03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ہبہ سے رجوع اور میراث کا حکم
91635ہبہ اور صدقہ کے مسائلہبہ واپس کرنے کابیان

سوال

والدہ نےاپنی وفات سے تقریباً تین یا چار سال پہلے اپنی زندگی میں اس گھر کو فروخت کرکے اس کی قیمت تمام افراد، یعنی اپنی 6 بیٹیوں، 3 بیٹوں اور خود اپنے درمیان برابر برابر تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا۔ چنانچہ بڑے بھائی نے یہ گھر 80 لاکھ روپے میں خرید لیا، جس کے مطابق ہر فرد کا حصہ 8 لاکھ روپے بنتا تھا۔ تاہم بڑے بھائی نے دو بڑی بہنوں اور ایک بھائی کو پہلے سے دی گئی کچھ رقم ان کے 8 لاکھ روپے کے حصے سے منہا کر لی۔

بعد میں والدہ نے اپنے انتقال سے کچھ عرصہ پہلے اس تقسیم سے رجوع کر لیا، کیونکہ بڑے بھائی نے تمام بہن بھائیوں کو ان کے حصے کی مکمل رقم ادا نہیں کی تھی، لیکن باقی بہن بھائیوں کا کہنا تھا کہ چونکہ والدہ اپنی مرضی سے یہ تقسیم کر چکی ہیں۔ اب اس سے رجوع نہیں ہوسکتا۔یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ والدہ کی اس تقسیم کے بعد بڑی دو بہنوں کا انتقال ہو گیاتھا۔

نوٹ:سائل سے تنقیح پر  درج ذیل وضاحت موصول ہوئی:

"بڑے بھائی جنھوں نے گھر خریدا انہوں نے پیسے کس کس کو دیئے ۔ اس جواب سے پہلے یہ بات واضح ہو کہ والد صاحب کے انتقال کے وقت دو بہنوں کی شادی ہوگئی تھی اور وہ کچھ مسائل کی وجہ سے اپنے شوہر کے ساتھ نہیں رہتی تھیں ، کچھ عرصہ تو آنا جانا رہا،نکاح  بھی باقی تھا، مگر گھریلو مسائل تھے اس لئے قطع تعلق ہوگیا تھا ، اور ان بہنوں کی اور ان کے بچوں کی ذمہ داری والدہ نے لے رکھی تھی۔

 یہ ذمہ داری والدہ برداشت کرتی رہیں ، مگر جب  گذارا مشکل ہوگیا تو  2005 یا کچھ پہلے  ان بہنوں نے مکان کی تقسیم کا مطالبہ کیا مگر بات ختم ہو جاتی ، پھر  ایک دو سال بعد والدہ نے بڑے بھائی سے گھر بیچنے کا کہا تو انہوں نے کہا کہ وہ خود یہ گھر خرید لیں گے اور سب بہن بھائیوں کو رقم بھی دے دیں گے ، اس وقت والدہ نے خود 80 لاکھ روپے قیمت مقرر کی کہ 9 اولاد  6 بیٹیاں اور 3 بیٹے اور ایک والدہ خود کل 10 حصے بنے ،ان میں سے ہر ایک کو 8 ، 8 لاکھ روپے دے دیں ، بڑے صاحبزادے نے ایک ایگریمنٹ بنوایا اور تمام بہن بھائیوں کے نام لکھے ،جن کو پیسے دیں گے وہ اس پر دستخط کریں گے ۔

اس وقت تک  3 بہنوں کے  اوران کے گھرکے خرچوں کے انفرادی اور اجتماعی مالی مسائل تھے جس کا ذکر وہ اپنے انہی بھائی سے کرتیں، تو کبھی وہ کچھ رقم دے دیتے تھے اور کبھی نہیں۔  یہ رقم کس بہن بھائی کو کب دی ؟کس ضمن میں دی؟کتنی دی؟ اس کا ان کے بڑے بھائی اور بہنوں کے سوا کسی کو علم نہیں ، اور نا ہی دیتے وقت کسی کے ذہن میں یہ بات تھی کہ گھر بکے گا اور یہ پیسے وراثت سے کٹیں گے۔

لیکن جب یہ ایگریمنٹ ہوا تو  بڑے بھائی نے جو رقم (گھریلو اخراجات کے ضمن میں )دی تھی اس سے کچھ  باقی ماندہ رقم کا ایک چیک بناکر دو نوں بہنوں کو دے دیا کہ یہ رقم  کچھ وقت کے بعد بینک سے لے لیں اور فی الحال دستخط کردیں۔ بہنوں نے بھروسہ کیا اور دستخط کردئیے، مگر وہ رقم نہیں ملی،وہ مانگتی رہی، مگر ہفتے اور مہینوں کا وقت ملتا رہا بالآخر  دونوں بڑی  بہنیں انتقال کر گئیں ۔

ایک بھائی کو اپنی شادی کے موقع پر ضرورت پڑی اور انہوں نے کچھ رقم  بطور قرض لی تو وہ بھی وراثت میں کاٹ کر باقی 3 لاکھ انہیں دے دیئے۔ دو بہنوں اور ایک بھائی سے مہلت مانگ لی کہ مجھے کچھ وقت دو۔ میں   جمع کر کے دوں گا؛ کیونکہ آپ کو ابھی ضرورت نہیں ہے ،اور باقی دو بہنوں کو پورے 8 لاکھ ادا کر دیئے گئے۔

اس صورتحال کو دیکھ کر والدہ نے کہا کہ میں تمام ایگریمنٹ واپس کرتی ہوں اور یہ جن کو جو پیسے دیئے ہیں وہ واپس کردیں گے ۔لیکن دوسرے بہن بھائیوں  نے اس بات کو منع کردیا کہ آپ کا گھر ہے آپ جس کو چاہیں جیسے دے دیں اب معاملہ ہوگیا۔ یہی درست ہے۔"

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

والدہ نے اپنی زندگی میں گھر کو 80 لاکھ روپے میں فروخت کرکے اس کی قیمت اپنے اور اپنی 9 اولاد (6 بیٹیاں اور 3 بیٹے) کے درمیان برابر برابر تقسیم کرنے کا جو فیصلہ کیا تھا، وہ شرعاً ہبہ (تحفہ) تھا، وراثت نہیں۔ تاہم ہبہ کے مکمل ہونے کے لیے موہوب لہ کا اس پر قبضہ کرنا شرط ہے۔

صورتِ مسئولہ میں والدہ نے تمام اولاد کے لیے برابر برابر 8،8 لاکھ روپے مقرر کیے تھے، لیکن بڑے بھائی نے والدہ کی مقرر کردہ تقسیم کے مطابق تمام بہن بھائیوں کو ان کا حصہ ادا نہیں کیا، بلکہ بعض بہنوں کے سابقہ اخراجات ان کے حصے سے منہا کیے، بعض بہن بھائیوں کو مکمل رقم دی، بعض کو جزوی رقم دی اور بعض کو کچھ بھی ادا نہیں کیا۔ اس طرح والدہ کی مقرر کردہ تقسیم میں تبدیلی کی گئی، لہٰذا یہ تقسیم فاسد قرار پائی۔

مزید یہ کہ  والدہ نے اپنی زندگی ہی میں اس تقسیم سے رجوع بھی کر لیا تھا، اس لیے یہ ہبہ شرعاً ختم ہوگیا۔ ہبہ فاسد میں واہب کو رجوع کا حق حاصل ہوتا ہے، اگرچہ موہوب لہ(جن کو تحفہ دیا گیا ہو)  اولاد ہی کیوں نہ ہو۔

لہٰذا جن بہن بھائیوں نے رقم وصول کر لی تھی، وہ بھی اس رقم کے مستقل مالک نہیں بنے، کیونکہ ہبہ فاسدہ سے والدہ رجوع کر چکی تھیں۔اگر وہ رقم ان کے پاس موجود ہو تو وہ والدہ کی ملکیت شمار ہوگی، اور اگر خرچ ہو چکی ہو تو وہ رقم ان کے ذمہ بطور قرض لازم ہوگی۔

لہذا والدہ کی وفات کے بعد یہ رقم والدہ کے ترکہ میں شمار ہوگی اور متعلقہ شرعی  ورثاء کے درمیان ان کےحصوں کے بقدر تقسیم کی جائے گی۔اگر کسی وارث نے اپنے شرعی حصے سے زائد رقم وصول کی ہو تو زائد رقم واپس کرنا لازم ہوگی۔

اسی طرح جن بہن بھائیوں کو کوئی رقم نہیں ملی تھی، ان کے حق میں تو قبضہ ہی نہیں ہوا تھا، اس لیے ان کے بارے میں بھی ہبہ مکمل نہیں ہوا۔ لہٰذا والدہ کی زندگی میں اس نامکمل اور فاسد ہبہ سے رجوع کرنے کے بعد یہ تقسیم کالعدم ہوگئی، اور والدہ کی وفات کے بعد یہ گھر اور اس سے متعلق تمام حقوق ان کا ترکہ شمار ہوں گے، جنہیں شرعی حصص کے مطابق تقسیم کرنا لازم ہے۔

دو بیٹیاں والدہ کی زندگی ہی میں وفات پا چکی تھیں، اس لیے وہ والدہ کی میراث کی وارث نہیں ہوں گی۔ اگر والدہ کے والدین بھی زندہ نہیں تھے اور کل ورثاء صرف 3 بیٹے اور 4 بیٹیاں ہیں، تو کل ترکہ کے 10 حصے کیے جائیں گے۔ ہر بیٹے کو 2 حصے، یعنی کل ترکہ کا 20 فیصد، اور ہر بیٹی کو 1 حصہ، یعنی کل ترکہ کا 10 فیصد ملے گا۔ جن ورثاء نے پہلے کوئی رقم وصول کی تھی، وہ ان کے شرعی حصے میں ایڈجسٹ کی جائے گی، اور اگر کسی نے اپنے شرعی حصے سے زائد رقم وصول کی ہو تو زائد رقم واپس کرنا لازم ہوگا۔

حوالہ جات

(فتاویٰ الھندیۃ: 4/385)

"ليس له حق الرجوع بعد التسليم في ذي الرحم المحرم، وفيما سوى ذلك له حق الرجوع إلا أن بعد التسليم لاينفرد الواهب بالرجوع، بل يحتاج فيه إلى القضاء أو الرضا أو قبل التسليم".

(الاختيار لتعليل المختار 5/65، العقود الدرية 2/282)

وَلِلْمُوصِي أَنْ يَرْجِعَ عَنِ الْوَصِيَّةِ بِالْقَوْلِ وَالْفِعْلِ، وَهَبَ الْمَرِيضُ شَيْئًا لِوَارِثِهِ لَا يَجُوزُ لِأَنَّهَا وَصِيَّةٌ، وَلَوْ لَمْ يَمُتْ مِنْهُ جَازَ لَهُ الرُّجُوعُ.

( حاشيۃ ابن عابدين: 6/667)

وَمَنْ أَوْصَى لِوَرَثَةِ فُلَانٍ فَالْوَصِيَّةُ بَيْنَهُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ؛ لِأَنَّهُ لَمَّا نَصَّ عَلَى لَفْظِ الْوَرَثَةِ آذَنَ ذَلِكَ بِأَنَّ قَصْدَهُ التَّفْضِيلُ كَمَا فِي الْمِيرَاثِ.

 فداءا لرحمن بن ضیاءا لرحمن

دارالافتاء  جامعہ الرشید کراچی

14/صفر المظفر/8144ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

فداءالرحمن بن ضیاء الرحمن

مفتیان

مفتی محمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب