03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کیاحق میراث معاف کرنے سے معاف ہوجاتا ہے؟
91446میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

یہ سچ ہے کہ  میرے ابا نے گھر سے نکلنے کے بعد اپنے والدین سے رابطہ نہیں رکھا، کوئی خبر نہیں لی اور  کئی کئی سالوں بعدکبھی ملنے چلے  جاتے تھے ،نہ والدین کی خبر گیری کرتے تھے ،نہ عید وغیرہ پر باقاعدگی سے جاتے تھے ۔ یہاں تک کہ  انہوں نے اپنی بیٹی کے بارے میں بھی یہ حق  نہیں جتایا کہ یہ ان کی  بیٹی ہے اور ان کے  ساتھ رہے گی۔ بس دادا دادی نے ایک بار کہہ دیا کہ بچی  ہمارے پاس رہے گی تو ابا نے بھی مزید اصرار  نہیں کیا۔میری امی جانے کو کہتی تھیں،لیکن   تووہ اپنی مرضی سے کبھی کبھار چلے جاتے تھے۔

3۔ میرے والد خود اپنا وراثتی حصہ مانگنے نہیں جاتے اور کہتے ہیں: "جب وہ لوگ خود ہی حصہ نہیں دے رہے تو میں کیوں مانگوں؟" کیا شرعاً ان پر اپنا حصہ طلب کرنا ضروری ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

وراثت اللہ تعالی  کی طرف سے مقرر کردہ جبری و لازمی حق ہے۔وارث،مُورِث کے فوت ہوتے ہی اس حق  کا مالک بن جاتا ہے اور اس حق کا طلب کرنا ضروری نہیں ،اور طلب نہ کرنے سے حق ساقط بھی  نہیں ہو تا، اگرچہ وارث(جیسے بیٹی یا بیٹا وغیرہ)اپنی خوشی سے معاف کر دےیا کہہ دے کہ مجھے وراثت میں سے اپنا حصہ نہیں چاہیے،اس کی یہ بات قبول نہیں کی جائے گی اور اسے اس کا حصہ لازماً دلایا جائے گا۔

   البتہ شرعی طریقہ کار کے مطابق وراثت کی تقسیم کرنے اور اپنے حصہ پر قبضہ کر لینے کے بعد  اگر کوئی وارث اپنا حصہ کسی کو ہبہ (گفٹ) کرنا چاہے، تو وہ ایسا کرسکتا ہے۔اس کے لیے ضروری ہے کہ واہب(یعنی تحفہ دینے والا) موہوب (یعنی تحفۃً دی گئی) چیز پر موہوب لہُ (یعنی جسے تحفۃً دی گئی ہے، اس)کو کامل قبضہ دلا دے ،کیونکہ کامل قبضے کے بغیر ہبہ مکمل نہیں ہوتا،لہٰذا جس جس کو جتنا مال ہبہ کرنا چاہے،اس کی تعیین و تقسیم کر کے موہوب لہ کو کامل قبضہ دلا دے،تو ہبہ درست ہو جائے گا۔ہاں جو چیز قابلِ تقسیم نہ ہو، اس کا ہبہ تقسیم کے بغیر بھی جائز ہے۔

حوالہ جات

(تبيين الحقائق، 6/210)

وَلَا يَجُوزُ تَصَرُّفُ الْوَارِثِ فِي حَقِّهِ إلَّا بَعْدَ الْقِسْمَةِ... لِأَنَّ فِي ذَلِكَ إبْطَالَ حَقِّ الْبَعْضِ.

(تکملة رد المحتار: 505/7، ط:دارالفکر، بیروت)

الإرث جبري لا يسقط بالإسقاط.

(غمز عیون البصائر فی شرح الأشباہ و النظائر:3/ 354)

"لَوْ قَال الْوَارِث: تَرکْت حَقِّی لَمْ یَبْطُلْ حَقّہُ؛ إذْ الْمِلْک لَا یَبْطل بِالتَّرْک(الأشباہ)قولہ: لو قال الوارث: ترکت حقی إلخ. اعلم أن الإعراض عن الملک أو حق الملک ضابطہ أنہ إن کان ملکا لازما لم یبطل بذلک کما لو مات عن ابنین فقال أحدھما: ترکت نصیبی من المیراث لم یبطل لأنہ لازم لا یترک بالترک بل إن کان عینا فلا بد من التملیک وإن کان دینا فلا بد من الإبراء".

 فداءا لرحمن بن ضیاءا لرحمن

دارالافتاء  جامعہ الرشید کراچی

10/صفر المظفر/8144ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

فداءالرحمن بن ضیاء الرحمن

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب