| 91662 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
مجھے ایک کاروباری سرمایہ کاری کے بارے میں شرعی رہنمائی چاہیے۔
میرے بھائی گارمنٹس اور ہاؤس ہولڈ آئٹمز کا امپورٹ/ایکسپورٹ کا کاروبار کرتے ہیں۔ وہ پاکستان اور بیرونِ ملک سے سامان خرید کر فروخت کرتے ہیں۔ میں ان کے کاروبار میں کبھی 1 لاکھ، کبھی 2 لاکھ یا 3 لاکھ روپے تک سرمایہ کاری کرتی ہوں۔
سرمایہ کاری سے پہلے وہ بتاتے ہیں کہ، مثلاً، 1 لاکھ روپے پر 10 ہزار روپے منافع ملے گا۔ بعض اوقات خصوصی آفرز آتی ہیں، جن کی مدت 20، 40 یا 50 دن ہوتی ہے، اور ہر آفر کا منافع مختلف ہوتا ہے۔ کچھ سرمایہ کاریاں ماہانہ بنیاد پر ہوتی ہیں، جبکہ کچھ میں صرف مقررہ مدت پوری ہونے پر منافع دیا جاتا ہے۔ کبھی ادائیگی میں تاخیر بھی ہو جاتی ہے؛ کیونکہ سامان فروخت ہونے یا رقم وصول ہونے میں وقت لگ جاتا ہے۔
میرے چند سوالات درج ذیل ہیں:
۱۔کیا اس طرح کی سرمایہ کاری شرعاً جائز ہے، یا اس میں سود (ربا) کا شبہ ہے؟
۲۔ اگر منافع سرمایہ لگانے سے پہلے ہی مقرر کر دیا جائے، مثلاً 1 لاکھ روپے پر 10 ہزار روپے، تو کیا یہ درست ہے؟
۳۔ اگر کاروبار حقیقی امپورٹ/ایکسپورٹ کا ہو، لیکن منافع پہلے سے طے ہو، تو اس کا کیا حکم ہے؟
۴۔اگر اس معاہدے میں کسی شرعی اصلاح کی ضرورت ہو تو براہِ کرم صحیح طریقہ بھی بیان فرما دیں، تاکہ میری سرمایہ کاری مکمل طور پر حلال اور شریعت کے مطابق ہو۔
تنقیح:
سائلہ سے مزید وضاحت طلب کرنے پر معلوم ہوا کہ ان کے بھائی بھی اس کاروبار میں اپنا ذاتی سرمایہ لگاتے ہیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورتِ مسئولہ میں اگر آپ(تنزیلہ طارق) اپنے بھائی کے امپورٹ/ایکسپورٹ کے کاروبار میں اس شرط کے ساتھ سرمایہ کاری کرتی ہیں کہ سرمایہ لگاتے وقت ہی ایک متعین رقم بطور منافع، مثلاً ایک لاکھ روپے پر دس ہزار روپے، طے کر لی جاتی ہے تو شرعاً یہ طریقۂ سرمایہ کاری جائز نہیں، کیونکہ مضاربت یا شرکت میں منافع کو متعین رقم کی صورت میں مقرر کرنا جائز نہیں، بلکہ اس سے معاہدہ فاسد ہو جاتا ہے۔
اس تمہید کی روشنی میں آپ کے سوالات کے جوابات درج ذیل ہیں:
(۱)اس طرح کی سرمایہ کاری، جس میں سرمایہ لگاتے وقت ہی منافع کی ایک متعین رقم طے کر دی جائے، شرعاً ناجائز ہے۔
(۲)منافع کو پہلے سے اس طرح متعین کرنا کہ، مثلاً ایک لاکھ پر دس ہزار روپے ملیں گے، شرعا جائز نہیں ہے کیونکہ اس طرح سرمایہ کے تناسب سے نفع طے کرنا نفع میں فکس رقم طے کرنے کے مترادف ہے جو شرعاجائز نہیں ۔کیونکہ شرعاً منافع صرف حاصل ہونے والے نفع کے تناسب سے طے کیا جا سکتا ہے، جیسے نصف، ایک تہائی یا باہمی رضامندی سے مقرر کردہ کوئی فیصد۔
(۳)اگرچہ آپ کے بھائی کا کاروبار حقیقی امپورٹ/ایکسپورٹ کا ہے، تاہم صرف کاروبار کا حقیقی ہونا اس معاہدے کو جائز نہیں بناتا۔ جب منافع پہلے ہی متعین رقم کی صورت میں طے کر دیا جائے تو معاہدہ شرعی اصولوں کے خلاف ہوگا، اس لیے اس کا حکم بھی حرام رہے گا۔
(۴) اس معاملے کے شرعی اعتبار سے دو متبادل ہو سکتے ہیں:
اول: اگر سرمایہ کاری مضاربت کے اصولوں کے مطابق کی جائے تو منافع کو متعین رقم کے بجائے حقیقی منافع کے تناسب سے طے کیا جائے، مثلاً 40 فیصد آپ کا اور 60 فیصد آپ کے بھائی کا، یا باہمی رضامندی سے طے شدہ کوئی اور تناسب۔ اس صورت میں منافع دونوں کو اسی مقررہ تناسب کے مطابق ملے گا، جبکہ نقصان کی صورت میں مالی نقصان سرمایہ دار برداشت کرے گا اور کام کرنے والے کی محنت ضائع ہوگی، بشرطیکہ اس کی طرف سے کوئی کوتاہی یا خیانت ثابت نہ ہو۔
دوم:اگر آپ کے بھائی بھی اپنا سرمایہ کاروبار میں شامل رکھنا چاہتے ہوں تو معاہدہ شرکۃ العنان کی بنیاد پر کیا جائے۔ اس صورت میں منافع متعین رقم کے بجائے فیصد کی بنیاد پر مقرر کیا جائے۔ چونکہ آپ کے بھائی سرمایہ بھی لگا رہے ہیں اور کاروبار بھی چلا رہے ہیں، اس لیے ان کے لیے اپنے سرمائے کے تناسب سے زیادہ منافع مقرر کرنا جائز ہے۔ البتہ آپ چونکہ صرف سرمایہ فراہم کر رہی ہیں، اس لیے آپ کے لیے اپنے سرمائے کے تناسب سے زیادہ منافع مقرر کرنا جائز نہیں، بلکہ آپ کا منافع آپ کے سرمائے کے تناسب کے برابر یا اس سے کم مقرر کیا جا سکتا ہے۔ نیز، اگر کاروبار میں کسی کی تعدی، کوتاہی یا خیانت کے بغیر نقصان ہو جائے تو وہ دونوں کے درمیان ان کے لگائے ہوئے سرمائے کے تناسب سے تقسیم ہوگا۔
(۵) اب تک حاصل ہونے والے منافع کی شرعی تقسیم کا طریقہ:
چونکہ مذکورہ معاملہ شرعی اعتبار سے فاسد شرکت ہے، اور کاروبار کرنے والے (بھائی) نے بھی اپنا سرمایہ اس کاروبار
میں شامل کر رکھا ہے، اس لیے وہ اپنے عمل کے بدلے الگ سے اجرتِ مثل کا مستحق نہیں ہوگا؛ کیونکہ وہ مشترک مال
میں کام کر رہا ہے، اور مشترک مال میں شریک اپنے عمل کی اجرت کا حق دار نہیں ہوتا۔
لہٰذا اب تک حاصل ہونے والے کل خالص منافع کو دونوں فریقوں کے درمیان ان کے لگائے گئے سرمائے کے تناسب سے تقسیم کیا جائے گا۔ معاہدے میں متعین رقم یا کسی ایک شریک کے لیے اضافی منافع کی جو شرط رکھی گئی تھی، وہ شرعاً معتبر نہیں، اس لیے اس کا اعتبار نہیں کیا جائے گا، بلکہ منافع کی تقسیم صرف سرمایہ کے تناسب سے ہوگی۔
حوالہ جات
«المبسوط» للسرخسي (22/ 32):
«إذا دفع ألف درهم مضاربة على أن يخلطها المضارب بألف من قبله ثم يعمل بهما جميعا على أن ما رزق الله تعالى في ذلك من شيء فللمضارب ثلثاه وللدافع ثلثه فهو جائز على ما اشتراطا لأن العامل شرط لنفسه ربح مال نفسه وثلث ربح مال صاحبه فكأنه أخذ منه الألف مضاربة بثلث الربح وذلك جائز»
«الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية» (2/ 302):
«وأن يكون الربح جزءا شائعا في الجملة لا معينا فإن عينا عشرة أو مائة أو نحو ذلك كانت الشركة فاسدة، كذا في البدائع.»
«الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية» (4/ 288):
«المضارب إذا عمل في المضاربة الفاسدة وربح يكون جميع الربح لرب المال وللمضارب أجر مثله»
«المبسوط» للسرخسي (22/ 150):
«فإن المضاربة جائزة غير لازمة، فلكل واحد منهما أن يفسخها، واشتراط الأجر المسمى يجعل العقد لازما، وكل شرط يضاد موجب المضاربة فهو مفسد للمضاربة»
«الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية» (4/ 336):
«قال الفقيه أبو الليث - رحمه الله تعالى -: إنما يكون للمضارب أجر مثله إذا لم يكن خلط الدقيق بمال المضاربة، أما إذا خلط فلا أجر له؛ لأنه عمل في شيء هو شريك فيه، كذا في فتاوى قاضي خان.»
«العناية شرح الهداية - بهامش فتح القدير ط الحلبي» (6/ 177):
«وأما إذا شرطا العمل على أحدهما، فإن شرطا الربح بينهما على قدر رأس مالهما جاز ويكون مال الذي لا عمل عليه بضاعة عند العامل له ربحه وعليه وضيعته، وإن شرطا الربح للعامل أكثر من رأس ماله جاز أيضا على الشرط ويكون مال الدافع عند العامل مضاربة؛ ولو شرطا الربح للدافع أكثر من رأس ماله لا يصح الشرط ويكون مال الدافع عند العامل بضاعة لكل واحد منهما ربح ماله والوضيعة بينهما على قدر رأس مالهما أبدا »
«درر الحكام في شرح مجلة الأحكام» (3/ 389):
«أما إذا شرط عمل أحدهما فيكون استحقاقه للربح للمال وللعمل معا واستحقاق الآخر للربح للمال فقط»
عزیر احمد
دار الافتاء جامعہ الرشید کراچی
14/صفر/1448ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عزیر احمد بن رضام اکبر | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


