولا عدة، وإن كان قد دخل بها فلها الأول (إن) لم يكن دخل مما سمى لها. ومن مهر المثل إن كان ثمة مسمى، وإن لم يكن ثمة مسمى فلها مهر المثل بالغاً ما بلغ وتجب العدة. ويعتبر الجماع في القبل حتى يصير مستوفياً المعقود عليه، وتعتبر العدة من حين يفرق بينهما عند علمائنا الثلاثة رحمهم الله، ولكل واحد من الزوجين فسخ هذا النكاح بغير محضر من صاحبه عند بعض المشايخ، وعند بعضهم إن لم يدخل بها فكذلك الجواب.
وإن دخل بها فليس لواحد منهما حق الفسخ إلا بمحضر من صاحبه، كما في البيع الفاسد لكل واحد من المتعاقدين حق الفسخ بغير محضر من صاحبه قبل القبض فليس له ذلك بعد القبض.
وإن فرق القاضي بين الزوج وامرأته بحكم فساد النكاح وكان ذلك بعد الدخول بها وجبت عليها العدة.
محمد عمران
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
08/صفر /8144ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد عمران بن عبد المطہر خان | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


