| 91620 | زکوة کابیان | عشر اور خراج کے احکام |
سوال
سوال:
1. عشری اور خراجی زمین کی وضاحت کریں۔
2. عشری زمین کی فصل میں کتنی فیصد زکاۃ (عشر یا نصفِ عشر) واجب ہوتی ہے اور خراجی زمین کی فصل میں کتنا خراج واجب ہے ؟
3. سبزی کی فصل پر زکاۃ (عشر) ہے یا نہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
:عشری زمین سے مراد درج ذیل پانچ قسمیں ہیں:
پہلی قسم: وہ زمین جس کے باشندے بغیر جنگ و قتال اپنی خوشی سے اسلام قبول کر لیں۔ ایسی زمین عشری شمار ہوتی ہے۔
دوسری قسم: وہ زمین جسے مسلمان حاکم طاقت سےفتح کرے، پھر اس زمین کا خمس (پانچواں حصہ) الگ کرکے باقی چار حصے مسلمان ا فواج میں تقسیم کر دے۔ یہ زمین بھی عشری ہے۔
تیسری قسم: وہ زمین جسے مسلم حاکم طاقت سےفتح کرے، پھر اس کے باشندوں کے اسلام قبول کرنے کے بعد زمین انہیں واپس کر دے۔ ایسی صورت میں بھی اس پر عشر ہی ہوگا، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے اہلِ مکہ کے ساتھ معاملہ فرمایا۔
چوتھی قسم: وہ افتادہ زمین جسے کوئی مسلمان عشری پانی سے آباد کرے، بشرطیکہ وہ کسی قوم کی آبادی سے متصل نہ ہو، نہ ان کی مشترکہ ضروریات کی جگہ ہو، ، اور نہ ہی کسی مسلمان کی ملکیت ہو۔ تو اس زمین کی پیداوار پر عشر واجب ہوگا۔
پانچویں قسم: اہلِ عرب کی زمینیں۔
خراجی زمین سے مراد درج ذیل چار قسمیں ہیں:
پہلی قسم: وہ زمین جسے مسلم حاکم طاقت سے فتح کرے ، پھر اس کے اصل مالکان پر احسان کرتے ہوئے ان کی زمینیں انہی کے حوالے کر دے، البتہ ان زمینوں پر خراج مقرر کر دے ۔ اس صورت میں انہیں اسی زمین پر برقرار رکھا جائے گا اور زمین افواج میں تقسیم نہیں کی جائے گی، جیسا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عراق کی آباداراضی کے بارے میں کیا تھا۔ ایسی زمین پر خراج لازم رہے گا، اور اگر بعد میں اس کے باشندے اسلام قبول کر لیں تو ان کی ذات سے جزیہ ساقط ہو جائے گا، لیکن زمین سے خراج ساقط نہیں ہوگا۔
دوسری قسم: وہ زمین جسے مسلم حاکم طاقت سے فتح کرکے اصل مالکان کو وہاں سے ہٹا دے، پھر اسے اہلِ ذمہ کے دوسرے افراد کے حوالے کر دے اور ان پر محصول مقرر کر دے۔ اس زمین کا حکم بھی پہلی قسم ہی کی طرح ہے۔
تیسری قسم: وہ افتادہ زمین جسے کوئی شخص آباد کرے اور اسے خراجی پانی سے سیراب کرے۔
چوتھی قسم: وہ عشری زمین جسے کوئی مسلمان کسی ذمی کے ہاتھ فروخت کر دے۔ امام ابو حنیفہؒ اور امام ابو عبداللہؒ کے نزدیک وہ زمین ہمیشہ کے لیے خراجی بن جائے گی۔ بعد میں اگر اس کا مالک اسلام بھی قبول کر لے تو وہ دوبارہ عشری نہیں بنے گی؛ کیونکہ عشری زمین خراجی تو بن سکتی ہے، لیکن خراجی زمین دوبارہ عشری نہیں بنتی، اس لیے کہ عشر اہلِ ایمان کے لیے ایک اعزاز اور خصوصی رعایت ہے۔
2:عشری زمین میں عشر کی مقدار:
ہر وہ زمین جسے ایسے پانی سے سیراب کیا جائے جس میں خرچہ آتا ہو، اس میں نصفِ عشر، یعنی کل پیداوار کا بیسواں حصہ (پانچ فی صد)، واجب ہے، اور اگر خرچہ نہ آتا ہو تو اس میں عشر، یعنی کل پیداوار کا دسواں حصہ (دس فی صد)، واجب ہے۔ لہٰذا بارانی زمین اور وہ زمین جسے نہروں کے ذریعے سیراب کیا جائے، ان میں عشر ہے، اور جن زمینوں کو کنویں یا ایسے تالاب وغیرہ کے ذریعے سیراب کیا جائے جن میں مؤنت (خرچہ) ہو، ان میں نصفِ عشر ہے۔ اگر آب پاشی دونوں طریقوں سے ہو تو غالب طریقے کا اعتبار ہوگا، اور اگر پانی خرید کر زمین کو سیراب کیا جائے تو اس میں بھی نصفِ عشر واجب ہوگا۔
خراجی زمینوں میں خراج کی مقدار:
احناف کے نزدیک عشر اور خراج دونوں جمع نہیں ہوسکتے،اس لیے خراجی زمین سے حاصل ہونے والی پیداوار میں احناف کے نزدیک عشر نہیں ہے ۔
خراجی زمینوں پر خراج کی دو قسمیں ہیں:
(الف) خراجِ مقاسمہ: یعنی اسلامی حکومت کی طرف سے مذکورہ زمینوں سے نکلنے والی پیداوار کا کوئی حصہ، مثلاً آدھا، تہائی یا چوتھائی، مقرر کر دیا جائے، جیسا کہ حضورِ اکرم ﷺ نے خیبر میں رہنے والے یہودیوں کی زمینوں پر مقرر فرمایا تھا۔
(ب) خراجِ موظف: یعنی اسلامی حکومت کی طرف سے ایک معین مقدار لازم کر دی جائے، خواہ روپے کی صورت میں ہی کیوں نہ ہو، مثلاً سالانہ دو روپے۔ جیسا کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے زمانے میں درج ذیل خراج عائد تھا:
پہلی قسم: افتادہ زمین جو زراعت کے لیے موزوں ہو۔ اس کی ہر جریب زمین پر ایک درہم اور ایک قفیز گندم بطورِ خراج مقرر تھا۔
دوسری قسم: وہ زمین جس میں انگور کی بیلیں اور گھنے درخت ہوں۔ ایسی زمین کی ہر جریب پر دس درہم خراج مقرر تھا۔
تیسری قسم: وہ زمین جس میں سبزیاں ہوں۔ اس کی ہر جریب پر پانچ درہم خراج مقررتھا ، اور ہر کھجور کے درخت پر ایک درہم لیا جاتا تھا ۔
3:کھیت میں اُگائی گئی سبزیاں، خواہ تھوڑی ہوں یا زیادہ، تجارت کے مقصد کے لیے ہوں یا گھر کے استعمال کے لیے، بہر صورت ان میں عشر یا نصفِ عشر واجب ہے۔ البتہ گھر میں موجود کیاری میں لگی سبزیوں پر عشر واجب نہیں۔
حوالہ جات
«النتف في الفتاوى للسغدي» (1/ 183):
«الارض العشرية
فأما الارض العشرية فعلى أربعة أوجه
احدها ما اسلم عليها أهلها طوعا بلا قتال ولا دعوة الى الاسلام
والثاني أرض افتتحها الامام عنوة فله فيها أربعة أحكام
ان شاء من عليهم وردها اليهم ويأخذ خراجها منهم
وان شاء نفاهم ونزلها قوما آخرين ويضع عليهم الخراج اذا كانوا من أهل الكفر وان شاء يخمسها ويدفع أربعة اخماسها الى العسكر ويضع عليها العشر وان شاء ردها الى أربابها بعد ما اسلموا فيكون ايضا عليها العشر كما فعل رسول الله صلى الله عليه وسلم بأهل مكة وهي الثالثة والرابع أرض موات يحييها رجل بماء عشرى فمن احياها من المسلمين فعليه فيها العشر اذا لم تكن الارض فناء لقوم ولا متطبا ولا مرعى لقوم ولم يكن لها مالك من المسلمين
ثم لا يحييها الا بأذن الامام في قول ابي حنيفة ويحييها بغير اذنه في قول ابي يوسف ومحمد وابي عبد الله لقوله عليه الصلاة والسلام من احيي أرضا ميتة فهي له فان سقاها السماء واسقى سيحا ففيها العشر وان كان منبع الماء الذي يسقيها منه في أرض الخراج فهو كذلك في قول ابي يوسف وفي قول محمد عليها الخراج وان سقى بالسواني والدلاء فعليها نصف العشر ثم ما اخرجت هذه الارض ففيه العشر أو نصف العشر قل ذلك أو كثر الا في ثلاثة اشياء الحطب والكلأ والقصب في قول ابي حنيفة وزفر واحتجا بقوله تعالى {ومما أخرجنا لكم من الأرض} وبقول أبي عباس في عشر باقات من البقل باقة واحدة»»
«النتف في الفتاوى للسغدي» (1/ 185):
«الارض الخراجية
وأما الارض الخراجية فهي علي أربعة أوجه
احدها أرض اخذها الامام عنوة ثم من بها على ملاكها بالعتق ورد اليهم أراضيهم بما ضرب عليها من الخراج ويضع الجزية ايضا علي رقابهم فيقرهم ولا يقسمها بين المقاتلة كما فعل عمر بالسواد فان على هذه الارض الخراج فاذا اسلموا سقط الخراج عن رقابهم ولا يسقط عن أراضيهم۔
والثانية ان يخرج أربابها ويدفعها الى قوم آخرين من أهل العهد بما حمل عليها من الخراج فحكم هذه الارض حكم الاولى
والثالثة أرض موات يحييها أحد ويسقيها من الماء الخراجي فان على هذه الارض العشر
والرابعة أرض يبيعها مسلم من ذمي من أرض العشر فأن تلك الارض تصير خراجية ابدا في قول ابي حنيفة وابي عبد الله فان اسلم صاحبها فلا تصير عشرية لان العشرية تصير خراجية والخراجية لا تصير عشرية لان العشر كرامة للمؤمنين وفي قول محمد تكون عشرية علي حالها ابدا
وفي قول ابي حنيفة يضاعف عليها العشر كأرض التغلبي»
«حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي» (2/ 326):
«قوله: بلا شرط نصاب) وبقاء فيجب فيما دون النصاب بشرط أن يبلغ صاعا وقيل نصفه وفي الخضراوات التي لا تبقى وهذا قول الإمام وهو الصحيح كما في التحفة وقالا: لا يجب إلا فيما له ثمرة باقية حولا بشرط أن يبلغ خمسة أوسق إن كان مما يوسق، والوسق ستون صاعا كل صاع أربعة أمناء وإلا فحتى يبلغ قيمة نصاب من أدنى الموسوق عند الثاني واعتبر الثالث خمسة أمثال مما يقدر به نوعه ففي القطن خمسة أحمال وفي العسل أفراق وفي السكر أمناء وتمامه في النهر»
«تحفة الفقهاء» (1/ 322):
«وأما بيان المحل الذي يجب فيه العشر وما يجب فيه نصف العشر فنقول ما سقي بماء السماء والأنهار والعيون العشرية يجب فيه العشر وما سقي بغرب أو دالية أو سانية يجب فيه نصف العشر لما روينا من
اسداللہ بن قوت خ
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
10/صفر /8144 ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | اسداللہ بن قوت خان | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


