03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
غیر وارث کا حق وراثت میں مطالبے کا حق
91447میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

4۔ کیا میرے والد کی موجودگی میں میری والدہ ان کے وراثتی حصے کا مطالبہ کر سکتی ہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

شرعی اعتبار سے وراثت کا مطالبہ کرنے کا اصل حق صرف "وارث" (یعنی آپ کے والد) کا ہے۔ آپ کی والدہ  شرعی طور پر اپنے شوہر کے حصے کا مطالبہ کرنے کی مجاز نہیں ہیں، البتہ وہ اخلاقی طور پر اپنے شوہر کو اس بات پر آمادہ کر سکتی ہیں کہ وہ اپنا حق لیں؛ تاکہ اللہ کے قانون پر عمل ہو اور ان کی اولاد (آپ لوگوں) کا مستقبل لڑائیوں اور جھگڑوں سے محفوظ ہو سکے۔ اگر وارث (والد) خود خاموش رہیں تو زبردستی مطالبہ نہیں کیا جا سکتا، لیکن تقسیمِ میراث کی ذمہ داری تمام ورثاء پر مشترکہ طور پر عائد ہوتی ہے کہ وہ میراث تقسیم کرکے ہر وارث کو اس کا حصہ دیں۔

حوالہ جات

(الفقه الإسلامي و أدلته للزحيلي:7/4984، ط: دار الفكر)

ليس المرء حرا بالتصرف في ماله بعد وفاته حسبما يشاء كما هو مقرر في النظام الرأسمالي، وإنما هو مقيد بنظام الإرث الذي يعتبر في الإسلام من قواعد النظام الإلهي العام التي لا يجوز للأفراد الاتفاق على خلافها، فالإرث حق جبري.

(الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية: 5/ 231)

وإذا طلب أحد الشريكين القسمة وأبى الآخر فأمر القاضي قاسمه ليقسم بينهما.

فداءا لرحمن بن ضیاءا لرحمن

دارالافتاء  جامعہ الرشید کراچی

10/صفر المظفر/8144ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

فداءالرحمن بن ضیاء الرحمن

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب