03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
شوہر کے حقوق ادا نہ کرنے کی صورت میں بیوی کے طلاق کے مطالبے کا حکم
91611طلاق کے احکامطلاق کے متفرق مسائل

سوال

میری اور میرے شوہر کی شادی کے آغاز سے ہی ازدواجی زندگی بہت نشیب و فراز کا شکار رہی ہے۔ شادی کے بعد میں اپنے شوہر کے ساتھ اپنے وطن سے کینیڈا منتقل ہوئی۔ شادی کے بعد مجھے معلوم ہوا کہ ان کا اپنے انتہائی غیر صحت مند اور مسائل سے بھرپور خاندان کے ساتھ تعلق ہمیشہ خراب رہا ہے۔ وہ اکثر چیختے، گالیاں دیتے تھے، اگرچہ ابتدا میں یہ رویہ میرے ساتھ نہیں تھا۔ بعد میں جب میں حاملہ ہوئی تو ان کا یہی رویہ میرے ساتھ بھی شروع ہوگیا۔ حمل کے دوران اور بچے کی پیدائش کے بعد مجھے شدید موڈ سوئنگز، جذباتی ٹوٹ پھوٹ اور خود کو نقصان پہنچانے جیسے خیالات آتے تھے۔ میرے شوہر نے میری اس کمزور ذہنی حالت کو میرے خلاف استعمال کیا۔ وہ ہماری لڑائیوں کی ریکارڈنگز بناتے تاکہ بعد میں انہیں میرے خلاف "ثبوت" کے طور پر استعمال کر سکیں۔ وہ باقاعدگی سے میرے والدین کو، جو میرے آبائی ملک میں رہتے ہیں، فون کر کے میری شکایتیں کرتے تھے۔ انہوں نے دو تين مرتبہ مجھ پر ہاتھ بھی اٹھایا۔ ایک موقع پر مجھے پولیس کو بلانا پڑا۔ بعد میں ہم میں صلح ہوگئی کیونکہ انہوں نے معافی مانگی اور مجھے یقین دلایا کہ اب ہم نئی زندگی شروع کریں گے، لیکن یہ وعدہ بمشکل ایک ماہ ہی چل سکا۔ گزشتہ تقریباً ایک سال سے وہ اپنی بسترِ علالت پر موجود والدہ کے ساتھ سوتے ہیں۔ ہمارا ایک چھوٹا بچہ بھی ہے، لیکن وہ بچے کی دیکھ بھال میں نہ ہونے کے برابر مدد کرتے ہیں۔ اس کے باوجود وہ مسلسل مجھے یہ کہہ کر نیچا دکھاتے ہیں کہ میں گھر میں کچھ نہیں کرتی۔ وہ جیسے ہی گھر آتے ہیں، ان کا موڈ خراب ہوجاتا ہے۔ وہ مسلسل تنقید کرتے ہیں اور معمولی باتوں پر کئی کئی دن بلکہ ہفتوں تک مجھ سے بات نہیں کرتے۔ ہماری ازدواجی تعلقات بھی تقریباً ختم ہو چکے ہیں۔ انہوں نے اپنی تمام ذاتی چیزیں اپنی والدہ کے گھر منتقل کر دی ہیں، یہ کہہ کر کہ میں اپنا کمرہ صاف نہیں رکھتی۔ اب میں سارا دن ان کی والدہ اور اپنے بچے کی دیکھ بھال کرتی ہوں۔ ایک معمولی جھگڑے پر انہوں نے مجھے یک طرفہ ٹکٹ دے کر میرے آبائی ملک بھیج دیا۔ مجھے یہاں آئے تقریباً چار ماہ ہو چکے ہیں۔ ابتدا میں انہوں نے دھمکی دی کہ جب تک میں کچھ "دستاویزات" پر دستخط نہیں کروں گی، وہ مجھے واپس نہیں بلائیں گے۔ انہوں نے میرے والدین کو فون کر کے کہا کہ مجھے ذہنی علاج کی ضرورت ہے، اسی لیے انہوں نے مجھے واپس بھیجا ہے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ان کے پاس میرے میڈیکل ریکارڈ موجود ہیں جو یہ ثابت کرتے ہیں، لیکن بعد میں یہ تمام دعوے جھوٹے ثابت ہوئے۔ بعد میں خاندان کے دباؤ پر انہوں نے یہ بات واپس لے لی۔ انہوں نے میرے بزرگ والد کے ساتھ بھی فون پر بدتمیزی کی۔ اس کے علاوہ انہوں نے میرے دوسرے رشتہ داروں کو بھی فون کیے اور میری بدنامی کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے آج تک اپنے کسی بھی رویے پر نہ معافی مانگی ہے اور نہ ہی اپنی غلطیوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ اب وہ صرف یہ کہتے ہیں کہ اگر میں "نئی شروعات" کے لیے تیار ہوں تو وہ مجھے واپس بلانے کو تیار ہیں۔ میں سمجھ نہیں پا رہی کہ میں ایسے شخص کے ساتھ دوبارہ کیسے رہ سکتی ہوں جو اپنی کسی غلطی کا اعتراف تک نہیں کرتا۔ مزید یہ کہ انہوں نے ابھی تک میری واپسی کا ٹکٹ بھی نہیں بھیجا اور مسلسل تاخیر کر رہے ہیں۔ وہ میرے اور بچے کے اخراجات کے لیے بھی مناسب رقم نہیں بھیجتے، جس کی وجہ سے میرے والدین ہماری زیادہ تر ضروریات پوری کر رہے ہیں۔ میں خود کو شدید دھوکہ کھایا ہوا محسوس کرتی ہوں اور اب یہ شادی جاری رکھنے کی خواہش نہیں رکھتی۔ اس وقت ہماری ازدواجی تعلقات کو بھی تقریباً چار سے پانچ ماہ گزر چکے ہیں۔ مجھے چند ماہ پہلے یہ بھی معلوم ہوا کہ وہ ایک ڈیٹنگ ایپ استعمال کر رہے تھے۔ وہ غیر محرم خواتین کی طرف نگاہیں نیچی رکھنے کا بھی اہتمام نہیں کرتے اور ان کے جسموں پر تبصرے کرنا ان کے لیے معمول کی بات ہے۔ اسلام کی تعلیمات کی روشنی میں میری رہنمائی فرمائیں۔

