03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
احسان کے بدلے میراث سے محروم کرنے کا حکم
91445میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

میری امی نے کسی سے سنا ہے کہ میرے ابا کو وراثت میں حصہ  نہیں ملےگا ؛کیونکہ دادا نے  ان کی بیٹی کو پالا پوسا اور شادی بھی کروادی ۔

2۔ کیا صرف اس وجہ سے کہ دادا دادی نے میرے والد کی بیٹی کی پرورش کی، اس کا خرچ اٹھایا اور اس کی شادی کر دی، میرے والد اپنے شرعی وراثتی حصے سے محروم ہو جائیں گے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ دادا دادی کا اپنی پوتی کی پرورش کرنا، اس کے اخراجات اٹھانا یا اس کی شادی کرنا، شرعی طور پر "تبرع" (احسان/نیکی ) شمار ہوتا ہے۔ اس عمل کی وجہ سے آپ کے والد اپنے شرعی حصے سے محروم نہیں ہو سکتے۔ وراثت کے حصے اللہ تعالیٰ نے خود مقرر فرمائے ہیں اور والدین کی خدمت نہ کرنا یا ان سے دور رہنا (اگرچہ گناہ ہے) وارث کو محروم کرنے کی شرعی وجہ نہیں ہے۔

لہٰذا  یہ کہنا کہ "بیٹی  کو پالا پوسااورشادی بھی کروا دی ؛ اس لیے حصہ نہیں ملے گا" شرعاً بالکل غلط اور باطل ہے۔آپ کے والد کا وراثت میں حق برقرار ہے۔ جب بھی آپ کے دادا کاترکہ تقسیم کیا جائے گا تو آپ کے والد کو ان کا شرعی حصہ ملے گا۔

حوالہ جات

(بدائع الصنائع:9/161)

لَا يَجُوزُ لِأَحَدٍ أَنْ يَأْخُذَ مَالَ أَحَدٍ بِلَا سَبَبٍ شَرْعِيٍّ وإن أخذہ ولو علی ظن انہ ملکہ وجب عليه ردہ عینا إن کان قائما وإلا فیضمن قيمته إن کان قیمیا و مثله إن کان مثلیا.     

  (شرح المجلة، المادة:97/62)

"وعن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: (من ‌قطع ‌ميراث وارثه قطع الله ميراثه من الجنة يوم القيامة). رواه ابن ماجه."

) ابن عابدین، جلد 2، صفحہ 282)

إنَّ اللَّهَ تَعَالَى أَعْطَى كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ... لِأَنَّهُ يَتأَذَّى الْبَعْضُ بِإِيثَارِ الْبَعْضِ فَفِي تَجْوِيزِهِ قَطِيعَةُ الرَّحِمِ.

 فداءا لرحمن بن ضیاءا لرحمن

دارالافتاء  جامعہ الرشید کراچی

10/صفر المظفر/8144ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

فداءالرحمن بن ضیاء الرحمن

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب