03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مرحوم کا اپنی زندگی میں ترکہ کی تقسیم کا حکم
91636میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

کیا والدہ کی زندگی میں کی گئی یہ تقسیم شرعاً درست تھی؟ گھر کے تمام افراد کا اس تقسیم کو قبول کرنا جائز تھا؟ایک بھائی کا کہنا ہے کہ یہ تقسیم درست نہیں، کیونکہ یہ  والد صاحب کی وراثت ہے، توتقسیم شرعی وراثت کے مطابق ہونی چاہیے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

والدہ نے اپنی زندگی میں جو گھر کی برابر تقسیم کی تھی وہ شرعا ہبہ (تحفہ )تھی ، وراثت نہیں۔یہ تقسیم شرعادرست تھی ؛ اس   لیے  گھر کےتمام  افراد کااس تقسیم کو  قبول کرنا بھی جائز تھا۔

بھائی کا یہ کہنا کہ اب تقسیم شرعی وراثت کے مطابق ہونی چاہیے، درست ہے اورقابل تعریف ہے،البتہ اگر وہ یہ کہتا ہے کہ یہ جائیداد والد صاحب کا ترکہ ہے تو یہ بات درست نہیں، کیونکہ یہ گھر والدہ کی ملکیت تھا۔ انہوں نے اسے اپنے ذاتی مال سے خریدا تھا، بعد کی تعمیرات بھی شرعی اصول کے مطابق اسی ملکیت کے تابع رہیں گی۔

لہٰذا والدہ کی وفات کے بعد یہ جائیداد والدہ کا ترکہ ہے، نہ کہ والد صاحب کا، اور اس کی تقسیم والدہ کے ورثاء کے درمیان شریعت کے مقررکردہ حصوں کے مطابق ہوگی۔

حوالہ جات

(شرح المجلة للعلامة خالد الأتاسی :4/14)

شرح المادة1073: ….. من دفع شيئا ليس بواجب عليه فله استرداده، إلا إذا دفعه على وجه الهبة واستهلكه القابض كما في شرح النظم الوهباني وغيره من المعتبرات .

(حاشیۃ ابن عابدین: 6/658)

(وله) أي للموصى (الرجوع عنها بقول صريح)

(قوله: و له الرجوع عنها)؛ لأن تمامها بموت الموصي، و لأن القبول يتوقف على الموت و الإيجاب المفرد يجوز إبطاله في المعاوضات كالبيع، ففي التبرع أولى عناية.

(مجمع الأنهر: 2/695)

والبناء تبع، والتصرف في التبع لا يدل على إسقاط الحق عن الأصل.

 فداءا لرحمن بن ضیاءا لرحمن

دارالافتاء  جامعہ الرشید کراچی

14/صفر المظفر/8144ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

فداءالرحمن بن ضیاء الرحمن

مفتیان

مفتی محمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب