| 91492 | زکوة کابیان | زکوة کے جدید اور متفرق مسائل کا بیان |
سوال
کیا یتیم خانہ کی تعمیرات پر آنے والے اخراجات زکوٰۃ کی رقم سے ادا کرنا جائز ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
یتیم خانہ کی تعمیرات پر زکوٰۃ کی رقم خرچ کرنے کے بارے میں شرعی حکم یہ ہے کہ زکوٰۃ کی ادائیگی کے لیے مستحق شخص کو زکوٰۃ کی رقم کا مالک بنانا (تملیکِ شرعی) ضروری ہے۔ لہٰذا اگر زکوٰۃ کی رقم براہِ راست یتیم خانہ کی تعمیر، عمارت بنانے یا کسی ایسے کام میں خرچ کی جائے جس میں کسی مستحق شخص کو مالک نہ بنایا گیا ہو تو اس سے زکوٰۃ ادا نہیں ہوگی، کیونکہ اس صورت میں تملیک نہیں پائی جاتی۔
البتہ اگر یتیم خانہ کے مستحق یتیموں یا ان کے شرعی سرپرستوں کی طرف سے ادارے کے منتظمین کو زکوٰۃ وصول کرنے اور ان کی ضروریات میں خرچ کرنے کا باقاعدہ وکیل بنایا گیا ہو، تو منتظمین کا قبضہ مستحقین کا قبضہ شمار ہوگا۔ ایسی صورت میں ان کی اجازت سے زکوٰۃ کی رقم یتیموں کی ضروری تعمیرات میں بھی خرچ کی جاسکتی ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ یتیم خانہ کی تعمیر کے لیے زکوٰۃ کی رقم براہِ راست استعمال کرنا جائز نہیں، البتہ شرعی تملیک کے لیےدرج بالا وکالت کے طریقے کو اختیار کرنے کے بعد تعمیرسمیت مستحق یتیموں کی سب ضروریات کے لیے اس رقم کو خرچ کرنے کی گنجائش ہے۔
اس مقصد کے لیے وکالت نامہ میں درج ذیل عبارت لکھی جا سکتی ہے:
"میں_____یتیم/بطورِشرعی سرپرست______،یتیم خانہ _______ کے مہتمم/منتظم ______ کو اپنی طرف سے زکوٰۃ، عشر اور دیگر صدقاتِ واجبہ وصول کرنے، ان پر قبضہ کرنے اور میری/زیرِ کفالت یتیم کی طرف سے ان رقوم کو مستحق یتیموں کی سب ضروریات و مصالح میں خرچ کرنے کا وکیل مقرر کرتا/کرتی ہوں۔"
(مأخوذ از تبویب حوالہ نمبر: 80175)
حوالہ جات
«حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي» (2/ 344):
«ويشترط أن يكون الصرف (تمليكا) لا إباحة كما مر (لا) يصرف (إلى بناء)»
«بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع» (2/ 39):
«وعلى هذا يخرج صرف الزكاة إلى وجوه البر من بناء المساجد، والرباطات والسقايات، وإصلاح القناطر، وتكفين الموتى ودفنهم أنه لا يجوز؛ لأنه لم يوجد التمليك أصلا.»
«الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية» (1/ 188):
«ولا يجوز أن يبني بالزكاة المسجد، وكذا القناطر والسقايات، وإصلاح الطرقات، وكري الأنهار والحج والجهاد وكل ما لا تمليك فيه، ولا يجوز أن يكفن بها ميت، ولا يقضى بها دين الميت كذا في التبيين،»
«البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري» (2/ 261):
«(قوله وبناء مسجد وتكفين ميت وقضاء دينه وشراء قن يعتق)
والحيلة في الجواز في هذه الأربعة أن يتصدق بمقدار زكاته على فقير ثم يأمره بعد ذلك بالصرف إلى هذه الوجوه فيكون لصاحب المال ثواب الزكاة وللفقير ثواب هذه القرب كذا في المحيط»
«النهاية في شرح الهداية - السغناقي» (5/ 82 بترقيم الشاملة آليا):
«والحيلة في بناء المسجد بمال الزكاة، أو إعتاق لعبد، وغيره لمن أراد ذلك أن يتصدق مقدار زكاته على فقير، ثم يأمره بعد ذلك بالصرف إلى مدة الوجوه، فيكون لصاحب المال ثواب الصدقة، ولذلك الفقير ثواب هذه القرب.»
عزیر احمد
دار الافتاء جامعہ الرشید کراچی
11/صفر/1448ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عزیر احمد بن رضام اکبر | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


