| 91659 | میراث کے مسائل | مناسخہ کے احکام |
سوال
کیا فرماتے ہیں مفتی صاحبِ محترم اس مسئلہ کے بارے میں:
میرے نانا کے والد کا انتقال ہوا۔ ان کے ورثاء میں پانچ بیٹے اور دو بیٹیاں تھیں۔ مرحوم کی کل جائیداد 12 ایکڑ 29 گھنٹے زمین تھی۔ تقسیم کے مطابق ہر بیٹے کے حصے میں تقریباً 84.83 گھنٹے زمین آئی۔ میرے نانا کے حصے میں بھی 84.83 گھنٹے زمین آئی تھی۔
میرے نانا کا انتقال ہوچکا ہے۔ ان کے ورثاء میں تین بیٹیاں تھیں اور ایک بیٹا تھا، لیکن وہ بیٹا اپنے والد (یعنی میرے نانا) کی زندگی ہی میں کنوارے کی حالت میں وفات پا گیا تھا۔
مزید یہ کہ نانا کی وفات سے پہلے ان کے دو بھائی بھی وفات پا چکے تھے۔ نانا کی وفات کے وقت ان کے ورثاء میں دو حقیقی بھائی، دو حقیقی بہنیں، زوجہ (یعنی میری نانی) اور تین بیٹیاں موجود تھیں۔بعد ازاں نانا کے دو بھائی، ایک بہن اور زوجہ (نانی) بھی انتقال کرچکے ہیں۔
اب دریافت طلب امور درج ذیل ہیں:
1۔ مرحوم نانا کے ترکہ میں مذکورہ ورثاء میں سے کون کون وارث ہوگا، اور ہر وارث کو شرعاً کتنا حصہ ملے گا؟
2۔ اگر مرحوم نانا کے ترکہ میں سے نانی کو بھی حصہ ملتا ہے، تو چونکہ نانی بھی بعد میں انتقال کرچکی ہیں، اس لیے نانی کو ملنے والا حصہ ان کے شرعی ورثاء میں کس کس کو ملے گا اور کس تناسب سے تقسیم ہوگا؟
وضاحت یہ ہے کہ نانی کے تین بھائی اور ایک بہن تھے، لیکن وہ سب نانی کی وفات سے پہلے ہی انتقال کرچکے تھے۔ سب سے آخر میں نانی کا انتقال ہوا۔
براہِ کرم مرحوم نانا کی جائیداد کی تقسیم گھنٹوں کی صورت میں بھی بیان فرما دیں، یعنی ہر وارث کے حصے میں کتنے گھنٹے زمین آتی ہے، اور اسی طرح نانی کے انتقال کے بعد ان کے حصے کی زمین کس وارث کو کتنے گھنٹے کے حساب سے ملے گی۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ میراث کی تقسیم کسی معین جائیداد کے ساتھ خاص نہیں ہوتی، بلکہ میت نے اپنے انتقال کے وقت اپنی ملکیت میں جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد، مکان، دکان، پلاٹ، نقد رقم، سونا، چاندی، زیورات، کپڑے، برتن، اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو ساز و سامان چھوڑا ہو اور مرحوم کا وہ قرض جس کی ادائیگی کسی شخص یا ادارے کے ذمے واجب ہے، یہ سب میت کا ترکہ ہوتا ہے۔
مرحوم ناناکے ترکہ میں سے سب سے پہلے تجہیز و تکفین کا معتدل خرچہ (اگر كسی وارث نے یہ خرچہ بطورِ تبرع ادا نہ کیا ہو) نکالا جائے گا۔ پھر مرحوم کا قرضہ ادا کیا جائے گا۔ پھر اگر مرحوم نے کسی غیر وارث کے لیے کوئی جائز وصیت کی ہو تو ترکہ کے ایک تہائی (1/3) تک اس کو نافذ کیا جائے گا۔ اس کے بعد جو کچھ بچ جائے، اس کو مرحوم کے انتقال کے وقت موجود ورثاء میں تقسیم کیا جائے گا۔
1: مرحوم نانا کے شرعی ورثاء :
مرحوم ناناکے شرعی ورثاء میں ان کی زوجہ(نانی) ،تین بیٹیاں،دو بھائی اور دو بہنیں شامل ہیں۔
مرحوم کے کل ترکہ(84.83 گھنٹے زمین) میں سے درج ذیل نقشے کے مطابق موجود ورثاء کو ان کے حصے دیئے جائیں گے:
مورث: نانا مرحوم کا چارٹ – کل ترکہ: 144عددی حصے
|
نمبر شمار |
ورثاء8 |
عددی حصے144 |
فیصدی حصے 100 |
گھنٹے84.83 |
|
1 |
بیوہ (نانی) |
18 |
12.5% |
10.60375 |
|
2 |
بھائی |
10 |
6.9444% |
5.89097 |
|
3 |
بھائی |
10 |
6.9444% |
5.89097 |
|
4 |
بہن |
5 |
3.4722% |
2.94549 |
|
5 |
بہن |
5 |
3.4722% |
2.94549 |
|
6 |
بیٹی |
32 |
22.2222% |
18.85111 |
|
7 |
بیٹی |
32 |
22.2222% |
18.85111 |
|
8 |
بیٹی |
32 |
22.2222% |
18.85111 |
مرحومہ نانی کی شرعی ورثاء اور وراثت کی تقسیم:
مرحومہ کے ترکہ میں سے سب سے پہلے تجہیز و تکفین کا معتدل خرچہ نکالا جائے گا۔ پھر مرحومہ کا قرضہ اور جائز وصیت (تہائی مال تک) نافذ کی جائے گی۔ اس کے بعد جو کچھ بچ جائے، اس کو مرحومہ کے انتقال کے وقت موجود ورثاء میں تقسیم کیا جائے گا۔ مرحومہ کی میراث ان کی وفات کے وقت موجود ورثاء (تین بیٹیوں) میں تقسیم ہوگی۔ اس طرح ہر بیٹی کا حصہ( 10.60 کو 3 پر تقسیم کرنے سے تقریباً )3.53 گھنٹےبنتا ہے۔
مرحومہ کی وراثت کا چارٹ (کل حصے:9)
|
نمبر شمار |
ورثاء3 |
عددی حصے9 |
فیصدی حصے 100 |
گھنٹے10.60375 |
|
1 |
بیٹی |
3 |
33.3333% |
63.534 |
|
2 |
بیٹی |
3 |
33.3333% |
3.5346 |
|
3 |
بیٹی |
3 |
33.3333% |
63.534 |
حوالہ جات
«حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي» (6/ 769):
«(فيفرض للزوجة فصاعدا الثمن مع ولد أو ولد ابن) وأما مع ولد البنت فيفرض لها الربع (وإن سفل والربع لها عند عدمهما) فللزوجات حالتان الربع بلا ولد والثمن مع الولد
(والربع للزوج) فأكثر كما لو ادعى رجلان فأكثر نكاح ميتة وبرهنا ولم تكن في بيت واحد منهما ولا دخل بها فإنهم يقسمون ميراث زوج واحد لعدم الأولوية (مع أحدهما) أي الولد أو ولد الابن (والنصف له عند عدمهما) فللزوج حالتان النصف والربع
(وللأب والجد) ثلاث أحوال الفرض المطلق وهو (السدس) وذلك (مع ولد أو ولد ابن) والتعصيب المطلق عند عدمهما والفرض والتعصيب مع البنت أو بنت الابن. قلت: وفي الأشباه الجد، كالأب إلا في ثلاثة عشر مسألة خمس في الفرائض»»
«حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي» (6/ 772):
«(وللأم) ثلاثة أحوال (السدس مع أحدهما أو مع اثنين من الأخوة أو) من (الأخوات) فصاعدا من أي جهة كانا ولو مختلطين والثلث عند عدمهما وثلث الباقي مع الأب وأحد الزوجين
(و) السدس (للجدة مطلقا) كأم أم وأم أب (فصاعدا) يشتركن فيه (إذ كن ثابتات) أي صحيحات كالمذكورتين فإن الفاسدة من ذوي الأرحام كما سيجيء (متحاذيات في الدرجة لأن القربى تحجب البعدى) مطلقا كما سيجيء
(و) السدس (لبنت الابن) فأكثر (مع البنت) الواحدة تكملة للثلثين
(و) السدس (للأخت) لأب فأكثر (مع الأخت) الواحدة (لأبوين) تكملة للثلثين
(و) السدس (للواحد من ولد الأم والثلث لاثنين فصاعدا من ولد الأم) ذكورهم كإناثهم
(و) الثلث (للأم عند عدم من لها معه السدس) كما مر (ولها ثلث الباقي بعد فرض»
««حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي» (6/ 788):
«ثم مسائل الرد أربعة أقسام، لأن المردود عليه إما صنف أو أكثر وعلى كل إما أن يكون من لا يرد عليه أو لا يكون.
(ف) الأول (إن اتحد جنس المردود عليهم) كبنتين أو أختين أو جدتين (قسمت المسألة من عدد رءوسهم) ابتداء قطعا للتطويل (و) الثاني (إن كان) المردود عليه (جنسين) أو ثلاثة لا أكثربالاستقراء (فمن عدد سهامهم) فمن اثنين لو سدسان وثلاثة لو ثلث وسدس وأربعة لو نصف وسدس وخمسة كثلثين وسدس تقصيرا للمسافة (و) الثالث (إن كان مع الأول) أي الجنس الواحد»»
اسداللہ بن قوت خا
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچ
14/صفر /8144 ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | اسداللہ بن قوت خان | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