  1. کیا اسلام میں یہ جائز ہے کہ شوہر اپنی بیوی کو اس غیر یقینی کیفیت میں رکھے کہ وہ اسے واپس بلائے گا یا نہیں؟
  2. کیا میرے حالات اس بات کے لیے کافی ہیں کہ میں علیحدگی یا طلاق کا مطالبہ کروں؟
  3. اگر میں واپس جاؤں تو کیا مجھے اپنی حفاظت، عزت اور حقوق کے لیے کچھ شرائط رکھنے کا حق حاصل ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

آپ دونوں کو چاہیے کہ اپنی اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔ آپ کے شوہر کو چاہیے کہ وہ آپ کو اپنے پاس رکھیں اور آپ کے شرعی حقوق ادا کریں، جبکہ آپ کو بھی چاہیے کہ اپنے شوہر کے ساتھ اچھا برتاؤ کریں۔ چھوٹی چھوٹی باتوں کی وجہ سے شوہر کے ساتھ لڑائیاں نہ کریں، بلکہ عورت پر شوہر کا احترام لازم ہے کیونکہ شریعتِ مطہرہ میں شوہر کا بہت بڑا مقام ہے۔ احادیثِ مبارکہ میں شوہر کی فرمانبرداری پر بہت زور دیا گیا ہے؛ چنانچہ رسول اللہ ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے: 'اگر میں کسی کو کسی کے لیے سجدہ کرنے کا حکم دیتا، تو عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے۔

-2اگر آپ  کے شوہر آپ کے حقوق ادا کرنے کے لیے تیار ہوں تو آپ کے لیے بلاوجہ طلاق یا خلع کا مطالبہ کرنا درست نہیں۔ چنانچہ حدیث میں بغیر کسی شرعی وجہ کے خاوند سے طلاق یا خلع کا مطالبہ کرنے والی عورت پر وعید آئی ہے۔

تاہم  فی الحال آپ دونوں کے حالات ایسے نہیں ہیں جن کی وجہ سے آپ ان سے طلاق کا مطالبہ کریں۔ آپ ان کے ساتھ تعاون کریں اور دونوں طرف سے سنجیدہ لوگوں کو درمیان میں ڈال کر معاملہ حل کریں۔ چھوٹی چھوٹی باتوں کی وجہ سے اپنا گھر نہ اجاڑیں۔ہمارے معاشرے میں ایک طلاق یافتہ اور بچے کی ماں  عورت کی کوئی قدر نہیں کرتا،اس کے لیے زندگی گزارنا بہت مشکل ہوتا ہے ۔والدین نے ہمیشہ نہیں رہنا ان  کےبعد زندگی اجیرن ہوجائے گی ۔اس لیے تھوڑی بہت تکلیف ہے  بھی تو اسے برداشت کریں اور اپنے شوہر کے ساتھ زندگی گزارنے کی کوشش کریں۔

  -3  شوہر کے پاس واپس جاتے ہوئے آپ کو اپنی حفاظت، عزت اور حقوق کے تحفظ کے لیے ان کے سامنے جائز شرائط رکھنے کا حق حاصل ہے۔ تاہم ایسی شرائط نہ رکھی جائیں جو شریعت کے خلاف ہوں یا جن کی وجہ سے میاں بیوی کے تعلقات خراب ہونے کا اندیشہ ہو۔

حوالہ جات

سنن الترمذي (3/ 19):

عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: "لو كنت آمرا أحدا أن يسجد لأحد، لأمرت المرأة أن تسجد لزوجها.

حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (228/3):

وأما الطلاق فإن الأصل فيه الحظر، بمعنى أنه محظور إلا لعارض يبيحه، وهو معنى قولهم الأصل فيه الحظر والإباحة للحاجة إلى الخلاص، فإذا كان بلا سبب أصلا لم يكن فيه حاجة إلى الخلاص بل يكون حمقا وسفاهة رأي ومجرد كفران النعمة وإخلاص الإيذاء بها وبأهلها وأولادها، ولهذا قالوا: إن سببه الحاجة إلى الخلاص عند تباين الأخلاق وعروض البغضاء الموجبة عدم إقامة حدود الله تعالى، فليست الحاجة مختصة بالكبر والريبة كما قيل، بل هي أعم كما اختاره في الفتح، فحيث تجرد عن الحاجة المبيحة له شرعا يبقى على أصله من الحظر، ولهذا قال تعالى {فإن أطعنكم فلا تبغوا عليهن سبيلا} [النساء: 34] أيلا تطلبوا الفراق، وعليه حديث «أبغض الحلال إلى الله الطلاق» قال في الفتح: ‌ويحمل ‌لفظ ‌المباح على ما أبيح في بعض الأوقات أعني أوقات تحقق الحاجة المبيحة اهـ.

الهداية في شرح بداية المبتدي (2/ 288) :

" وعلى الزوج أن يسكنها في دار مفردة ليس فيها أحد من أهله إلا أن تختار ذلك " لأن السكنى من كفايتها فتجب لها كالنفقة وقد أوجبه الله تعالى مقرونا بالنفقة وإذا أوجب حقا لها ليس له أن يشرك غيرها فيه؛ لأنها تتضرر به فإنها لا تأمن على متاعها ويمنعها ذلك عن المعاشرة مع زوجها ومن الاستمتاع إلا أن تختار لأنها رضيت بانتقاص حقها " وإن كان له ولد من غيرها فليس له أن يسكنه معها " لما بينا ولو أسكنها في بيت من الدار مفرد وله غلق كفاها لأن المقصود قد حصل " وله أن يمنع والديها وولدها من غيره وأهلها من الدخول عليها " لأن المنزل ملكه فله حق المنع من دخول ملكه " ولا يمنعهم من النظر إليها وكلامها في أي وقت اختاروا " لما فيه من قطيعة الرحم وليس له في ذلك ضرر وقيل لا يمنعهم من الدخول والكلام وإنما يمنعهم من القرار والدوام إن الفتنة في اللباث وتطويل الكلام وقيل لا يمنعها من الخروج إلى الوالدين ولا يمنعهما من الدخول عليها في كل جمعة وفي غيرهما من المحارم التقدير بسنة وهو الصحيح.

البناية شرح الهداية (5/ 165) 

م: (وإذا تزوجها على ألف) ش: أي إذا تزوج رجل امرأة على ألف درهم م: (على أن لا يخرجها من البلدة، أو على أن لا يتزوج عليها أخرى) ش: أي أو يتزوج بشرط أن لا يتزوج عليها امرأة أخرى، فالنكاح صحيح، وإن كان شرط عدم المسافرة، أو عدم التزويج فهو فاسد؛ لأن فيه المنع عن الأمر المشروع.

ابن امین صاحب دین

دارالافتاءجامعۃالرشیدکراچی

08/صفر /1448ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

ابن امین بن صاحب دین

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب