03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کالے جادوسے کالے جادو کے توڑ کا حکم
91627جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

میرا  ایک دوست ہے، اس کے اوپر کسی نے کالا جادو کروایا ہے۔ دوست نے روحانی طریقے سے اس کے علاج کی بہت کوششیں کی ہیں ، لیکن اس کا توڑ نہیں ہو رہا۔ لہٰذا عاملین نے کہا ہے کہ اس کا توڑ کالے جادو کے ذریعے ہی ہوگا۔ تو مفتیانِ کرام اس بارے میں کیا کہتے ہیں؟ کیونکہ وہ جادو کا توڑ چاہتے ہیں اور عاملین کا کہنا یہ ہے کہ اس جادو کا توڑ کالے جادو کے ذریعے ہی ہوگا، روحانی ذریعے سے ممکن نہیں ہے۔ کیا اس صورت میں کالے جادو سے توڑ کروانا جائز ہے یا نہیں؟"

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

              پہلے تو کالا جادو ہونا ایک دعویٰ ہے جس کی کوئی دلیل نہیں ہے ، عامل ایسی باتیں ہر آنے جانے والے سے کہہ  دیتے ہیں، دوسرا یہ کہ اس کا توڑ فقط کالا  جادو  ہی ہے یہ بھی غلط بات ہے اور عاملوں کی جہالت پر مبنی ہے ، لہٰذا اگر بالفرض کالا جادو ہوا بھی ہے تو اس کا توڑ کالے جادو  سے کرنا شرعاً جائز نہیں ہے۔ اس کیلئے جائز  رقیہ یا پھر دیگر جائز طریقے بروئے کار لاکر علاج کرنا چاہئے ۔

                   لیکن اگر اس کا توڑ سوائے کالے جادو کے  اور کسی صورت بھی نہ ہو تو   پھر جادو کا توڑ جادو  سے اس صورت میں کیا جاسکتا ہے، جب جادو توڑ کلمات میں کوئی کلمہ و جملہ شرکیہ نہ ہو اور اسی طرح اس عمل کے دوران کسی حرام و ناجائز چیز کا کھانا ، پینا ، باندھنا ، پڑھنا وغیرہ لازم  نہ آئے ، ورنہ نا جائز ہے ۔

 

حوالہ جات

«حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي» (6/ 429):

وذكر ابن وهبان في توجيهه: أنه ضرب من السحر والسحر حرام اهـ ط ومقتضاة أنه ليس مجرد كتابة آيات، بل فيه شيء زائد قال الزيلعي: وعن ابن مسعود - رضي الله تعالى عنه - أنه قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «إن الرقى والتمائم والتولة شرك۔

«تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي» (6/ 33):

وعن أبي الدرداء أنه عليه الصلاة والسلام قال «إن الله أنزل الداء والدواء وجعل لكل داء دواء فتداووا، ولا تداووا بحرام» رواه أبو داود، ويجوز التداوي بالعظام كلها سواء كانت من الذكية أو من الميتة غير أنه إذا كانت من الميتة لا يجوز إلا إذا كانت يابسة ليس فيها دسومة، ومن الذكية يجوز كيفما كان إلا عظم الخنزير والآدمي الخنزير لنجاسته والآدمي لكرامته إذ لا يجوز الانتفاع بأجزائه، ولا بأس بالرقى؛ لأنه عليه الصلاة والسلام كان يفعل ذلك، وما جاء فيه من النهي عنه عليه الصلاة والسلام محمول على رقى الجاهلية إذ كانوا يرقون بكلمات كفر ألا ترى إلى ما يروى عن «عروة بن مالك أنه قال كنا في الجاهلية نرقي فقلنا يا رسول الله كيف ترى في ذلك فقال اعرضوا على رقاكم لا بأس بالرقى ما لم يكن فيه شرك» رواه مسلم، وأبو داود۔

«البناية شرح الهداية» (12/ 270):

الخامس: أبو الدرداء، أخرج حديثه أبو داود رحمه الله في " سننه " عن إسماعيل بن عياش عن ثعلبة بن مسلم، عن ابن عمر، عن الأنصاري عن أم الدرداء، عن أبي الدرداء قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إن الله أنزل الداء والدواء وجعل لكل داء دواء فتداووا ولا تتداووا بالحرام» .

(آپ کے مسائل اور ان کا حل2/501)

جادو کو جادو کے ذریعہ زائل کرنا

​سوال: ...کسی پر جادو کا اثر ہو گیا اور اس کے توڑ کا علاج جادو سے ہو، تو کیا کوئی شخص اپنی جان بچانے کے لئے جادو سے بچنے کے لئے ”کالے علم“ کے تعویذات استعمال کر سکتا ہے؟ کیا یہ جائز ہے یا ناجائز؟

​جواب: ...جادو کو جادو کے ذریعہ صرف اس صورت میں زائل کیا جا سکتا ہے کہ جب جادو توڑ کلمات میں کوئی کلمہ و جملہ شرکیہ نہ ہو، ورنہ ناجائز ہے، دُوسرے ادعیہ اور تعویذات سے زائل کیا جا سکتا ہے۔ (۲)

(فتاوی محمودیہ، ٢٠/٥٣،٥٤)

دفع سحر کے لئے سحر کرنا

سوال [۹۵۹۳]: ہمارے علاقہ گجرات میں آج کل سحر کا بڑا زور ہے، ذرا سا اختلاف یا دشمنی ہوئی کہ فریق مخالف نے جان لینے یا پریشان کرنے کے لئے غیر مسلم ساحروں سے سحر کروایا جاتا ہے، اس کے دفعیہ کے لئے تعویذات و عملیات سب کچھ کیا گیا، مگر فائدہ نہیں ہوا، البتہ تخفیف ہو جاتی ہے۔ عاملوں کا کہنا ہے کہ چونکہ یہ سفلی اور ناپاک علم ہوتا ہے، اس لئے اس کا مکمل دفعیہ بھی اسی طرح سفلی اور ناپاک عملوں سے ہی ہوسکتا ہے۔ چند مشرک عالم بھی تعلق کی وجہ سے عمل کرنے کے لئے تیار ہیں، مگر شریعت کا احترام اور گناہ کے ڈر کی وجہ سے نہ تو آج تک خود کیا اور نہ کسی کو اجازت دی۔ اب تک بہت سے لوگ پریشان ہو چکے ہیں اور متعدد اموات بھی ہو چکی ہیں۔

تو کیا ایسی صورتِ حال میں غیر مسلموں سے مشرکوں سے سحر ٹوٹکا وغیرہ تمام پلید چیزوں کے رد کے لئے کروانا جائز ہے یا نہیں؟ اس میں ہمیں کچھ کھانا پینا، باندھنا، پڑھنا ہوتا ہے۔ وہ اپنے عمل کے ذریعے خود دفع کرتا ہو، یا ان میں سے کوئی بات کرنی ہوتی ہو تو کیا ان میں کوئی فرق ہوگا، یا دونوں صورتیں مساوی ہوں گی؟

مولانا ابراہیم صاحب، مدرسہ اسلامیہ ڈابھیل، سورت، گجرات۔

جواب: الجواب حامداً ومصلياً:

اس ضرورت کی حالت میں اس سے علاج کرنا درست ہے (1)، مگر اس طرح کہ جو کچھ کرنا ہو وہ خودکرے، کھانا، پینا، باندھنا، پڑھنا کوئی کام مسحور کو نہ کرنا پڑے۔ فقط واللہ تعالیٰ اعلم۔

​حررہ العبد محمود غفرلہ، دارالعلوم دیوبند، ۹۲/۶/۳ھ۔

الجواب صحیح: بندہ نظام الدین عفی عنہ، دارالعلوم دیوبند، ۹۲/۶/۳ھ۔

عبدالغفاربن غلام اکبر 

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

١٠ /صفرالمظفر/١٤٤٨

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبدالغفار بن غلام اکبر

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب