| 91655 | زکوة کابیان | مستحقین زکوة کا بیان |
سوال
جیسا کہ زکوٰۃ کا حکم ہے کہ پہلے رشتہ داروں میں زکوٰۃ کا مستحق دیکھا جائے، پھر محلے وغیرہ میں۔
اب اگر رشتہ داروں میں بھی مستحق خاندان ہو، اور کچھ لوگ محلے اور آفس میں بھی مستحق ہوں۔لیکن ان کے علاوہ ایک بہت قریبی دوست بھی زکوٰۃ لینے کا اہل ہو۔
تو رشتہ داروں کو دینے کے ساتھ محلے یا آفس کے مستحقین کو دی جائے، یا اُس دوست کو؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
زکوٰۃ اور صدقۂ فطر کی ادائیگی میں سب سے زیادہ فضیلت اپنے مستحق رشتہ داروں کو دینے میں ہے۔ اس میں صدقہ اور صلۂ رحمی، دونوں کا ثواب ملتا ہے۔ سب سے پہلے ایسے رشتہ دار جن سے خون کا رشتہ ہو، پھر ایسے رشتہ دار جن سے خون کا رشتہ نہ ہو، پھر پڑوسیوں کو، پھر اپنے پیشے سے تعلق رکھنے والوں کو، پھر اپنے ہم شہر یا اہلِ محلہ کو۔ البتہ اگر رشتہ داروں کے ساتھ محلے یا آفس کے مستحقین یا دوستوں میں سے کسی کو بھی دینا چاہیں، تو دے سکتے ہیں۔ اس میں ضرورت کو بھی مدنظر رکھا جائے گا، یعنی جس کی ضرورت زیادہ ہو، اسے دینا بہتر ہوگا۔
حوالہ جات
القرأن الكريم ( سورة التوبة، الأية:60):
قال الله عز وجل: إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللهِ وَابْنِ السَّبِيلِ فَرِيضَةً مِنَ الله.
سنن ابن ماجة (3/ 51):
عن سلمان بن عامر الضبي قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : الصدقة على المسكين صدقة وعلى ذي القرابة اثنتان صدقة وصلة.
الفتاوى الهندية (١/209):
والأفضل في الزكاة والفطر والنذور الصرف أولا إلى الإخوة والأخوات ثم إلى أولادهم ثم إلى الأعمام والعمات ثم إلى أولادهم ثم إلى الأخوال والخالات ثم إلى أولادهم ثم إلى ذوي الأرحام ثم إلى الجيران ثم إلى أهل حرفته ثم إلى أهل مصره أو قريته كذا في السراج الوهاج.
رد المحتارعلى الدر المختار (2/ 621):
قال الرحمتي: والحق التفصيل فما كانت الحاجة فيه أكثر والمنفعة فيه أشمل فهو الأفضل.
رد المحتارعلى الدر المختار (2/ 353):
ويعتبر في الزكاة مكان المال في الروايات كلها ........ وهذا نقله في مجمع الفوائد معزيا للأوسط عن أبي هريرة مرفوعا إلى النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال : يا أمة محمد والذي بعثني بالحق لا يقبل الله صدقة من رجل وله قرابة محتاجون إلى صلته ويصرفها إلى غيرهم والذي نفسي بيده لا ينظر إليه الله يوم القيامة . اهـ. رحمتي والمراد بعدم القبول عدم الإثابة عليها وإن سقط بها الفرض؛ لأن المقصود منها سد خلة المحتاج وفي القريب جمع بين الصلة والصدقة. وفي القهستاني: والأفضل إخوته وأخواته ثم أولادهم ثم أعمامه وعماته ثم أخواله وخالاته ثم ذوو أرحامه ثم جيرانه ثم أهل سكته ثم أهل بلده كما في النظم. اهـ.
محمد ابرار الحق
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
14/صفر/1448ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد ابرار الحق بن برھان الدین | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


