03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
طلاق کو کسی شرط پر معلق کرنے کا شرعی حکم
91622طلاق کے احکامطلاق کو کسی شرط پر معلق کرنے کا بیان

سوال

میں نے کچھ عرصہ پہلے طلاقِ معلق کی تین قسمیں، ایک ایک ہفتے کے وقفے سے، کھائی تھیں، مگر کل مجھ سے ان کی خلاف ورزی ہوگئی۔ اب دریافت یہ کرنا ہے کہ مجھ پر دو طلاقیں واقع ہوئی ہیں یا تین؟

میری قسمیں درج ذیل ہیں:

  1. اگر میں نے حرام طریقے سے خواہش پوری کی تو میری بیوی کو ایک طلاق۔
  2. اگر میں نے فحش فلم دیکھ کر خواہش پوری کی تو میری بیوی کو ایک طلاق۔
  3. اگر میں نے اپنے موبائل پر کسی لڑکی کو شہوت کی نظر سے دیکھا تو میری بیوی کو ایک طلاق۔

اب ان تینوں قسموں کے بعد کل مجھ سے یہ ہوا کہ پہلے میں نے ہاتھ کے استعمال سے خواہش پوری کرلی، پھر دو تین منٹ کے وقفے کے بعد اپنے موبائل پر فحش فلم دیکھ کر بھی خواہش پوری کرلی۔ اس کے بعد میں نے اپنے موبائل پر کسی لڑکی کو شہوت کی نظر سے نہیں دیکھا۔

براہِ کرم رہنمائی فرمائیں کہ اس صورت میں دو طلاقیں واقع ہوئی ہیں یا تین؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورتِ مسئولہ میں سائل کی جانب سے بیان کردہ تفصیل کے مطابق پہلی معلق طلاق کی شرط ہاتھ کے ذریعے حرام طریقے سے خواہش پوری کرنے سے پائی گئی، لہٰذا ایک طلاق واقع ہوگئی۔

اس کے بعد موبائل پر فحش فلم دیکھ کر خواہش پوری کرنے سے دوسری معلق طلاق کی شرط بھی متحقق ہوگئی۔ نیز فحش فلم دیکھنے کے دوران اسکرین پر موجود عورت کو شہوت کی نظر سے دیکھنا بھی تیسری شرط کے تحقق کے لیے کافی ہے، اس لیے تیسری معلق طلاق بھی واقع ہوگئی۔  

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں سائل کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوچکی ہیں، جس کے نتیجے میں نکاح ختم ہو کر حرمت مغلظہ ثابت ہو گئی ہے۔اب رجوع نہیں ہوسکتا اور بحالت موجودہ دوبارہ نکاح بھی نہیں ہوسکتا۔

حوالہ جات

«البناية شرح الهداية» (5/ 413):

«وإذا أضافه إلى شرط وقع عقيب الشرط، مثل أن يقول لامرأته إن دخلت الدار فأنت طالق، وهذا بالاتفاق؛»

«الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية» (1/ 428):

«ولو قال لها: إن كلمت فلانا فأنت طالق وقال لها أيضا: إن كلمت إنسانا فأنت طالق فكلم فلانا طلقت تطليقتين»

«البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري» (3/ 330):

«(قوله: والصريح يلحق الصريح، والبائن)

أطلقه فشمل المنجز، والمعلق إذا وجد شرط فكما يقع في العدة منجزا يقع إذا وجد شرط فيها.»

عزیر احمد

دار الافتاء  جامعہ الرشید کراچی

10/صفر/1448ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عزیر احمد بن رضام اکبر

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب